الیکشن کمیشن تک مارچ روکا گیاتو راہل اور پرینکا ۹؍ گھنٹے تک آکاش وانی بھون میں دھرنے پر بیٹھے رہے، پولیس ہٹا نہیں سکی، رات ۸؍ بجے زبردست مزاحمت کے بعد حراست میں لے کر دھرنا ختم کروایا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 10:26 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
الیکشن کمیشن تک مارچ روکا گیاتو راہل اور پرینکا ۹؍ گھنٹے تک آکاش وانی بھون میں دھرنے پر بیٹھے رہے، پولیس ہٹا نہیں سکی، رات ۸؍ بجے زبردست مزاحمت کے بعد حراست میں لے کر دھرنا ختم کروایا۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور ایس آئی آر کی منسوخی کیلئے ’انڈیا اتحاد‘ اور اپوزیشن کی دیگر کئی پارٹیوں کے ۳۰۰؍ اراکین پارلیمان کے الیکشن کمیشن تک مارچ کو دہلی پولیس نے منگل کی صبح کچھ ہی فاصلے پر آکاش وانی بھون کے سامنے بریکیڈ لگا کر روک دیا اور متعدد ایم پیز کو تحویل میں لے لیا۔ مگر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی پولیس کو چکمہ دیکر عقبی دروازے سے آکاوش وانی بھون کے احاطہ میں داخل ہوگئے اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پون کھیڑا، کے سی وینو گوپال اور عمران پرتاپ گڑھی سمیت پارٹی کے سینئر لیڈر اور سیکڑوں کارکن بھی وہیں پہنچ گئے جس کے بعد آکاش وانی بھون ’جنتر منتر‘ کا منظر پیش کرنے لگا۔ کم وبیش ۹؍ گھنٹے تک راہل اور پرینکا گاندھی ٹس سے مس نہیں ہوئے جس کے بعد رات۸؍ بجے دہلی پولیس نے بدسلوکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں سینئر لیڈروں کو طاقت کا استعمال کرکے حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھئے: قوانین کی پابندی کے تحت اذان کے حق میں مداخلت نہ کی جائے: الٰہ آباد ہائی کورٹ
۵۰؍ اراکین پارلیمان سمیت۲۵۰؍ گرفتار
پولیس نے راہل گاندھی کے ساتھ کے سی وینوگوپال، پون کھیڑا، کے سریش، امریندر سنگھ راجا وڑنگ اور عمران پرتاپ گڑھی کو بھی زبردستی وہاں سے ہٹایا۔ اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) کے احاطے سے احتجاج کرنے والے تمام ارکان پارلیمنٹ کو باہر نکال دیا گیا۔ پولیس کے مطابق تقریباً۲۵۰؍ افراد، جن میں ۵۰؍ ایم پی ہیں، کو حراست میں لے کر کنگز وے کیمپ کی نیو پولیس لائنز منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پولیس نے اپوزیشن کے ایم پیز کو الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھنے سے روک دیا جو وہاں سے محض۳۰۰؍میٹر کے فاصلے پر ہے۔
پارلیمنٹ کے اطراف کا علاقہ نعروں سے گونج اٹھا
اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کے مطالبہ اور ووٹ چوری کےخلاف اپوزیشن اتحاد کے ۳۰۰؍ ممبران پارلیمنٹ کے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر تک احتجاجی مارچ اور نعروں سے پارلیمنٹ کے اطراف کا علاقہ گونج اٹھا۔ملک کی حالیہ تاریخ میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف اپوزیشن کا یہ غیر معمولی مارچ تھا۔
مارچ میں اپوزیشن کے اتحاد کا مظاہرہ
احتجاجی مارچ میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کےلوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تقریباً ۳۰۰؍ ممبران شامل تھے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی ،سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو،ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی،این سی پی (شردپوار) کی سپریہ سُلے،شیوسینا(ادھو) کے سنجے راوت،راشٹریہ جنتال دل کے منوج جھا کے علاوہ ان پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ اور لیڈران بڑی تعداد میں اس احتجاجی مارچ میں شامل تھے۔اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ نے جب پولیس کے محاصرہ کے باوجود الیکشن کمیشن کے دفتر تک پیش قدمی کی کوشش تھی تو سیکوریٹی اہلکاروں نے انہیں حراست میں لینا شروع کردیا۔ جن اراکین پارلیمان کو صبح ہی حراست میں لیاگیا ان میں اکھلیش یادو اور دیگر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: ۳؍ نئے ججوں کا تقرر، عدالتِ عظمیٰ میں ججوں کی تعداد بڑھ کر۳۷؍ ہو گئی
راہل اور پرینکا بریکیڈ پر چڑھ گئے
راہل گاندھی کے تیور منگل کو صبح سے ہی جارحانہ تھے۔ آکاش وانی بھون کے قریب جب اپوزیشن کے مارچ کو بیریکیڈ لگا کر روکا گیا تو راہل گاندھی دہلی پولیس سے مزاحمت کرتے ہوئے بیرکیڈ پر چڑھ گئے اور بریکیڈ پر ہی کھڑے ہوکر ترنگا لہرایا۔ ان کے ساتھ پرینکا گاندھی اور اپوزیشن کے کئی دیگر لیڈر بھی بیریکیڈ پر چڑھ گئے۔
جب راہل اور پرینکا محافظ بن گئے
دھرنے کے دوران دن بھر دہلی پولیس راہل گاندھی کو ہٹانے کی کوشش کرتی رہی مگر ناکام رہی۔اس بیچ پولیس کے ایک اہلکار دھرنے پر موجود کانگریس کے ایک کارکن کو تحویل میں لینے کی کوشش کی تو دونوں بھائی بہن سیسہ پلائی ہوئی دیگر کی طرح اس کارکن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ خاطو رپر پرینکا ندھی نے دونوں ہاتھ پھیلا کر پولیس کا راسہ روک دیا۔
کسی نے ملاقات کا وقت نہیں مانگا: کمیشن
ہنگامہ آرائیوں کے بیچ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک نوٹ جاری کیاگیا جس میں میڈیا کے حوالے سے ملنے والی مظاہروں کی اطلا ع پر کہاگیا کہ اپوزیشن کے کسی بھی لیڈر نے کمیشن سے ملاقات کا وقت نہیں مانگا۔ اہم بات یہ ہے کہ مارچ کا اعلان ۳۰؍ستمبر کو ہوا تھا۔
~جمہوریت کے غداروں کو بچانے کیلئے بچی کھچی جمہوریت کو بھی گھسیٹا گیا۔ حساب ہوگا، ایک بھی غدار کو بخشا نہیں جائے گا۔ - راہل گاندھی