جب گزشتہ سال مارچ میں ایران نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے کوالیفائی کیا تھا، تو ملکی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) نے یہ ہرگز نہیں سوچا تھا کہ ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت کا انحصار میزبان ملک امریکہ کی جانب سے آخری لمحات میں ملنے والے ویزوں پر ہوگا۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 6:04 PM IST | New York
جب گزشتہ سال مارچ میں ایران نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے کوالیفائی کیا تھا، تو ملکی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) نے یہ ہرگز نہیں سوچا تھا کہ ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت کا انحصار میزبان ملک امریکہ کی جانب سے آخری لمحات میں ملنے والے ویزوں پر ہوگا۔
جب گزشتہ سال مارچ میں ایران نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے کوالیفائی کیا تھا، تو ملکی فٹ بال ٹیم (ٹیم ملی) نے یہ ہرگز نہیں سوچا تھا کہ ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت کا انحصار میزبان ملک امریکہ کی جانب سے آخری لمحات میں ملنے والے ویزوں پر ہوگا۔ اسی طرح، ایرانی شائقین نے بھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ انہیں امریکہ میں داخلے سے روک دیا جائے گا۔ گزشتہ سال جون میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایران سمیت چند مخصوص ممالک کے شہریوں کو ویزوں کا اجراء روک دیا گیا تھا، جنہیں امریکہ ’’دہشت گردی کی سرپرست ریاستیں‘‘ قرار دیتا ہے۔
سب سے غیر متوقع بات یہ رہی کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے کے میزبان ملک (امریکہ) نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند ماہ قبل ہی ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ امیر قلعہ نوئی کی ٹیم کے لیے، امریکہ اور اسرائیل کی یہ مشترکہ جنگ محض ورلڈ کپ کی تیاریوں میں خلل نہیں تھی، بلکہ ایک تلخ اور ذاتی سانحہ بن گئی کیونکہ میزائل حملوں میں ملک بھر میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کے مشہور `آزادی اسٹیڈیم پر بھی بمباری کی، جہاں مقامی میچز منعقد ہوتے تھے اور قومی ٹیم ٹریننگ کرتی تھی۔ جنگ کے پہلے ہی دن میناب میں ایک اسکول پر امریکی حملے میں طالبات کی ہلاکت کے سوگ میں ایرانی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں نے نائیجیریا کے خلاف دوستانہ میچ کے دوران ہاتھوں میں اسکول کے چھوٹے بیگز تھام کر یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مہینوں سے جاری شدید سیاسی کشیدگی کے بعد، ایرانی ٹیم کو اپنا بیس کیمپ امریکہ سے منتقل کر کے میکسیکو بنانا پڑا ہے۔ اب یہ قومی ٹیم جنگ کے ہولناک سائے میں ورلڈ کپ کھیلتی نظر آئے گی، وہ بھی صرف اسی صورت میں اگر امریکہ انہیں بروقت ویزے جاری کر دے۔
ایرانی فٹ بال شائقین کے لیے ویزا کے مسائل اور جنگ کے بغیر بھی امریکہ کا سفر کرنا’’تقریباً ناممکن‘‘ تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں نہیں ہیں کیونکہ ان کے مابین کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔
تہران سے تعلق رکھنے والے ایک فٹ بال فین علی نے سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر اپنا پورا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا’’ویزے کے مسئلے کے علاوہ، تہران سے امریکہ پہنچنے کے لیے ۲؍ یا ۳؍ فضائی راستے بدلنے پڑتے ہیں۔ اس کے بعد امریکہ سے ایران واپس آنا خود ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں حکومت کی طرف سے گرفتاری کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ورلڈکپ :’صفر ڈالر‘ ادا کرنے والے شائقین سے فیفا نے درست ادائیگی کا مطالبہ کیا
جنگ کی وجہ سے ایران کے اندر بھی حکومت مخالف سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل یا امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزامات کے تحت کئی کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ سیاسی اثرات کھیل پر بھی پڑے ہیں، ایران کے اسٹار فٹبالر سردار آزمون کو مارچ میں قومی ٹیم سے اس وقت نکال دیا گیا جب انہوں نے دبئی کے حکمران محمد بن راشد آل مکتوم سے ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جسے ایرانی حکومت نے غداری سے تعبیر کیا۔ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جہاں ایران نے امارات پر امریکی حملوں کے لیے اپنی سرزمین فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:منوج باجپئی نے رامائن اور وارانسی کے بجٹ سے متعلق خبروں کو پی آر حربہ قرار دے دیا
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ، جو اب اپنے ۱۰۰؍ ویں دن کے قریب ہے، نے دنیا بھر کے شائقین کو ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے امریکہ جانے سے روک دیا ہے۔شائقین کے اس خوف کو ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں کی رپورٹس سے مزید ہوا ملی ہے، جس کے مطابق گزشتہ سال نیو جرسی میں کلب ورلڈ کپ فائنل دیکھنے کے لیے آنے والے ایک پناہ گزین کو اس کے بچوں کے سامنے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے گرفتار کر کے زبردستی ڈی پورٹ کر دیا تھا۔
کینیا سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی اسپورٹس لائیر خیران نور کا کہنا ہے کہ کھیل کو جیو پولیٹکس (عالمی سیاست) سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ’’فٹبال بلاشبہ عالمی ہے، لیکن عالمی سطح پر نقل و حرکت سب کے لیے یکساں نہیں؛ یہ ورلڈ کپ اسی تضاد کے دوراہے پر کھڑا ہے۔‘‘