حکام نے حسب سابق اسے’سرکاری زمین پر تعمیر غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں‘ کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ اپوزیشن کو تشویش۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 9:46 AM IST | Mumbai
حکام نے حسب سابق اسے’سرکاری زمین پر تعمیر غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں‘ کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ اپوزیشن کو تشویش۔
اتراکھنڈ میں ایک اور مزار کو منہدم کئے جانے کے بعد نئے سوالات اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔ ہری دوار کے ضلع میں حکام نے ایک اور مزار کو اس مہم کے تحت گرا دیا جسے حکومت سرکاری زمین پر قائم ’غیر قانونی مذہبی ڈھانچوں‘ کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے۔ تازہ کارروائی گڑھ میرپور تحصیل میں کی گئی جہاں حکام نے ایک ایسے ڈھانچے کو ہٹا دیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ محکمۂ آبپاشی کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ اقدام پشکر سنگھ دھامی کی قیادت والی حکومت کی وسیع مہم کا حصہ ہے جس کے مطابق اب تک۶۰۰؍ سے زائد ڈھانچےجن میں مزارات، مساجد اور قبرستان شامل ہیں منہدم کئےجا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: متضاد تفتیش اور کمزور شواہد کی بنا پر مالیگاؤں دھماکوں کے ملزمین بری ہوئے
اس پیش رفت کے بعد مسلم تنظیموں اور اپوزیشن لیڈروں میں تشویش پیدا ہوئی ہے جو یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ کارروائیاں منصفانہ اور یکساں طریقے سے کی جا رہی ہیں یا نہیں؟ ایک مقامی مسلم تنظیم کے نمائندے نے کہاکہ’’ہم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے مخالف نہیں ہیں لیکن یہ سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہر قسم کے تجاوزات کے خلاف ایک جیسی کارروائی ہو رہی ہے یا نہیں۔‘‘ ضلع حکام کے مطابق مزار کے منتظمین کو تقریباً ایک ماہ قبل نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں زمین کی ملکیت اور تعمیر سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب نہ ملنے پر انتظامیہ نے مسماری کی کارروائی انجام دی۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ جتیندر سنگھ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ کارروائی سے پہلے تمام قانونی مراحل مکمل کئے گئے تھے۔ انہدام سے قبل متولیان نے اپنی اشیاء خود ہٹا لی تھیں۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میور دیکشت نے بھی کہا کہ یہ اقدام سرکاری زمین کو تجاوزات سے خالی کرانے کی مسلسل مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ عوامی زمین سے غیر قانونی قبضہ ہٹانے کی ایک جاری مہم ہے۔ قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے لیکن مسلم برادری کے کچھ حلقوں میں خدشات برقرار ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دائرۂ کار اور توجہ نے بے چینی پیدا کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک مخصوص طبقے کو بدنام کرنے کیلئے کارپوریٹ جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا ہے
علاقے کے ایک مدرسہ ٹیچر نے کہاکہ جب بار بار ایک ہی فرقہ سے وابستہ مقامات کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ لوگ شفافیت اور مساوی سلوک چاہتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں نے بھی اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے مہم کے مقصد اور نفاذ پر تنقید کی ہے۔ ایک اپوزیشن ترجمان نے کہاکہ تجاوزات پوری ریاست میں ایک مسئلہ ہیں۔ حکومت کو دکھانا چاہئے کہ اس کی کارروائیاں جانبدارانہ نہیں ہیں بلکہ سب کے لئےیکساں ہیں۔ اب تک مزار کے انتظامیہ کی جانب سے اس انہدامی کارروائی پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مہم عوامی زمین کے تحفظ اور خاص طور پر ہری دوار جیسے علاقوں کی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال واضح ابلاغ اور قانون کے یکساں نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ایک قانونی ماہر کے مطابق ’’اگر قانونی طریقۂ کار مکمل کیا جائے اور اسے سب پر یکساں لاگو کیا جائے تو ایسی کارروائیاں مضبوط بنیاد رکھتی ہیں لیکن اگر کسی مخصوص نشانے کا تاثر پیدا ہو تو یہ آئینی سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔‘‘