• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماشاڈو نے اپنا نوبیل انعام ٹرمپ کوپیش کیا، ٹرمپ شکرگزار

Updated: January 16, 2026, 7:03 PM IST | Washington

وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا ماشاڈونے اپنا نوبیل انعام کا تمغہ ٹرمپ کوپیش کردیا، جس کے بعد ٹرمپ نے ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ نوبیل انعام کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ انعام منتقل یا تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

Maria Corina Machado presented her Nobel Peace Prize medal to US President Donald Trump. Photo: PTI.
ماریا کورینا مشاڈو نے اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو پیش کیا۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

وینزویلا کی حزب اختلاف کی لیڈر ماریا کورینا مشاڈو نے جمعرات کو اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں پیش کر دیا۔سی این این کے مطابق ایک نامعلوم وائٹ ہاؤس عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ یہ تمغہ اپنے پاس رکھیں گے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں، صدر ٹرمپ نے مشاڈو کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا،’’ وہ ایک حیرت انگیز خاتون ہیں جنہیں بہت کچھ سہنا پڑا ہے۔ ماریا نے میرے کام کی تعریف میں مجھے اپنا نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔ باہمی احترام کا یہ انتہائی خوبصورت اظہار ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’روس یوکرین تنازع ختم نہ ہونے کیلئے پوتن سے کہیں زیادہ زیلنسکی ذمہ دار‘‘

واضح رہے کہ ٹرمپ طویل عرصے سے نوبیل انعام کے خواہش مند رہے ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کئی جنگوں کو روکا ہے، جن میں مئی میں ہند وپاک تنازع بھی شامل ہے۔ جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ان کی فیصلہ کن سفارتی مداخلت کے اعتراف میں نوبیل انعام کیلئے نامزد کریں گے،جبکہ نئی دہلی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی ثالثی کا نتیجہ نہیں تھی۔
دریں اثناء ناروے کی نوبیل کمیٹی نے۹؍ جنوری کو کہا تھا کہ یہ انعام ’’منسوخ، تقسیم یا دوسروں کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘اس نے زور دے کر کہا، ’’ ایک تمغہ مالک بدل سکتا ہے، لیکن نوبل امن انعام جیتنے والے کا خطاب نہیں بدلا جا سکتا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ایران نے مظاہروں کے درمیان۸۰۰؍ طے شدہ پھانسیوں کو روک دیا: وہائٹ ہاؤس

یاد رہے کہ جنوری کو امریکی فوج نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلِیا فلوریس کو اغوا کر لیا تھا۔ واشنگٹن نے مادورو پر دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں ، جبکہ یہ تمام الزامات وینزویلا کی حکومت مسترد کرتی ہے۔ وینزویلا نے امریکی حکومت کی کارروائیوں کو ’’فوجی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے مادورو اور فلوریس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔مشاڈو کی یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی قیادت کے لیے ان کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں ہے۔‘‘ٹرمپ اس کے بجائے مادورو کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کی حمایت کر رہے ہیں، بشرطیکہ وہ خاص طور پر وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک امریکی رسائی دینے کے معاملے پر واشنگٹن کی ہاں میں ہاں ملاتی رہیں۔جبکہ مشاڈو کو وینزویلا میں جمہوری حقوق کی فروغ اور آمریت سے جمہوریت کی پرامن منتقلی کی کوششوں پر اکتوبر میں یہ انعام دیا گیا تھا۔وہ۲۰۲۴ء کے انتخابات میں حزب اختلاف کی مشترکہ صدارتی امیدوار تھیں، جب نکولس مادورو حکومت نے ان کی امیدواری کو روک دیا تھا۔ بعد ازاں گزشتہ سال انہیں چھپنے پر مجبور کیا گیا تھا، لیکن وہ دسمبر میں اپنا انعام وصول کرنے کے لیےحیرت انگیز طور پر ناروے کے دارالحکومت  اوسلو پہنچ گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK