بی ایم سی الیکشن کیلئے جمعرات کو شہرومضافات کے مختلف پولنگ بوتھوں پر موبائل فون سے متعلق ضابطہ میں ابہام کے باعث ووٹروں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
جوگیشوری کے بہرام باغ میں پولنگ اسٹیشن پر رائے دہندگان نظر آرہے ہیں۔ تصویر:ستیج شندے
بی ایم سی الیکشن کیلئے جمعرات کو شہرومضافات کے مختلف پولنگ بوتھوں پر موبائل فون سے متعلق ضابطہ میں ابہام کے باعث ووٹروں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹروں نے بتایا کہ مختلف بوتھ پر مختلف طریقۂ کار اپنایا گیاجس سے ابتدائی اوقات میں الجھن اور تاخیر ہوئی۔
کئی پولنگ مراکز پر انتخابی عملہ اور پولیس اہلکار ووٹروں کو موبائل فون اندر لے جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے جبکہ بعض مقامات پر فون کو بند حالت میں ووٹنگ روم تک لے جانے کی اجازت دی گئی۔ اس غیر یکساں عمل نے خاص طور پر صبح سویرے ووٹ ڈالنے آنے والے شہریوں کو پریشان کیا۔بعض ووٹروں نے کہا کہ موبائل فون ان کیلئے ضروری تھے کیونکہ ای ووٹنگ سلپس انہیں میسیجنگ ایپلیکیشنز کے ذریعے موصول ہوئی تھیں جن میں سیریل نمبر اور ووٹنگ روم سے متعلق تفصیلات درج تھیں۔ ایک خاتون ووٹر نے بتایا کہ ووٹنگ کے آغاز کے فوراً بعد وہ پولنگ بوتھ پہنچی جہاں انہوں نے موبائل فون پر موجود ای ووٹنگ سلپ دکھائی اور فون کو پولنگ روم میں فراہم کئے گئے محفوظ پلاسٹک پاؤچ میں رکھ دیا ، بغیر کسی کاغذی سلپ کے ووٹ ڈال دیا۔
سِوک الیکشن ڈپارٹمنٹ نے پہلے ہی وضاحت کی تھی کہ ووٹر موبائل فون پولنگ بوتھ تک لا سکتے ہیں۔ تاہم ووٹنگ کے دوران فون بند رکھنا ضروری ہے۔ اس کے باوجود شہریوں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر اس ہدایت پر یکساں عمل نہیں ہوا اور کئی مقامات پر ووٹروں کو فون کے ساتھ اندر جانے سے روک دیا گیاجس سے ناراضگی پائی گئی۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا اور مکینوں کے گروپس میں بھی بڑے پیمانے پر بحث دیکھنے کو ملی جہاں ووٹروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ابہام ووٹر ٹرن آؤٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔ شہریوں نے نشاندہی کی کہ دفاتر جانے والے کئی افراد صبح جلدی ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے موبائل فون گھر چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ اکیلے آنے والے ووٹروں نے یہ بھی کہا کہ اگر فون اندر لے جانے کی اجازت نہ ہو تو انہیں رکھنے کیلئے کوئی محفوظ جگہ میسر نہیں ہوتی۔
مانخورد کے ایک رہائشی نے بتایا کہ صبح کے مصروف اوقات میں موبائل فون پر پابندی کے باعث بعض افراد ووٹ ڈالے بغیر واپس جا سکتے ہیں۔ بعد ازاں دن میں عملے نے دوبارہ وضاحت کی کہ موبائل فون پولنگ مراکز میں لانے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ بند ہوں اور تمام بوتھوں پر اس اصول کے یکساں نفاذ کی اپیل کی تاکہ مزید الجھن سے بچا جاسکے۔