Updated: January 29, 2026, 7:05 PM IST
| Dehradun
اتراکھنڈ کے وِکاس نگر علاقے میں ۱۸؍ سالہ کشمیری شال فروش کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے اس کی بازو میں فریکچر اور سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ واقعے کے خلاف معاشرتی اور سیاسی حلقوں میں سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ پولیس نے کلیدی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے پر سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
اتراکھنڈ کے وِکاس نگر میں ۲۷؍ جنوری کو ایک ۱۸؍ سالہ کشمیری نوجوان، جو موسمِ سرما میں اپنے خاندان کا سہارا بن کر شال فروخت کر رہا تھا، پر ہجوم نے وحشیانہ حملہ کر دیا۔ خاندان کے مطابق ہجوم نے پہلے اس سے اس کی شناخت پوچھی اور جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ مسلمان اور کشمیری ہے تو تشدد میں شدت آگئی۔ نوجوان پرآہنی سلاخوں سے حملہ کیا گیا اور اسے گھیر کر بار بار مارا گیا، جس سے اس کے بائیں بازو میں فریکچر ہوا اور سر پر گہری چوٹیں آئیں۔ خون اس کے سر سے بہہ رہا تھا جس پر اسے فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں حالت کی سنجیدگی کے پیشِ نظر ڈون اسپتال (دہرہ دون) بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صدر کی نفرت انگیز تقریر حملے کا سبب بنی: الہان عمر
اس واقعے میں متاثرہ نوجوان کے ساتھ اہلِ خانہ کے دیگر افراد کو بھی گھسیٹا گیا، تھپڑ مارے گئے اور آہنی سلاخوں سے زخمی کیا گیا۔ حکام کے مطابق پولیس نے آتے ہی کلیدی ملزم کو گرفتار کیاہے جبکہ مزید تحقیقات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے قانونی دفعات کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔جموں کشمیر اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ بڑھتی ہوئی سماجی عدم برداشت اور فرقہ وارانہ تشدد کی سنگین مثال ہے۔ اسوسی ایشن کے مطابق نوجوان اپنے خاندان کی کفالت کے لئے شالیں بیچنے آیا تھا، لیکن اسے انسانیت کے بجائے نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ سے فوری مداخلت، ایف آئی آر کی سخت فائلنگ اور تمام ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا دریں اثناء، سماجی اور سیاسی حلقوں نے اس واقعے کو ملک بھر میں بڑھتے ہوئے تشدد اور اقلیتی شہریوں کی حفاظت کے مسئلے کے تناظر میں دیکھا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے اس واقعہ پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ نوجوان کو اتنی سختی سے مارا گیا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو قانونی آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اتراکھنڈ سے ملزمین کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: زیلنسکی، پوتن سے مذاکرات کیلئے تیار، یوکرین کا ۲۰؍ نکاتی امن منصوبہ زیر غور
پولیس اور ریاستی حکومت نے عوامی غم و غصے کے پیشِ نظر واقعے کو سنجیدگی لیا ہے۔ مرکزی وزارتِ داخلہ نے ایسے واقعات کے خلاف ’’زیرو ٹالرینس‘‘ پالیسی کا عندیہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کشمیری تاجروں، شال فروشوں اور دیگر موسمی کاروباریوں کو ملک کے کسی بھی حصے میں کام کرنے اور روزگار کا آئینی حق حاصل ہے۔ وزارت نے ہدایت جاری کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملے میں جلد از جلد شفاف اور سخت کارروائی یقینی بنائیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی اتراکھنڈ کے مختلف علاقوں میں کشمیری شال فروشوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں، جن میں مقامی راہگیروں یا کارکنوں کے ساتھ جھڑپیں شامل ہیں۔ ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے اور تعصب کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں، تاکہ شہریوں کو تحفظ اور برابر کے حقوق مل سکیں۔