فرضی انکاؤنٹر کے معاملوں میں یوپی سرفہرست

Updated: July 12, 2020, 11:51 AM IST | Agency | New Delhi

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق گزشتہ برسوں میں فرضی انکائونٹر کے ۴۴؍ فیصد معاملے اترپردیش سے درج کئے گئے ہیں

Vikas Dubey - Pic : INN
وکاس دبے ۔ تصویر : آئی این این

مدھیہ پردیش کے اجین سے کانپور لاتے ہوئے گینگسٹر وکاس دوبے مارا گیا ۔ یوپی ایس ٹی ایف کا کہنا ہے کہ جس گاڑی میں دوبے سوار تھا، اس  کے ڈرائیور نے ہائی وے پر گائیوں اور بھینسوں کے ریوڑ کو بچانے  کیلئے اچانک گاڑی موڑ ی جس کی وجہ سے  وہ  پلٹ گئی۔ اس دوران  وکاس نے پولیس اہلکار کی پستول چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس کی جوابی کارروائی میں اسے ہلاک کردیا گیا۔ 
   ملزمین کے ذریعے اسلحہ چھین کر فرار ہونے  کی تھیوری نہ صرف  وکاس کے معاملے میں بلکہ اس سے قبل بھی بہت سارے  انکائونٹر میں دیکھنے کو مل چکی ہے۔ ان تمام  انکائونٹر کو فرضی ، `اسپانسرڈ یا ` ایکسٹرا جیوڈیشل کِلنگ کا نام بھی دیا  جاتا رہا ہے۔ وکاس دوبے کے انکاؤنٹر  پر بھی  مختلف الزام عائد  کئے جارہے ہیں۔
  واضح رہے کہ فرضی انکائونٹر ایک ایسی مڈبھیڑ کو کہتے ہیں جوپہلے سے منصوبہ بند یا اسپانسرڈ ہو۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۷ءکے درمیان  فرضی انکائونٹر کے ایک ہزار ۷۸۲؍معاملات درج ہوئے تھے اوران معاملوںمیں بھی ملک کی سب سے بڑی ریاست  اتر پردیش سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔
  نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آر بی)کے ڈیٹا کے مطابق  فرضی انکائونٹر کے کُل معاملوں میں ۴۴؍ فیصد کیس یوپی  سے درج  کئے گئے ہیں۔ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا یہاں تک کہنا ہے کہ اتر پردیش میں حکومتیں فرضی انکائونٹر کے معاملے میں پولیس  پر سختی  نہیں کرتی ہیں اور ریاست میں ہر ماہ مبینہ  فرضی  انکائونٹر کا ایک  معاملہ سامنے آہی جاتا ہے۔
  ’ دی کوئنٹ ڈاٹ کام ‘ کے مطابق۲۰۰۰ء کے بعد سب سے زیادہ  فرضی انکائونٹر۲۰۱۲ء  ہوئے تھے۔ اس سال ملک بھر میں۲۲۶؍ فرضی  انکائونٹرز کے معاملے سامنے آئے تھے۔ ان معاملات میں سے اب تک  صرف  ۱۹۵؍ کیس ہی حل ہوسکے ہیں، باقی۳۱؍ معاملے ابھی تک زیر التوا ہیں۔۲۰۱۰ء اور۲۰۱۷ء کے درمیان ہیومن رائٹس کمیشن نے ۷۲۵؍  ایسے  معاملے درج  کئے تھے۔ اس  درمیان کچھ برسوں میں ہر سال۶۰؍کی شرح سے فرضی  انکائونٹر درج کئے گئے لیکن ۲۰۱۵ءمیں یہ تعداد ۱۴۰؍ تک جا پہنچی تھی۔
 ایک الگ رپورٹ کے مطابق۲۰۱۹ءمیں  آگرہ کے انسانی حقوق کے کارکن نریش پارس  نے  ایک آر ٹی آئی دائر کی تھی۔ اس کے  مطابق یکم جنوری۲۰۱۵ء سے۲۰؍ مارچ ۲۰۱۹ء کے درمیان این ایچ آر سی نے  فرضی انکائونٹر سے متعلق۲۱۱؍  معاملے درج  کئے تھے۔ اس عرصے کے دوران ۵۷؍ معاملے آندھرا پردیش اور اس کے بعد  یوپی  سے  ۳۹؍ فرضی انکائونٹر کے معاملے سامنے آئے تھے۔آر ٹی آئی کے جواب میں  این ایچ آر سی نے کہا کہ۲۱۱؍ میں سے صرف۱۱۲؍ معاملے  ہی حل ہوپائے تھے،باقی ۹۹؍ معاملے اب بھی زیر التوا ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK