Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈی سیلینیشن پلانٹ سے مہاویر نگر تک سرنگ بنانے کے پروجیکٹ کو منظوری

Updated: August 01, 2026, 12:23 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

اس پروجیکٹ کو منظور کرانے کیلئے حکمراں محاذ نے اپنے ۲؍بیمار کارپوریٹروں کو بھی ووٹنگ کیلئے بلایا، اپوزیشن کی جانب سےسخت مخالفت۔

Details of the tunnel were given through a presentation. Photo: INN
پریزینٹیشن کے ذریعہ سرنگ کی تفصیلات بتائی گئیں۔ تصویر: آئی این این

سمندر کے کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے کے منوری میں واقع پلانٹ سے مہاویر نگر تک سرنگ کے ذریعہ پانی پہنچانے کے پروجیکٹ کو اسی ماہ کی ابتداء میں منظوری نہ ملنے کے بعد اس کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گزشتہ روز دوبارہ پیش کیا گیا جسے زیادہ ووٹوں کی بنیاد پر منظوری دے دی گئی۔قابل ذکر ہے کہ حکمراں محاذ نے ووٹنگ میں تعداد کم پڑنے کے خوف سے اپنے ۲؍ بیمار کارپوریٹروں کو بھی میٹنگ میں بلا لیا تھا۔ 

جن ۲؍ بیمار کارپوریٹروں کو بلایا گیا تھا وہ بی جے پی کے شیوکمار جھا اور راکھی جادھو ہیں۔ ان میں سے راکھی جادھو بظاہر بیمار نظر نہیں آرہی تھیں لیکن شیوکمار جھا ٹھنڈ سے بچنے کیلئے اس موضوع پر بحث شروع ہونے سے کچھ دیر قبل شال اوڑھ کر اسٹینڈنگ کمیٹی کے کمرے میں داخل ہوئے اور پھر کچھ دیر میں ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے اپنے کانوں پر بھی رومال باندھ لیا۔ ووٹنگ کے کچھ وقفہ بعد چیئر مین پربھاکر شندے نے انہیں جانے کی اجازت دے دی تو وہ چلے گئے۔ووٹنگ کے وقت حکمراں محاذ کے بی جے پی، شیوسینا (شندے) اور این سی پی (اجیت) کے تقریباً ۱۴؍ کارپوریٹر اور اپوزیشن کے کانگریس، شیوسینا (ادھو) اور ایم این ایس کے تقریباً ۱۰؍ کارپوریٹر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایف ڈی اے کی کارروائیوں سے ریسٹورنٹ اور ہوٹل مالکان پریشان

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی منوری میں سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ سے پانی کو سرنگ کے ذریعہ پہنچانے کے پروجیکٹ کو منظوری کیلئے لایا گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن لیڈروں نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ پہلے بھی اور گزشتہ روز بھی کانگریس لیڈر اشرف اعظمی نے کئی اعتراضات کئے جس سے دیگر اپوزیشن لیڈروں نے بھی اتفاق کیا۔

انہوں نے بحث کے دوران کہا کہ شہریوں کو پانی مہیا کرنے کے کسی بھی پروجیکٹ پر اپوزیشن کو کوئی اعتراض نہیں ہے سارا کام شفافیت سے ہو اور شہریوں کا پیسہ بچے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ اور سرنگ کے پروجیکٹ کا ٹینڈر علیٰحدہ کیوں نکالا گیا، جب یہ کام کرنا ہی تھا تو ایک ہی پروجیکٹ میں دونوں کو شامل کیا جاتا جس سے اس کام کا تجربہ رکھنے والی بڑی بڑی غیرملکی کمپنیاں بھی ٹینڈر میں شامل ہوتیں، اس سے کمپنیوں کے درمیان مقابلہ آرائی سے سستا ٹینڈر بھرا جاتا اور بی ایم سی کے پیسوں کی بچت ہوتی۔

اس تعلق سے ایڈیشنل میونسپل کمشنر ابھیجیت بانگر نے کمیٹی کو بتایا کہ ہندوستانی کمپنیاں گزشتہ چند برسوں سے سرنگیں بنانے کا کام کر رہی ہیں اور انہیں اس کام کا اچھا تجربہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ان کو ترجیح دی گئی۔اشرف اعظمی نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ اس کام کو وقت پر پورا کرنے پر ٹھیکیدار کمپنی کو ۱۸؍ کروڑ روپے انعام کے طور پر دینے کی بات کہی گئی ہے لیکن اگر کام میں تاخیر ہوتی ہے تو اس سے خرچ بڑھ جاتا ہے اس کے باوجود تاخیر کی صورت میں جرمانہ عائد کرنے کی شرط عائد نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی ایم سی افسران یہ سب کام کرنے کے اہل ہیں اس کے باوجود ان کاموں کو نجی کمپنیوں کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’پانچ سال میں گھر بنا، چند منٹوں میں ملبہ‘‘

کانگریس کی تُلیپ مرانڈا نے سوال کیا کہ یہ سرنگ کھاڑی کے اندر سے گزرے گی اور اگر سرنگ میں کہیں پانی کا رسائو شروع ہوگیا تو اس کی مرمت کیسے کی جائے گی اس کا کیا انتظام کیا گیا ہے۔ دیگر چند کارپوریٹروں نے بھی مختلف سوالات اٹھائے۔

ایڈیشنل کمشنر بانگر نے ان کا جواب دیا لیکن یہ کارپوریٹر مطمئن نہیں تھے جس پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین پربھاکر شندے نے میٹنگ میں موجود کارپوریٹروں کے ذریعہ ہاتھ اٹھاکر اس پروجیکٹ کو منظوری دینے کے حق اور مخالفت میں ووٹ دینے کو کہا۔ چونکہ حکمراں محاذ کے کارپوریٹروں کی تعداد زیادہ تھی اس لئے اسے منظوری دے دی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK