Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسک کی طرز پر ناگپور کی ایک سماجی تنظیم کے ڈائریکٹر پر الزامات اور گرفتاری

Updated: April 21, 2026, 11:33 AM IST | Agency | Nashik

تنظیم کے دفتر میں کام کرنے والی ایک لڑکی نےڈئریکٹر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جبراً تبدیلیٔ مذہب کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

Arrests On Similar Charges!.Photo:INN
ایک ہی جیسے الزامات کے تحت گرفتاریاں!۔ تصویر:آئی این این
ناسک کی ٹی سی ایس کمپنی کی طرز پر اب ناگپور میں ایک سماجی تنظیم کے سربراہ پر جنسی استحصال اور تبدیلیٔ مذہب کا الزام لگایا گیا ہے۔خواتین کی مبینہ شکایت پر پولیس نے سماجی تنظیم کے ڈائریکٹر ریاض قاضی کو گرفتار کر لیا ہے۔
 
 
اطلاع کے مطابق ناگپور کے منکاپور پولیس اسٹیشن میں اس معاملے میں ایک ۲۳؍ سالہ لڑکی نے ایف آئی آر درج کروائی ہے کہ  ’یونیورسل ملٹی پرپز سوسائٹی‘،  نامی تنظیم کے ڈائریکٹر ریاض قاضی تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کی آڑ میں غلط کام کر رہا ہے۔لڑکی کا الزام ہے کہ ریاض نے اسے دفتر کے کیبن میں بلایا اور فحش حرکتیں کیں۔ وہ سی سی ٹی وی بند کرکے بار بار خواتین سے بار بار  بدتمیزی کر تا ہے۔  ساتھ ہی الزام ہے کہ تنظیم کا ڈائریکٹر ’ڈیجیٹل واچ‘ اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے لڑکی کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا تھا۔ لڑکی کے ساتھ دیگر خواتین بھی پولیس اسٹیشن پہنچی تھیں۔ انہوں نے ریاض کے خلاف چھیڑ چھاڑ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ان خواتین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ این جی او کے ڈائریکٹر ریاض قاضی وہاں کام کرنے والی ۲۳؍ تا ۲۶؍ سال کی لڑکیوں پر دباؤ ڈالا کرتا ہے کہ وہ نماز پڑھیں، روزے رکھیں، دعائیں مانگیں اور ایک دوسرے کو سلام کر یں اور جاتے وقت  خدا حافظ کہیں۔شکایت کنندگان کا الزام ہے کہ ایک این جی او کے سربراہ ہونے کے باوجود لڑکیوں کے اپنے مذہبی عقائد کے خلاف جانے اور دوسرے مذہب کی روایات کو ماننے سے انکار کے بعد بھی ریاض قاضی بار بار مذہبی اصولوں پر عمل کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ 
 
 
یاد رہے کہ ناسک کی ٹی سی ایس کمپنی میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز کچھ مسلم ملازمین کے خلاف اسی طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اس میں ۸؍ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد میڈیا میں اسی طرح کی کئی خبریں آنے لگی ہیں۔ حالانکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ میڈیا کچھ بتایا جا رہا ہے جبکہ الزامات کچھ اور ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK