• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظہران ممدانی کا دفتر میں پہلا دن، ان کا لباس بہت کچھ بیان کرتا ہے

Updated: January 05, 2026, 4:02 PM IST | New York

ظہران ممدانی کا اپنے دفتر میں پہلے دن زیب تن کیا گیا لباس ، ان کی شخصیت کے بطور لیڈر بہت کچھ بیان کرتا ہے،تجزیہ نگاروں نے ان کے لباس کی تشریح کرکے ایک دلچسپ تبصرہ پیش کیا ہے،جو ممدانی کے طرز زندگی اور طرزحکمرانی کی وضاحت کررہا ہے۔

Zohran Mamdani - Photo: INN
ظہران ممدانی ۔ تصویر: آئی این این

آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، آپ نے غالباًظہران ممدانی کی  حلف برداری کی تقریب کی تصاویر یا ویڈیوز دیکھی ہوں گی۔ جب کہ زیادہ تر لوگ ممدانی سمیت ’’گڈی ریڈ چیلنجر‘‘ گانے کے ماحول میں محو تھے،کچھ لوگوں کی نظر  ان کے لباس پر پڑی، خاص طور پر ان کی ٹائی پر۔انہوں نے اولڈ سٹی ہال اسٹیشن پر میئر کے طور پر حلف اٹھایا، اور ایسے شہر میں جہاں لباس  طاقت کے اظہار کا عموماً توجہ کا مرکز بنتا ہے، ظہران ممدانی کا پہلے دن کا لباس اس کے برعکس تھا، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مقبول ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دہائی بعد براہ راست پروازیں بحال

ممدانی کے لباس کا مرکز ایک ہاتھ سے بُنی ہوئی’’ اری سلک‘‘ ٹائی تھی، جو نئی دہلی کے ڈیزائنر کارتیک کُمرا کے لیبل کارتیک ریسرچ کے تحت تیار کی گئی تھی۔ گبریلا کریفا جانسن کے اسٹائلنگ میں، یہ انتخاب نئے میئر کی نفاست کے لیے موزوں محسوس ہوا۔اری سلک، جسے اکثر غیر متشدد ریشم کہا جاتا ہے، اپنے  ٹیکسچر اور روائتی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے۔ روایتی طاقتور ٹائیوں میں پسند کیے جانے والے چمکدار ملبیری ریشم کے برعکس، اری نرم، پرسکون اور زیادہ محسوس کرنے والا ہوتا ہے۔ اپنے موٹے ٹیکسچر کی وجہ سے، یہ عام طور پر مکھلا چادروں اور شالوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔شمال مشرق میں نسلوں سے، اری سلک شاہانہ زندگی سے زیادہ روزگار کے بارے میں رہا ہے۔ یہ اکثر خواتین کے ذریعے ہاتھ سے کاتا جاتا ہے،، ان علاقواں میں جہاں گھریلو نظام کے اندر کھیتی، بُنائی اور دستکاری ایک ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ یہ ریشم کے ساتھ اس شخص کے بارے میں بھی بہت کچھ کہتا ہے جو اسے پہن رہا ہے۔اری سلک کو منتخب کرکے، ممدانی محض لباس نہیں پہن رہے تھے، بلکہ اپنی اقدار کو ظاہر کررہے تھے۔ اور اس ٹائی نے کون سی اقدار پیش کیں؟چمک پر پائیداری۔ دکھاوے پر ورثہ۔ ظاہرداری پر معنیٰ۔ یہ ٹائی صرف ممدانی کی جنوب ایشیائی جڑوں کی تعریف نہیں تھی، بلکہ اس نے انہیں ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کیا جو تماشے سے زیادہ خدمت پر یقین رکھتا ہے۔ کم شوباز، زیادہ کام۔

یہ بھی پڑھئے: منگولیا نے۳۴؍ ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فری داخلہ کی مدت میں توسیع کردی

بعد ازاں اگلی چیز جس پرمتعدد لوگوں کی نظر پڑی وہ ان کا سوٹ تھا۔ظہران ممدانی نے سوٹ سپلائی سے حاصل کردہ ایک صاف ستھرا، اچھی طرح فٹ ہونے والا سوٹ پہنا، جو ایک ایسا برانڈ ہے جو اشرافیہ کی بجائے قابل رسائی سلائی کے لیے جانا جاتا ہے۔ کوئی فینسی خصوصی کلیکشن نہیں۔ انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ایک ایسے لیڈر نہیں ہیں جو لیڈر بن کر لباس پہن رہے ہوں۔ یہ ایک ایسا لیڈر تھا جو اپنی اصل وضعمیں سامنے آیا۔ سیاستی طاقت سے وابستہ مبالغہ آمیز سلہوٹ اور لگژری برانڈز کو مسترد کرتے ہوئے، وہ اس قسم کی قیادت کی راہ ہموار کر رہے تھے جو اس زندگی کو گزارنے سے پیدا ہوتی ہے جسے وہ اب ایک معنیٰ خیز طریقے سے ڈھالنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔
واضح رہے کہ ایسے دور میں جب لگژری گھڑیاں کامیابی کی علامت بن گئی ہیں، ظہران ممدانی نے اپنی کلائی پر ایک سادہ کیسیو گھڑی منتخب کی۔ سوٹ اور ٹائی نے مل کر ایک بصری مقالہ تشکیل دیا۔ یہ ایسے میئر ہیں جو علامت کو سمجھتے ہیں لیکن اس میں حد سے زیادہ ملوث نہیں ہوتے۔ کوئی ایسا جو روایت کا احترام کرتا ہے لیکن اس میں پھنسا نہیں ہے۔ ایک ایسا لیڈرجو جانتا ہے کہ طاقت کو قابل اعتبار ہونا چاہیے نہ کہ فیشنی آرائش۔تاہم آپ اس پر یقین کریں یا نہ کریں، فیشن کا ہمیشہ ایک پیغام ہوتا ہے۔ اور جب بھی کوئی سیاستدان باہر نکلتا ہے، کپڑے ایک سیاسی معنیٰ اختیار کر لیتے ہیں۔ ممدانی نے اپنے پہلے دن جو کچھ پہنا تھا وہ اہم نظر آنے کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ وہ کس طرح حکومت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں: سوچ سمجھ کر، جامع طور پر، اور بغیر غیر ضروری شور کے۔ایسا لگتا ہے کہ فیشن میں پرہیز نے اس سال کی سب سے بڑے انداز کے اظہار میں سے ایک  طرز کو جنم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK