وینس کے حکام ۲۰۲۷ء میں یومیہ سیاحتی فیس میں اضافہ اور اسے سال کے زیادہ دنوں تک نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں؛ موجودہ ۵؍ سے ۱۰؍ یورو فیس کو سیاحوں کی تعداد کم کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 3:10 PM IST | Rome
وینس کے حکام ۲۰۲۷ء میں یومیہ سیاحتی فیس میں اضافہ اور اسے سال کے زیادہ دنوں تک نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں؛ موجودہ ۵؍ سے ۱۰؍ یورو فیس کو سیاحوں کی تعداد کم کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
اٹلی کے تاریخی شہر وینس میں بڑھتی ہوئی سیاحتی بھیڑ پر قابو پانے کے لیے دن بھر کے لیے آنے والے سیاحوں سے وصول کی جانے والی فیس میں نمایاں اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ شہر کے بجٹ اور ٹیکس امور کے کونسلر میکیلے زوئن کے مطابق ۲۰۲۷ء میں فیس کو موجودہ ۵؍ سے ۱۰؍ یورو سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ ۳۰؍ یورو تک کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ رقم ابھی حتمی نہیں ہے اور مجوزہ تبدیلی کے لیے قومی حکومت سے بات چیت اور منظوری درکار ہوگی۔ زوئن نے کہا کہ موجودہ ۵؍ سے ۱۰؍ یورو فیس تقریباً ہر سیاح کے لیے قابلِ برداشت ہے اور خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے فیس کا وہ مقصد پورا نہیں ہورہا جس کے تحت اسے سیاحوں کی تعداد کو قابو میں رکھنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ ان کے مطابق فیس میں ۵۰؍ یورو تک اضافے کی بات بھی سامنے آئی تھی، تاہم حکام بالآخر اسے زیادہ سے زیادہ ۳۰؍ یورو تک محدود کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل جی سی سی وزارتی کونسل کی رابطہ میٹنگ
وینس کے نئے میئر سیمونے وینتورینی بھی جولائی میں کہہ چکے ہیں کہ موجودہ ۱۰؍ یورو فیس مصروف ترین دنوں میں سیاحوں کی آمد کو خاطر خواہ طور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق شہر ایک ایسے نظام پر غور کر رہا ہے جس میں سیاحوں کی تعداد اور طلب کے مطابق فیس میں اضافہ کیا جاسکے، یعنی سب سے زیادہ رش والے دنوں میں زیادہ رقم وصول کی جائے۔ وینس میں دن بھر کے لیے آنے والے سیاحوں پر فیس کا نظام پہلی مرتبہ ۲۰۲۴ء میں آزمایا گیا تھا۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا نظام تھا جس کے تحت شہر کے تاریخی حصے میں مخصوص دنوں میں داخل ہونے والے ایسے سیاحوں سے رقم وصول کی گئی جو وینس میں رات نہیں گزارتے۔ شہر میں قیام کرنے والے سیاح اس فیس سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ ۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں سمیت بعض دیگر زمروں کے لیے بھی استثنا موجود ہے۔
۲۰۲۶ء میں یہ نظام ۳؍ اپریل سے ۲۶؍ جولائی کے درمیان ۶۰؍ غیر مسلسل دنوں کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ فیس صبح ساڑھے ۸؍ بجے سے شام ۴؍ بجے بجے تک لاگو رہی۔ وینس میونسپلٹی کے مطابق اس مدت میں ۶۷۹۵۵۳؍ ادائیگی والے اجازت نامے جاری ہوئے اور شہر کو ۲۱۵ء۵؍ ملین یورو سے زیادہ آمدنی ہوئی۔ ان میں ۵ء۴۶؍ فیصد اجازت نامے ۵؍ یورو کی رعایتی فیس پر جبکہ ۵ء۵۳؍ فیصد ۱۰؍ یورو کی فیس پر خریدے گئے۔ میونسپلٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء میں یومیہ ادائیگی والے اجازت ناموں کی اوسط تعداد ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۳ء۳۲؍ فیصد کم رہی۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ انتہائی زیادہ سیاحتی آمد والے دنوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم شہر کی جانب سے اس نظام کو صرف آمدنی حاصل کرنے کے بجائے سیاحوں کے بہاؤ کو منظم کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: افغانستان پرپاکستان کے فضائی حملوں میں ۲۸؍ جنگجو ہلاک
وینس کو طویل عرصے سے حد سے زیادہ سیاحت کے باعث تاریخی مرکز پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ شہر کی آبادی میں کمی بھی ایک مستقل مسئلہ رہی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ایسے سیاح آتے ہیں جو چند گھنٹوں کے لیے شہر کا دورہ کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ فیس کا مقصد ایسے سیاحوں کو خاص طور پر انتہائی مصروف دنوں میں آنے سے روکنا اور انہیں نسبتاً کم رش والے اوقات کا انتخاب کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ میئر وینتورینی کے مطابق وینس کو تاریخی شہر اور بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال پر سالانہ تقریباً ۱۰۰؍ ملین خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اخراجات کا بڑا حصہ شہر کے رہائشیوں اور سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے پورا ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۷ء کی۳۰؍ یورو تک فیس ابھی نافذ نہیں ہوئی ہے۔ ۲۰۲۶ء کا تجرباتی دور ۲۶؍ جولائی کو ختم ہوچکا ہے اور اس وقت وینس میں داخلے کے لیے یہ فیس لاگو نہیں ہے۔ ۲۰۲۷ء کے لیے نئی رقم، دنوں کی تعداد اور طریقۂ کار پر آئندہ فیصلے کیے جائیں گے۔