Updated: January 16, 2026, 12:34 PM IST
| Tehran
ایران میں جاری احتجاج اور کشیدہ صورتحال کے تناظر میں امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ فوجی حملے مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی کارروائی سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این۔
امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک نے، ایران میں حکومت کے حق اور مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ سے ایران پر حملوں کو مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان گفتگوؤں سے واقف ایک عرب سفارتکار نے جمعرات کو خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مصر، عمان، سعودی عرب اور قطر کے اعلیٰ حکام نے گزشتہ ۴۸؍گھنٹوں کے دوران خدشات کا اظہار کیا ہے کہ امریکی فوجی حملے پہلے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دیں گے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ منڈیوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی کو محسوس کیا، جو تہران کے خلاف سخت دھمکیوں کے کئی دنوں کے بعد سامنے آئی۔ تاہم، وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’’تمام آپشنز اب بھی زیرِ غور ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ صرف صدر ٹرمپ ہی جانتے ہیں کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں، اور مشیروں کی ایک بہت ہی محدود ٹیم ان کی سوچ سے آگاہ ہے، ‘‘اور مزید کہا کہ وہ ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے ایک سفارتکار نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ٹرمپ نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ ملک پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم، تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار کرلیا
ایران کیلئے تمام آپشنز میز پر: اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ’’عمل کے آدمی‘‘ ہیں اور ایران کے معاملے میں ’’تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ ‘‘مائیک والٹز نے کہا، ٹرمپ اقوامِ متحدہ کی طرح لامتناہی بات چیت میں نہیں پڑتے۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ قتل و غارت روکنے کیلئے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، اور ایرانی قیادت کو یہ بات سب سے بہتر انداز میں معلوم ہونی چاہئے۔ ‘‘والٹز نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کے اقدامات اس کے برعکس ہیں۔ ایران کی جانب سے فوری طور پر ان کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا، ’’اب بہت ہو چکا۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایرانی عوام کی حمایت کریں اور ایرانی قوم پر مسلط اس نظام کی غفلت اور جبر کا خاتمہ کریں۔ ‘‘