تھانے میونسپل کارپوریشن(ٹی ایم سی) کے الیکشن کیلئے پولنگ میں ووٹروں نے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ اس دوران ایک ہی خاندان کے افراد کو الگ الگ پولنگ سینٹر بھیجنے کی بھی شکایتیں موصول ہوئیں۔
ممبرا کے ایک پولنگ بوتھ پر رائے دہندگان کی طویل قطار نظر آرہی ہے۔ تصویر: انقلاب
تھانے میونسپل کارپوریشن(ٹی ایم سی) کے الیکشن کیلئے پولنگ میں ووٹروں نے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ اس دوران ایک ہی خاندان کے افراد کو الگ الگ پولنگ سینٹر بھیجنے کی بھی شکایتیں موصول ہوئیں۔
ممبرا میں پٹیل اسکول، ممبرا دیوی میونسپل اردو اسکول، ممبرا بازار اور امرت نگر اور کوسہ کے متعدد مراکز پر بڑی تعداد میںمسلم خواتین اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتی نظر آئیں۔ ان میں معمر اور معذور افراد نے بھی حصہ لیا ۔ ممبرا بازار میں واقع سینٹ جان اسکول میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے والے عبدالحمید چوگلے سے رابطہ قائم کرنے پر انہوںنے نمائندۂ انقلاب سے بتایاکہ ’’ ہمارے خاندان کے ۴؍ افراد کا نام ایک ہی پتہ پر ووٹر لسٹ میں درج ہے اس کے باوجود ۲؍ افراد کا دیگر جگہ جبکہ میرے ۲؍ بیٹوں کو مختلف پولنگ سینٹردیا گیا ۔ اب یہاں سے ووٹنگ کے بعد مَیں میرے بیٹوں کو لے ان ۲؍ مراکز پر جاؤں گا۔ یہ بد نظمی نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
ایک پینل کے ووٹروں کا نام دوسرے پینل میں!
ٹی ایم سی میں ۴؍ وارڈوں پر مشتمل پینل سسٹم کے تحت انتخابات ہو رہے ہیں لیکن یہاں بھی ایسی شکایتیں سامنے آئی ہیںجن میں ایک پینل کے ووٹروں کانام دوسرے پینل میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح کی پریشانی سید سلیم کے رشتہ داروں کےساتھ بھی ہوئی۔ ان کے بیٹے سید اویس نے بتایاکہ ہم جیون باغ میں رہتے ہیں ،اس کےاعتبار سے ہمارانام ممبرا دیوی روڈ پر واقع پٹیل اسکول یا اس کے بازو میں واقع میونسپل اسکول کے پولنگ سینٹر پر آنا چاہئے۔میری بہن کا ووٹنگ سینٹر پٹیل اسکول ( ممبرا دیوی روڈ) دیا گیا ہے لیکن میری امی اور میرا نام پینل نمبر ۳۰ ؍ کے پولنگ سینٹر پر دیاگیا ہے اور میری بہن آفرین کا پولنگ سینٹر پینل نمبر ۳۳ ؍میں دیا گیا ہے۔ اب یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جس پینل میں ہم رہتے ہی نہیں وہاں کے امیدواروں کو ووٹ کرنے کیلئے ہمیں بھیجا جارہا ہے۔اس کے باوجود ہم نے اپنے ووٹ کو ضائع نہیں ہونے دیا۔‘‘
سست روی سے پولنگ کی شکایت
رابوڑی میں سست روی سے ووٹنگ کی شکایتیں موصول ہوئیں جس کے سبب ووٹروں کو ایک تا ڈیڑھ گھنٹے تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا، اس کےباوجود کئی مراکز پر ووٹروں کی بھیڑ نظر آئی۔