اقلیتوں کے مسائل پر منعقدہ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ اور اقلیتی ترقی کے محکمہ کی وزیر سونیترا اجیت پوار نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ مستحق افراد تک پہنچایا جائے۔
میٹنگ کے دوران نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کے ساتھ اراکین اسمبلی ثناء ملک شیخ اور رئیس شیخ نظر آرہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
نائب وزیر اعلیٰ و اقلیتی ترقی کے محکمہ کی وزیرسونیترا اجیت پوار نے بدھ کو متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ اقلیتی محکمہ کی سبھی خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے ۔ انہوںنے زور دے کر کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کی سرکاری اسکیموں کا فائدہ مؤثر انداز میں مستحق اور اہل افراد تک پہنچ سکے، اس کیلئے ضروری نظم اور کارروائی کی جائے۔مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے قاعدہ ۱۰۵؍کے تحت پیش کردہ توجہ طلب نوٹس کےمطابق کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے سلسلے میںمذکورہ میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شریک ہوئے تھے جبکہ اراکین اسمبلی ثناء ملک شیخ اور رئیس شیخ، نائب وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری ڈاکٹر راجیش دیشمکھ اور دیگر متعلقہ افسران و معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ نے اقلیتوں کے تعلق سے اراکین اسمبلی کے باتوں کو بغور سنا اور انہیں سمجھنے کی کوشش کی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک چلنے والی میٹنگ میں وہ متعلقہ افسران سے بھی سوالات کر رہی تھیں۔نائب وزیر اعلیٰ سونیترا اجیت پوار نے میٹنگ میں کہا کہ ریاستی حکومت اقلیتی برادری کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور ثقافتی ترقی کیلئے مختلف فلاحی منصوبوں کو مؤثر انداز میں نافذ کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اسکیموں کا فائدہ سماج کے آخری فرد تک پہنچنا چاہئے اور اس مقصد کیلئے انتظامیہ کو مزید فعال اور نتیجہ خیز انداز میں کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے طلبہ کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا، بالخصوص لڑکیوں کیلئے اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کی سہولتیں بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تعلیم سماجی تبدیلی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔
میٹنگ میں مائناریٹی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (مارٹی) ادارے سے متعلق مختلف امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، تربیتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
سونیترااجیت پوار نے کہا کہ اقلیتی برادری کے نوجوانوں کو جدید تعلیمی نظام، مہارت پر مبنی تربیت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیم سے جوڑنے کیلئے مؤثر اقدامات کئےجائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت روزگار پر مبنی تربیت، ہنر مندی کے فروغ اور کاروباری صلاحیتوں کو بڑھانے والے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دے گی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ حج کمیٹی میں نشستوں کے معاملے پر ضروری کارروائی کیلئے مرکزی حکومت سے خط و کتابت کی جائے اور زیر التواء معاملات کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے مؤثر پیروی کی جائے۔ اسی کے ساتھ مرکزی حکومت سے اقلیتی ترقی کا جو فنڈ نہیں ملا ہے اس کیلئے بھی خط و کتابت کی جائے۔
اس دوران نائب وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی برادری کی ہمہ جہت ترقی کیلئے حکومت کے تمام محکمے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں اور مختلف فلاحی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔میٹنگ کے تعلق سے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بتایا کہ’’ چونکہ مَیں نندوربار میں ہوں اس لئے آن لائن ہی میٹنگ میں شریک ہو سکا تھا۔ مَیں نے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ مائناریٹی کا فنڈ آھا کر کے۸۴۴؍ کروڑ کر دیا گیا ہے اور اسے بھی پورا خرچ نہیں کیاجاتا، اسکولوں کو ۱۰؍ لاکھ ملتے تھے اب نہیں دیئے جاتے ،اردو اکیڈمی میں ۲۵؍ کا اسٹاف تھا اب ایک اور ۲؍ کا اسٹاف ہے،اسماعیل یوسف کالج مسلمانوں کے سپرد کیاجائے اور ۲۵؍ ایکڑ زمین میں اردو گھر تعمیر کیاجائے۔ان کا جواب تحریری طو رپر مانگا ہے۔‘‘
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ ’’ ۲۰۲۲ء میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز کے ذریعے مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی صورتحال معلوم کرنے کیلئے حکومت نے جو تجویز منظور کی تھی اس بارے میں بھی نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کو بتایا گیا جس پر انہوں اس پر مثبت کارروائی کرنے کا یقین دلایا ہے۔‘‘