اتراکھنڈ میں تمام مدارس کو جولائی تک ریاستی نصاب اپنانے کا حکم نامہ تنقید کی زد پر ہے، جبکہ یہ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے مدرسہ بورڈ کو ختم کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 3:06 PM IST | Dehradun
اتراکھنڈ میں تمام مدارس کو جولائی تک ریاستی نصاب اپنانے کا حکم نامہ تنقید کی زد پر ہے، جبکہ یہ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے مدرسہ بورڈ کو ختم کردیا ہے۔
اتراکھنڈ حکومت کے ریاستی مدرسہ بورڈ ختم کرنے کے فیصلے پر مسلم مذہبی رہنماؤں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس کی قانونی حیثیت اور ضرورت دونوں پر سوال اٹھائے ہیں۔معروف اسلامی اسکالر، سماجی مصلح اور بین المذاہب مکالمے کے ممتاز حامی مولانا خالد راشد فرنگی محلی نے اس فیصلے کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کو مکمل ختم کیے بغیر بھی مدرسہ تعلیم میں اصلاحات ممکن تھیں۔ جبکہ آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے پوچھا کہ ’’ مدرسہ بورڈ ختم کرنا کیوں ضروری تھا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ بورڈ کے ذریعے بھی حکومت ضروری تبدیلیوں کو نافذ کر سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ناسک کی طرز پر ناگپور کی ایک سماجی تنظیم کے ڈائریکٹر پر الزامات اور گرفتاری
دوسری جانب پرمارتھ آشرم کے سوامی چیندانند مونی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ روحانی تعلیم کے ساتھ سائنس، ریاضی اور جغرافیہ جیسے مضامین سیکھ کر قومی اور عالمی تناظر سے جڑنے کیلئے اس سے مدد حاصل کر پائیں گے۔ واضح رہے کہ اتراکھنڈ اب ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اپنا مدرسہ بورڈ مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اس خاتمے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام مدارس کو جولائی۲۰۲۶ء سے اتراکھنڈ ایجوکیشن بورڈ کا نصاب اپنانا ہوگا، ورنہ بند کر دیے جائیں گے۔اتوار کو یہاں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دھامی نے اس فیصلے کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تمام مدارس کو طلبہ کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ریاستی تعلیمی بورڈ کے مطابق ہونا ہوگا۔
ذہن نشین رہے کہ اس اقدام کی قانونی بنیاد اکتوبر۲۰۲۵ء میں رکھی گئی جب اتراکھنڈ کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل گرمیت سنگھ (ریٹائرڈ) نے اتراکھنڈ اقلیتی تعلیم بل۲۰۲۵ء کو منظوری دی۔ اس منظوری کے ساتھ ہی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ۲۰۱۶ء اور غیر سرکاری عربی و فارسی مدرسہ ریکگنیشن رولز۲۰۱۹ء یکم جولائی۲۰۲۶ء کو ختم ہو جائیں گے۔ریاستی حکومت کی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اس طرح اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست ہو گی جو اقلیتی تعلیمی اداروں کو مرکزی تعلیمی فریم ورک کے تحت لائے گی۔دریں اثناء مدرسہ بورڈ کی جگہ ریاستی حکومت نے اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی تشکیل دی ہے، جو اب اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق تمام امور (تسلیم شدگی، نصابی ڈیزائن، تعلیمی اور انتظامی کام) کی نگرانی کرے گی۔جبکہ تمام اقلیتی ادارے اس کےما تحت آئیں گے اور ان کی شناخت اتراکھنڈ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔
بعد ازاںریٹائرڈ پروفیسر سرجیت سنگھ گاندھی کو اتھارٹی کا پہلا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ آٹھ مقرر کردہ ارکان میں سے دو کا تعلق مسلم برادری سے ہے۔ ریٹائرڈ پروفیسر سید علی حامد (کوماؤں یونیورسٹی) اور پروفیسر روبینہ امان (شعبہ کیمسٹری، سوبھن سنگھ جینا یونیورسٹی)۔تاہم جولائی 2026 کے تعلیمی سیشن سے تمام اقلیتی اسکولوں کو قومی نصابی فریم ورک اور نئی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ء اپنانا ہوگا۔جبکہ وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا کہ حکومت کا ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ ریاست کا ہر بچہ، اپنے طبقے یا برادری سے قطع نظر، یکساں تعلیم اور یکساں مواقع کے ساتھ ترقی کرے۔
دوسری جانب حکومت کے مدرسہ بورڈ کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست میں مدارس کے طلبہ کے ساتھ ہراسانی کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ جن میں دہرہ دون میں بجرنگ دل کارکنوں کے ذریعے سڑک کے درمیان مدارس کے طلبہ اور ان کے سرپرستوںسے لفظی جھڑپ شامل ہے۔ بجرنگ دل لیڈرنے طلبہ پر ’’کافر‘‘ کہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ’’ہمارا پیو گے، ہمارا کھاؤ گے، اس کے بعد بھی ہمیں کافر کہو گے؟‘‘اس کے ساتھ ہی اس نے دعویٰ کیا کہ طلبہ کو مدرسہ میں پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ مدرسہ بورڈ ختم ہو چکا ہے، حالانکہ یہ فیصلہ جولائی تک قانونی طور پر نافذ ہوگا۔