کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ شرپسندوں کی مسلسل رخنہ اندازی کے سبب خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 4:39 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Vasai
کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ شرپسندوں کی مسلسل رخنہ اندازی کے سبب خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں۔
یہاںسن سٹی علاقے میں قبرستان کا مسئلہ برسوں سے معلق ہے۔ بار بار آواز بلند کی گئی، احتجاج کیا گیا اور کافی جدوجہد کے بعد میونسپل کارپوریشن نے فنڈ پاس کیا اور چہار دیواری وغیرہ بھی مکمل کرلی گئی مگر شرپسندوں کی شرانگیزی کے سبب آج تک اس میں تدفین شروع نہیں کی جاسکی بلکہ یہ معاملہ گرین ٹریبونل میں ہے۔ چند سال قبل اس میں ایک میت دفن بھی کی گئی تھی جس پر کچھ نوجوانوں پر ضابطہ شکنی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔اسی سلسلے میں اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی) کی جانب سے پیش رفت کی گئی اور جمعرات کو وسئی ویرار کےمیونسپل کمشنر پی بی پرتھوی راج چوہان سے ملاقات کی گئی اور انہیں میمورنڈم دیا گیا۔ سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان کے ہمراہ ملاقات کیلئے گئے وفد کی جانب سے کمشنر کو بتایا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ سن سٹی، دیوان مان، سروے نمبر۱۷۶؍ میں واقع تمام مذاہب کے لئے مختص قبرستان کو جلد ازجلد شروع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ’ووٹ چوری‘ کیخلاف انڈیا اتحاد کا احتجاج
’’ہم خود قبرستان شروع کردیں گے‘‘
ایڈوکیٹ وارث پٹھان نے میونسپل کمشنر کو واضح الفاظ میں کہا اور انتباہ بھی دیا کہ اگر میونسپل کارپوریشن نے تمام مذاہب کیلئے مختص سن سٹی قبرستان کو شروع نہیں کیا تو ہم خود اسے شروع کردیں گے۔ اس پر انہوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر جلد فیصلہ کرکے قبرستان شروع کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ حالانکہ دوران گفتگو میونسپل کمشنر نے اپنے حال ہی میں چارج لینے اور اس معاملے سے عدم واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
’’۴؍لاکھ سے زائد مسلمانوں کو۷؍کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے‘‘
ایم آئی ایم کے مقامی ذمہ دار عمار عبداللہ پٹیل کے مطابق وسئی ویرار کے علاقے میں مسلم آبادی تقریباً ۴؍ لاکھ ہے۔ مقامی لوگوں نے ۲۰۱۱ء میں قبرستان کے لئے مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت سروے کے بعد ضلع کلکٹر نے ۶؍ایکڑ زمین قبرستان کے لئے منظور کی تھی، اس زمین پر مسلمانوں، لنگایت، عیسائیوں، بوہرہ، آغا خانی اور شیعہ وغیرہ کے لئے قطعہ اراضی مختص کی گئی تھی۔۲۰۱۱ء سے۲۰۲۶ء تک ۱۵؍ سال گزر چکے ہیں، اس کے باوجود قبرستان میں تدفین کی اجازت اب تک نہیں مل سکی ہے۔ آخر ۴؍ کروڑ روپے سے زائد روپے خرچ ہونے کے باوجود پھر بھی تدفین کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ وارث پٹھان کے مطابق آج صورتحال یہ ہے کہ کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کے اہل خانہ کو تدفین کے لئے ۷،۸؍ کلومیٹر دور میت لے جانی جانی پڑتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک شخص کی مخالفت کی وجہ سے پورا معاملہ رکا ہوا ہے۔ اس لئے اب مزید انتظار نہیں کیا جائے گا اور ہم زبردست احتجاج کے لئے مجبور ہوں گے۔ کیا عوام کو سہولت سے محروم رکھنا مناسب ہوگا؟
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ’ووٹ چوری‘ کیخلاف انڈیا اتحاد کا احتجاج
میونسپل کمشنر سے ملاقات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے وسئی ویرار ضلع کے صدر عمار عبداللہ پٹیل، خواتین ونگ کی صدر روبینہ پٹیل، رویش مومن، اقبال شیخ، مولانا جمیل عبداللہ ہاشمی، متین احمد، ظہیر انصاری، فہیم خان، شاداب اعظمی، گلزار شیخ، کفیل خان، شانو ، شہزاد چودھری، انس خان اور قاری حنیف وغیرہ موجود تھے۔
قبرستان کی تعمیر میں کب کیا ہوا؟
اسی قبرستان کی چہار دیواری کی تعمیر مکمل کئے جانے کے قریب سکل ہندو سماج نے مورچہ نکال کر۲۶؍ فروری ۲۰۲۳ء کو زبردست ہنگامہ آرائی کی تھی اور مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ تبھی سے یہ معاملہ معلق ہے۔
اس قبرستان کی تعمیر کے لئے۲۰۲۲ءمیں میونسپل کارپوریشن نے ایک کروڑ۷۵؍ لاکھ۲۶؍ ہزار۳۶۴؍ روپے کا فنڈ پاس کیا تھا اور کنٹریکٹر کو ایک سال میں کام پورا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حالانکہ ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ مواقع پر کام کے لئے ۴؍ کروڑ روپے سے زائدمیونسپل کارپوریشن کی جانب سے فنڈ پاس کیا گیا تھا ۔
۱۵؍سال بعد بھی قبرستان کا فائدہ مقامی لوگوں کو نہیں مل سکا۔