Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویلز: خشک سالی کا اعلان، شدید گرمی اور کم بارش سے آبی بحران مزید سنگین

Updated: August 01, 2026, 12:03 PM IST | London

ویلز میں بگڑتی ہوئی موسمی صورتحال کے باعث پورے ملک میں باضابطہ طور پر خشک سالی (Drought) نافذ کر دی گئی ہے۔ قدرتی وسائل کے ادارے نیچرل ریسورسز ویلز (NRW) کے مطابق مسلسل شدید گرمی، غیر معمولی کم بارش، گرتی ہوئی دریائی سطح اور پانی کے ذخائر پر بڑھتے دباؤ نے اس فیصلے کو ناگزیر بنا دیا۔ حکام نے شہریوں، صنعتوں اور زرعی شعبے سے پانی کے محتاط استعمال کی اپیل کی ہے جبکہ ماحولیات اور جنگلی حیات پر بھی سنگین اثرات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

برطانیہ کے علاقے ویلز میں مسلسل خراب ہوتی موسمی صورتحال کے پیش نظر پورے ملک کو سرکاری طور پر خشک سالی زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اعلان نیچرل ریسورسز ویلز (Natural Resources Wales - NRW) نے کیا، جس کا کہنا ہے کہ مسلسل کم بارش، شدید گرمی اور دریاؤں میں پانی کی انتہائی کم سطح نے پورے خطے کو خشک سالی کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ادارے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور اب ویلز کے تمام آبی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی ہے، لیکن وہ پانی کے ذخائر، زیرزمین آبی وسائل اور دریاؤں کی بحالی کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ 
نیچرل ریسورسز ویلز نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ویلز بھر میں حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں، اسی لیے پورے ملک میں خشک سالی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔‘‘ ادارے نے مزید کہا کہ ’’ہم عوام، کاروباری اداروں اور تمام پانی استعمال کرنے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پانی کا انتہائی ذمہ داری سے استعمال کریں تاکہ محدود آبی وسائل پر دباؤ کم کیا جا سکے۔‘‘ حکام کے مطابق مسلسل خشک موسم نے دریاؤں کے بہاؤ کو غیر معمولی حد تک کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں آبی حیات، جنگلی جانوروں، مچھلیوں اور دیگر قدرتی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کئی علاقوں میں دریاؤں کا پانی معمول سے کہیں کم ہو چکا ہے جبکہ بعض مقامات پر الجی (Algae) کی افزائش اور پانی کے معیار میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق جولائی ۲۰۲۶ء ویلز کی تقریباً ۱۹۰؍ برس کی تاریخ کے خشک ترین جولائی مہینوں میں شمار ہو سکتا ہے، جہاں کئی علاقوں میں معمول کی بارش کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی ریکارڈ کیا گیا۔ اس غیر معمولی خشک موسم نے جنگلاتی آگ کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ادھر برطانیہ کے دیگر حصوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ایک روز قبل انگلینڈ کے نصف سے زیادہ علاقے بھی سرکاری طور پر خشک سالی کی زد میں قرار دیے گئے تھے، جبکہ متعدد واٹر کمپنیاں ہوز پائپ (Hosepipe) پابندیاں نافذ کر چکی ہیں، جن سے کروڑوں صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل گرمی اور بارش کی کمی نے پورے برطانیہ میں پانی کی فراہمی، زراعت اور ماحولیات کے لیے بڑے چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں برطانیہ میں بار بار آنے والی گرمی کی لہروں اور خشک سالی کے واقعات موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پانی کے بہتر انتظام، نئے ذخائر کی تعمیر اور طویل مدتی حکمت عملی کے بغیر مستقبل میں ایسے بحران مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ ویلز کی حکومت اور متعلقہ اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری پانی کے استعمال سے گریز کریں، باغات اور گاڑیاں دھونے کے لیے پانی کے استعمال کو محدود رکھیں اور روزمرہ زندگی میں پانی کی بچت کو ترجیح دیں تاکہ آبی وسائل پر دباؤ کم کیا جا سکے اور خشک سالی کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK