کہا: ووٹ دینا کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہے ۔ اس جمہوری عمل کیلئے تھوڑی بہت دشواری برداشت کرنے کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے تاکہ جمہوری نظام کومضبوط کرنے میںہم عملاً شریک ہوسکیںاورنام کٹ جانے کے خطرے سے بچ سکیں۔
مالونی کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹرس لسٹ میںاپنا نام تلاش کرتے ہوئے۔ تصویر: ستیج شندے
رہائش تبدیل کرکے ممبئی سے باہر بس جانے والوں نے میونسپل الیکشن کیلئے پولنگ میں حصہ لینے کی خاطر سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے شہرومضافات پہنچے اور حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اس میں ممبئی کے الگ الگ علاقوں کے مکین شامل ہیں۔بہت سے ایسے لوگوں نے تبدیل شدہ رہائشی علاقوں ہی میں اپناووٹ منتقل کرانے کی کوشش کی ہے،پروسیس جاری ہے مگر اب تک یہ عمل مکمل نہیںہوسکا ہے۔ ایسے رائے دہندگان نے جہاں ان کا نام تھا، وہاں جاکر ووٹ دیا ۔ان رائےد ہندگان کا کہنا ہے کہ ووٹ دینا کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ اس جمہوری عمل کیلئے تھوڑی بہت دشواری برداشت کرنے کیلئےبھی ہمیں تیار رہنا چاہئے تاکہ جمہوری نظام کومضبوط کرنے میںہم عملاً شریک ہوسکیں۔
مدن پورہ سے میرا روڈ منتقل ہونے والے عبدالرحمٰن انصاری نے بتایاکہ’’ووٹنگ سینٹر تبدیل کرانے کیلئے ضابطوں کی خانہ پُری کی ہے مگر اب تک یہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدنپورہ جاکر ،جہاں نا م تھا ،ووٹ دیا ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ ووٹ دینے کا مطلب یہ ہےکہ ہم نے آئندہ کے الیکشن کےلئے اپنا نام فہرست رائے دہندگان میںپختہ کرالیا ورنہ بہت سے لوگوں کےنام حذف ہونے کی شکایات ملتی ہیں، غفلت برتنے پرہمیں بھی ان مسائل کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس لئے ہرشخص کواس تعلق سے بیدار اور چوکنّا رہنا چاہئے۔‘‘
مدن پورہ، بطخ گلی میںواقع مسجد الفلاح کےمؤذن اورمدن پورہ میں مقیم حافظ جسیم الدین بھی مع اہل وعیال مالونی ووٹ ڈالنے کےلئے پہنچے ۔ انہوں نے بتایا کہ’’ یہ بہت اہم کام اورموجودہ وقت میںبڑی ذمہ داری ہے۔ ہر مسلمان کو سوچنا چاہئے کہ اس تعلق سےغفلت بڑے نقصان کاباعث ہوسکتی ہےجیسا کہ بہار اوریوپی میںالیکشن کمیشن کے ذریعے تیار کرائی جانے والی نئی فہرست ِرائے دہندگان میںہوا ہے ۔‘‘
نیرل میں مقیم عبدالواحد خان نے بتایا کہ’’ وہ پہلےکرلا میں رہتے تھے، اسی لئے انہوں نے صبح سویرے ہی اہل خانہ کے ساتھ کرلا پہنچ کرووٹ دیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ووٹ دینا ضروری ہے،ہمارا آئینی اور شرعی حق ہے اوراس کے ذریعے ہم اپنی طاقت کا اظہار کرسکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزیدکہا کہ ’’نیرل سے کرلا پہنچنے پھر دفتر کی ذمہ داریاںادا کرنےمیںیقیناً مشکل آئی مگر ووٹ دے کرجمہوری عمل میں شرکت اس سے کہیں زیادہ اہم تھی ۔اس لئے اتنے اہم کام کےلئے تھوڑی بہت دقت بشاشت سے برداشت کرنا چاہئے،جب ہمارا ووٹ نیرل میںٹرانسفر ہوجائے گا تویہ دقت نہیںہوگی۔‘‘
کلیان سے آگے کھڑولی علاقے میںمقیم ۷۷؍سالہ حسین احمد انصاری اپنےاہل خانہ کے ساتھ مالونی پہنچے اورحق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ان کا ووٹ ٹرانسفر نہیںہوا ہے ، اسی لئے وہ صبح سویرے ہی کھڑولی سے نکلے اورووٹ دیا ۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ ’’ڈھائی تین گھنٹے سفر میںلگے مگرووٹ نہ دینےسے جس بڑے نقصان کااندیشہ رہتا ،سفر کی یہ صعوبت اس کےسامنے کچھ نہیںہے۔ اس لئے ہرشخص کو ذمہ داری اوراپنے ہندوستانی ہونے کے اہم ثبوت کے طور پرووٹ ضرور ڈالناچاہئے ۔‘‘
اسی طرح محمدرازق حسین شیخ ممبرا سے مع اہل وعیال مالونی ووٹ دینے آئے ۔ ان کے مطابق ’’ کبھی کبھار کہہ دیا جاتا ہے کہ ایک ووٹ سے کیا ہوگا یا ایک دفعہ ووٹ نہیںدیا تو کیا ہوگا، ایسے لوگوں کویہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایس آئی آر کے سبب کتنے بڑےپیمانے پر ووٹ کٹ گئے اور جن کا ۲۰۰۳ء کی فہرست رائے دہندگان میں نام تھا، ان کوکس قدر راحت ملی کہ ان کوبغیرکسی دستاویز کے نام درج کرانے کا موقع ملا۔‘‘
اسی طرح کا اظہارخیال رہائش تبدیل کرنے والے چنچوٹی (نائیگاؤں) ، جوگیشوری اور سیوڑی علاقوں سے آکر ووٹ دینے والوں نے بھی کیا۔
واضح ہو کہ یہ بہت سے رائے دہندگان ایسے ہیں جنہوں نےاپنے ووٹنگ سینٹر تبدیل کرانے کیلئے نئے رہائشی علاقوں میں کوشش کی ہے مگر اب تک وہاں کی فہرست میں ان کے نام درج نہیںہوسکے ہیں۔