Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینس بینالے کا اعلان،جنگی جرائم کے الزامات والے ممالک مقابلے سے خارج

Updated: April 25, 2026, 3:04 PM IST | London

۶۱؍ ویں Venice Biennale کی جیوری نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ممالک کی نمائندگی پر غور نہیں کرے گی جن کے لیڈروں پر بین الاقوامی فوجداری عدالت میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔ اس فیصلے سے روس اور اسرائیل عملاً گولڈن لائن اور سلور لائن ایوارڈز کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دنیا کے سب سے بڑے آرٹ پلیٹ فارمز میں شمار ہونے والے Venice Biennale نے ایک غیر معمولی اور متنازع فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے ممالک کے اندراجات کو ایوارڈز کے لیے زیر غور نہیں لائے گا جن کے قومی لیڈروں پر آئی سی سی میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد ہیں۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی جیوری نے مشترکہ بیان میں کیا، جس پر جیوری کی صدر سولنج فرکاس اور دیگر اراکین کے دستخط موجود ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بینالے صرف آرٹ کی نمائش نہیں بلکہ اپنے دور کے اہم عالمی مسائل سے جڑے رہنے کا ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کا انتباہ:غزہ کے کیمپوں میں جلدی اور متعددی بیماری میں تین گنا اضافہ

جیوری کے مطابق، آرٹ اور قومی نمائندگی کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق موجود ہے، کیونکہ بینالے میں فنکار اپنے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس لیے انسانی حقوق کے تناظر میں ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری سمجھا گیا۔ اس فیصلے کے براہِ راست اثرات روس اور اسرائیل پر پڑے ہیں۔ یاد رہے کہ ولادیمیر پوتن کے خلاف ۲۰۲۳ء میں آئی سی سی نے یوکرین سے بچوں کی جبری منتقلی کے الزام میں وارنٹ جاری کیا تھا جبکہ بنجامن نیتن یاہو پر ۲۰۲۴ء سے غزہ جنگ کے تناظر میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات زیرِ سماعت ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا یو ٹرن: ایرانی کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی ماننے سے انکار کر دیا

جیوری نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے دفاع اور کیوریٹر کویو کوہو کے وژن کے مطابق ہے، جس کا مقصد آرٹ کو عالمی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل خطے میں متعدد محاذوں — غزہ، لبنان، شام اور ایران — پر کشیدگی میں ملوث ہے اور جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ آرٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے گا کہ آیا ثقافتی پلیٹ فارمز کو سیاسی اور قانونی تنازعات سے الگ رہنا چاہیے یا انسانی حقوق کے مسائل پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK