• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: وسط مدتی الیکشن سے قبل ٹرمپ کی مقبولیت ۳۶؍ فیصد پر سمٹ گئی: سروے

Updated: October 23, 2026, 1:05 PM IST | Washington

۳؍ نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے تقریباً دو ہفتے قبل نئے سروے میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے صرف ۳۶؍ فیصد ممکنہ ووٹروں نے اطمینان ظاہر کیا، جبکہ ۵۹؍ فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کے انتخابی مقابلے میں ری پبلکنز پر ۱۱؍ پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی؛ مہنگائی، رہائشی اخراجات، ایندھن کی قیمتیں اور ایران کے ساتھ جنگ ووٹروں کی تشویش کے اہم موضوعات بن کر ابھرے ہیں۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکہ میں ۳؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی پوزیشن میں بہتری ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز اور سینا یونیورسٹی کے تازہ سروے کے مطابق، ٹرمپ کی صدارتی کارکردگی سے مطمئن ممکنہ ووٹروں کی تعداد ۳۶؍ فیصد رہ گئی ہے، جب کہ ۵۹؍ فیصد نے ان کی کارکردگی کو ناپسند کیا۔ یہ نیویارک ٹائمز۔سینا کے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت کی اب تک کی کم ترین سطح قرار دی گئی ہے۔ سروے ۱۲؍ سے ۱۹؍  اکتوبر کے درمیان ۳۴۹۴؍ ممکنہ ووٹروں سے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: تہران: چوراہے پر ’ٹرمپ‘ قید، شہری ہلاکتوں کے خلاف سیاسی پیغام

سروے کا ایک اہم نتیجہ کانگریس کے انتخابات کے لیے ووٹروں کی ترجیحات میں ڈیموکریٹس کی برتری ہے۔ ممکنہ ووٹروں سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنے حلقے میں ایوانِ نمائندگان کے لیے کس جماعت کے امیدوار کو ووٹ دینا پسند کریں گے تو ڈیموکریٹک امیدواروں کو ری پبلکن امیدواروں پر ۱۱؍ پوائنٹس کی سبقت حاصل ہوئی۔ یہ فرق اس بات کا اشارہ ہے کہ قومی سطح پر انتخابی ماحول میں ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس سے انفرادی حلقوں کے نتائج یا کانگریس میں اکثریت کی ضمانت نہیں ملتی۔ سینیٹ کے انتخابات میں صورتِ حال زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ وہاں کئی اہم ریاستوں میں ری پبلکن امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے پیچھے معاشی حالات اہم وجہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سروے کے مطابق، تقریباً ۶۹؍ فیصد ممکنہ ووٹروں نے رہائشی اخراجات سے نمٹنے کے صدر کے طریقۂ کار پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جب کہ تقریباً ۶۵؍ فیصد نے ایران جنگ سے متعلق ان کی پالیسی کو ناپسند کیا۔ پٹرول کی قیمتوں کے معاملے میں بھی صدر کو سخت تنقید کا سامنا ہے؛ تقریباً تین چوتھائی ووٹروں نے ایندھن کی قیمتوں سے نمٹنے کے ان کے طریقے پر ناراضی ظاہر کی۔ مجموعی طور پر تین چوتھائی کے قریب ووٹروں نے ملکی معیشت کو خراب یا کم از کم غیر تسلی بخش قرار دیا۔
مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کا مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی وہ معاملات تھے جن پر ٹرمپ نے اپنی سیاسی مہم میں ووٹروں سے بہتری کا وعدہ کیا تھا۔ اب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں، ایندھن کے بڑھتے اخراجات اور معاشی غیر یقینی انتخابی بحث کے مرکز میں ہیں۔ نیویارک ٹائمز۔سینا کے سروے میں ووٹروں نے مہنگائی اور رہائشی اخراجات سے نمٹنے کے معاملے میں ڈیموکریٹک پارٹی پر ری پبلکنز کے مقابلے میں ۱۵؍ پوائنٹس زیادہ اعتماد ظاہر کیا۔ معیشت کے مجموعی انتظام کے معاملے میں بھی ڈیموکریٹس کو ۸؍ پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی۔ یہ صورتِ حال اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ معاشی معاملات روایتی طور پر ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کی سیاسی قوت کا اہم حصہ رہے ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ کو اپنی جماعت کے ووٹروں کی بڑی تعداد کی حمایت اب بھی حاصل ہے۔ سروے میں ۸۲؍ فیصد ری پبلکن ووٹروں نے ان کی کارکردگی کی تائید کی۔ اس کے برعکس، دو تہائی سے زیادہ آزاد ووٹروں نے صدر کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ آزاد ووٹروں کی رائے خاص طور پر اہم ہوسکتی ہے، کیونکہ سخت مقابلے والے حلقوں میں ان کے ووٹ امیدواروں کے درمیان فرق پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود انتخابی نتیجہ صرف قومی مقبولیت کے اعداد و شمار پر منحصر نہیں ہوگا؛ مقامی امیدواروں کی کارکردگی، ووٹروں کی شرکت اور ریاستی و حلقہ جاتی حالات بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: پرتشدد مظاہروں کے پیچھے مسلم مہاجرین کا ہاتھ ہونے کے بے بنیاد دعوؤں کو میکرون نے مسترد کیا

ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک اور چیلنج یہ ہے کہ انتخابی مہم میں ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت اور ان سے فاصلہ رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں۔ بعض ری پبلکن امیدوار صدر کی مقبولیت میں کمی کے ماحول میں اپنی انتخابی مہم کو مقامی مسائل پر مرکوز رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، جب کہ دیگر امیدوار ٹرمپ کی حمایت کو اپنے ووٹروں کو متحرک کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کے لیے بھی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ سروے میں صرف ۲۸؍ فیصد ممکنہ ووٹروں نے ڈیموکریٹک پارٹی سے اطمینان ظاہر کیا، جو ری پبلکن پارٹی کے لیے اطمینان ظاہر کرنے والوں سے ۸؍ پوائنٹس کم تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ سے ناراضی لازماً ڈیموکریٹس کی اپنی جماعت سے مکمل وابستگی میں تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ دیگر حالیہ سروے بھی صدر کی گرتی مقبولیت اور ڈیموکریٹس کی بہتر انتخابی پوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہیں، اگرچہ اعداد و شمار میں فرق موجود ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے ۸؍ اکتوبر کو شائع ہونے والے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت ۳۰؍ فیصد اور ایوانِ نمائندگان کے انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹس کی برتری۸؍ پوائنٹس بتائی گئی تھی۔ اسی طرح واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور اِپسوس کے ۱۸؍ اکتوبر کو شائع ہونے والے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت تمام امریکی بالغوں میں ۳۳؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ان سرویز کے طریقۂ کار، نمونے اور سوالات مختلف ہیں، اس لیے ان کے اعداد و شمار کو ایک ہی پیمانے پر نہیں رکھا جاسکتا؛ تاہم یہ نتائج انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں صدر اور ان کی جماعت کو درپیش سیاسی دباؤ کی نشان دہی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK