عدالت نے این آئی اے کے پیش کردہ گواہوں کی قانونی حیثیت تک کو تسلیم نہیں کیا ، تفتیش میں کئی خامیاں شمار کروائیں
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 1:11 AM IST | Nadeem Asran | Malegaon
عدالت نے این آئی اے کے پیش کردہ گواہوں کی قانونی حیثیت تک کو تسلیم نہیں کیا ، تفتیش میں کئی خامیاں شمار کروائیں
بدھ کو بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر نے مالیگاؤں کی حمیدیہ مسجد اور بڑا قبرستان میں ہونے والے بم دھماکوں کے ۴؍بھگوا ملزمین کوکیس سے ڈسچارج کر دیا ۔ ہر طرف سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر ایسا کس بنا پر کیا گیا؟ ان میں بنیادی وجہ تین ایجنسیوں کی متضاد تفتیش کے علاوہ ایسے گواہوں کا بیان شامل ہے جن کی قانونی رو سے کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ساتھ ہی مرکزی ایجنسی کی تفتیش میں بے شمار خامیوں اورکمزوریو ں کی بناء پر یہ کیس کمزور ہو گیا۔
کیس سے ڈسچارج کئے گئے۴؍ ملزمین راجندر چودھری ، منوہر رام سنگھ نرواریا ، دھان سنگھ اور لوکیش شرما نے ہائی کورٹ کے روبرو مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ ( اے ٹی ایس ) اور سی بی آئی کے ذریعہ مالیگاؤں بم دھماکوں کے سلسلہ میں کئی گئی تفتیش ، ۹؍ مسلم ملزمین کی گرفتاری ، ان کے خلاف پیش کئے گئے ثبوتوں گواہوں اور لئے گئے حلفیہ بیان کے حوالہ سے کئی دلیلیں پیش کی تھیں ۔ یہی نہیں انہوں نے مرکزی ایجنسی این آئی اےپر اپنے خلاف جھوٹے ثبوت اکٹھا کرنے ،کیس کے سلسلہ میں جھوٹی کہانی بیان کرنےاور ایسے گواہوں کے بیانات پر انحصار کرنے کا الزام لگایا تھا جس کی قانونی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ انہوںنے الزام لگایا کہ مکہ مسجد اور اجمیر بم دھماکہ میں ملزم بنائے گئے سوامی اسیما نند کے بیان کی بنیاد پر مالیگاؤں بم دھماکہ کی تھیوری تیار کی گئی ہے۔ جبکہ سوامی اسیمانند کو نہ تو اس کیس میں گواہ بنایا گیا اور نہ ہی داخل کردہ چارج شیٹ میں بطور ملزم یا گواہ اسیمانند کو شامل کیا گیا ۔ چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس شیام چانڈک نے ملزمین کی پیش کردہ ان دلیلوں کو بھی قبول کیا جس میں ایسے ہی الز امات سابقہ ایجنسی کے ذریعہ مسلم نوجوانوں پر لگائے گئےتھے ۔یہی نہیںدھماکہ کے ۵؍ سال بعد بھگوا ملزمین کی گرفتاری اور شاختی پریڈ میں ان کی شناخت نہ کروانے کے جواز کو بھی عدالت نے قبول کیا ۔
ہائی کورٹ نےملزمین منوہر نرواریا، راجندر چودھری، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کے حق میں سنائے گئے فیصلہ میں خصوصی عدالت کے ذریعہ ملزمین پر فرد جرم عائد کرنے اور کیس کی سماعت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی شدیدطنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ عدالت کو اپنی ذہنی صلاحیتوں کا بھی استعمال کرنا چاہئے کسی ڈاکہ خانہ کے کلرک کی طرح کام نہیں کرنا چاہئے ۔کسی بھی ملزم پر فرد جرم اس وقت عائد کیا جاتا ہے جب پختہ ثبوت و شواہد موجودہوں اور ملزم کے جرم کرنے کا پتہ چلتا ہو ۔ اس کیس میں ایجنسیوں کی تفتیش میں بے شمار تضاد ہے اور مذکورہ تضادات کو بالکل بھی قبول نہیں کیا جاسکتا ہے ۔‘‘ کورٹ نے دو ایجنسیوں کے ذریعہ دو الگ الگ گروپ کے ملزمین کی گرفتاری ، سائیکل کی خریداری ،بم کا مواد اکٹھا کرنے ، اسے تیار کرنے اور دھماکہ کی سازش کرکے اسے سائیکل میں نصب کرنے کے علاوہ دھماکہ کرنے کی دو الگ الگ کہانی اور تھیوری پر بھی برہمی کا اظہار کیا ۔یہی نہیں عدالت نے اس کیس کے ایک ایسے گواہ پر یقین کرلینے پر بھی اعتراض ظاہر کیا جو پہلے گرفتار کئے گئے ملزمین کے خلاف کچھ اور بعد میں گرفتار کئے گئے ملزمین کے خلاف کچھ اور بیان دیتا ہے، پھر اس سے انحراف بھی کر لیتا ہے ۔کورٹ نے این آئی اےکی تفتیش پر بھی سرزنش کی ۔
عدالت کا کہنا تھا ’’ این آئی اے نے نئے سرے سے تفتیش کیوں نہیں کی اور اسی کہانی ، شواہد اور گواہوں کو کیوں دہرایا جو سابقہ ایجنسی نے اپنے تفتیش میں اکٹھا کئے تھے؟‘‘اس کے علاوہ ایجنسی نے اور کورٹ نے درخواست گزارو ں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے اس بات کو کیوں نظر انداز کیا کہ دھماکہ کیس کے سلسلہ میں سابقہ ایجنسی نے جو دھماکوں کے ذرات اکٹھا کرنے کا اہم ثبوت پیش کیا تھا اسے سرے سے کیوں خارج کر دیا گیا ؟