Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش ۲۰۲۷ء الیکشن اور چندر شیکھر آزاد

Updated: June 04, 2026, 2:00 PM IST | Ashish Mishra | Mumbai

۱۴؍ مئی کو یوپی کے مشہور میرٹھ میں منعقدہ تقریب سے یہ واضح اشارہ ملا کہ آزاد سماج پارٹی محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ سیاسی دعویدار بننے کی پُرجوش تیاری کر رہی ہے۔

Chadrashekhar Azad.Photo:INN
چندرشیکھرآزاد۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں مغربی اتر پردیش کی نگینہ سیٹ سے منتخب ہونے کے بعد آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) یا اے ایس پی کے صدر چندر شیکھر آزاد اب صرف ایک رکن پارلیمنٹ نہیں رہ گئے ۔  وہ اتر پردیش کی سیاست میں ایک ایسی سماجی-سیاسی مساوات تشکیل دینے کی کوشش میں ہیںجس کے ذریعے دلت، مسلمان اور انتہائی پسماندہ طبقات ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آسکیں۔مغربی اترپردیش میں ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمی نے سماج وادی پارٹی (ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور کانگریس میں تشویش پیدا کردی ہے۔۱۴؍ مئی کو میرٹھ میں منعقدہ تقریب نے واضح طور پر اشارہ دیا کہ آزاد سماج پارٹی اب محض ایک تنظیم نہیں ہے بلکہ ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ سیاسی دعویدار بننے کی تیاری کر رہی ہے۔میرٹھ کے گروکل گارڈن میں منعقدہ تقریب میں جس طرح چندر شیکھر نے سماجوادی اور بی ایس پی کے لیڈروں کو پارٹی میں شامل کیا، اس نے مغربی اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ سماج وادی ’چھاتر سبھا‘ کے قومی جنرل سیکریٹری بابر چوہان کھردونی، بی ایس پی لیڈر توفیق الٰہی، حاجی نور سیفی، اور ہارون احمد جیسے چہرے نہ صرف تنظیمی توسیع کا حصہ ہیں، بلکہ اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں سیاسی عزائم رکھنے والے رہنما بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو مغربی اتر پردیش میں’تیسرے محاذ‘ کے ابھرنے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔میرٹھ میں ایک میٹنگ میں چندر شیکھر نے واضح طور پر کہا کہ ان کی پارٹی ریاست کی تمام ۴۰۳؍سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کا یہ بیان محض سیاسی اعلان نہیں تھا بلکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو وارننگ بھی تھی۔ انہوں نے کہا جو نگینہ میں ہوا وہ میرٹھ میں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بیان اس سماجی اتحاد کا حوالہ تھا جس نے اسے نگینہ میں جیتنے میں مدد کی تھی۔ اگلے اسمبلی انتخابات میں میرٹھ میں بھی اس کو دُہرایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں انہوں نے نوجوانوں کو آگے لانے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مضبوط ہوں گے انہیں موقع دیا جائے گا چاہے وہ نوجوان ہوں یا بوڑھے۔ یہ پیغام نوجوان اور مقامی لیڈروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی براہ راست کوشش ہے جو یہ محسوس کرتے ہیںکہ انہیں بڑی پارٹیوں کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا  ہے۔ چندر شیکھر مسلسل یہ بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس اب ’پرانی قیادت ‘کی پارٹیاں بن چکی ہیں جب کہ’ اے ایس پی ‘نئی نسل کی سیاست کا پلیٹ فارم ہے۔ میرٹھ میں اے ایس پی میں شامل چہرے محض کارکن نہیں ہیں۔ ان میں سے اکثر اسمبلی کے ٹکٹ کے خواہشمند ہیں۔ بابر چوہان کھردونی طویل عرصے سے کٹھور سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ کی امید کر رہے تھے۔ تاہم سابق وزیر شاہد منظور کے مضبوط دعوے کے باعث انہیںموقع ملنے کی امید کم ہی ہے۔ ایسی ہی صورت حال کا سامنا بی ایس پی کے کئی لیڈروں کو بھی ہوا جنہیںٹکٹ کی امید تھی لیکن پارٹی میںجگہ محدود تھی ۔
 
 
مغربی یوپی کی سیاست طویل عرصے سے مسلم جاٹ، مسلم دلت اور جاٹو ووٹ بینک کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس پس منظر میںسماجوادی جہاں مسلم یادو مساوات پر انحصار کرتی ہے، وہیں بی ایس پی کی طاقت جاٹوو ووٹ رہے ہیں۔ تاہم چندر شیکھر اس پورے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی مساوات کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرٹھ میں پارٹی میں شامل ہونے والے زیادہ تر لیڈران مسلمان ہیں۔ کٹھور سے بابر چوہان کھردونی، سردھانا سے توفیق الٰہی اور ہارون احمد، اور جنوبی سیٹ سے حاجی نور سیفی جیسے ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے ایس پی مغربی یوپی میں مسلم قیادت کو جگہ دے کر ایس پی کی بنیاد کو نقصان پہنچانے کی تیاری کر رہی ہے۔
 
 
خیال کیا جاتا ہے کہ چندر شیکھر کا بنیادی سیاسی مقصد بی ایس پی کی کمزور ہوتی بنیاد پر قبضہ کرنا ہے۔ پچھلے کچھ انتخابات میں بی ایس پی کے ووٹ شیئر میں مسلسل کمی آئی ہے ۔ جاٹو برادری کے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ مایاوتی کی سیاست سے خود کو دور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ طبقہ چندر شیکھر کے جارحانہ انداز اور سڑک کی سیاست سے متاثر ہے۔ میرٹھ، سہارنپور اور بجنور جیسی جگہوں پر چندر شیکھر کی ریلیوں میں بڑی بھیڑ دلت نوجوانوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتی ہے۔نوجوان ، خاص طور پر وہ لوگ جو بھیم آرمی کی تحریک سے جڑے ہیں، انہیں (چندر شیکھر کو) ایک انقلابی لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کے پاس دلت چہرے کی کمی ہے جو نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر راغب کر سکے۔ ان کے مطابق ’’راہل گاندھی کی آئین بچاؤ مہم کا ۲۰۲۴ء میں اثر نظر آیا لیکن اگر دلت ووٹروں کے پاس۲۰۲۷ء میں چندر شیکھر جیسا کوئی آپشن ہوتا ہے، تو مساوات بدل سکتی ہے۔‘‘چندر شیکھر مسلسل کہتے آئے ہیں کہ اپوزیشن کا وجود صرف انتخابی معاہدوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر بی جے پی کو ہرانا ہےتو ہماری ـضرورت ہے ۔  جو بی جے پی کو ہرانا چاہتا ہےکہ اسے ہم سے بات کرنی چاہئے۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر قائم کرنا چاہتا ہے نہ کہ ایک معمولی اتحادی کے طور پر۔اس معاملے پر سماج وادی پارٹی کے اندر اختلافات ہیں۔ پارٹی کے کچھ لیڈروں کا خیال ہے کہ اے ایس پی کے ساتھ اتحاد سے دلت ووٹوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے، لیکن اعلیٰ قیادت اس وقت پُرجوش نظر نہیں آتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اتحاد کی صورت میں سیٹوں کی تقسیم اور قیادت کے معاملات پیچیدہ ہو جائیں گے۔ سماجوادی کے ایک سینئر لیڈر کا ماننا ہے کہ چندر شیکھر کی نظریاتی پوزیشن ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’’دلت ووٹر جذباتی طور پر ان سے جڑ سکتے ہیں لیکن وہ صرف اس پارٹی کا انتخاب کرتے ہیں جو انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے قابل ہو۔‘‘ مجموعی طورپرسیاسی تجزیہ کار اس وقت منقسم ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ اے ایس پی کا اثر محدود ہوگا کیونکہ اتر پردیش کی سیاست اب بھی بڑی پارٹیوں کے گرد گھومتی ہے۔ تاہم، ایک اور رائے یہ ہے کہ اگر بی ایس پی مزید کمزور ہوتی ہے اور ایس پی مضبوط دلت قیادت پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اے ایس پی کیلئےمیدان ہموار ہوسکتا ہے۔n
(بشکریہ : انڈیا ٹوڈے)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK