یوکرین کے ساتھ جنگ نے روسی معیشت پر شدید دبائو ڈالا ہے، جس کے سبب سرکاری خرچ بڑھ رہا ہے، روسی کرنسی متاثر ہو رہی ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 25, 2026, 2:04 PM IST | Mascow
یوکرین کے ساتھ جنگ نے روسی معیشت پر شدید دبائو ڈالا ہے، جس کے سبب سرکاری خرچ بڑھ رہا ہے، روسی کرنسی متاثر ہو رہی ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
یوکرین کے ساتھ جاری جنگ نے روس کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایک طرف اس کا سرکاری خرچ تیزی سے بڑھ رہا ہے تو وہیں دوسری طرف روسی کرنسی روبیل پر دباؤ اور مہنگائی نے حالات مشکل بنا دیے ہیں۔ یوکرین سے جنگ کے درمیان معاشی دباؤ کس قدر گہرا ہو چکا ہے، اس کا اندازہ روس کے حالیہ اقدام سے لگایا جا سکتا ہے۔ ولادیمیر پوتن کی حکومت نے ۲۰۲۶ءمیں اب تک تقریباً ۲۲؍ٹن سونا فروخت کر دیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کو سنبھالا جا سکے۔ یوکرین جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے ساتھ دفاعی اخراجات، توانائی سے جڑے اخراجات اور کرنسی پر دباؤ نے معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حالات کو سنبھالنے کیلئے روس سونا فروخت کر رہا ہے اور اس فیصلے نے عالمی گولڈ مارکیٹ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ روس کےسینٹرل بینک نے ۲۰۲۶ء میں اب تک ۲۱ء۸؍ ٹن سونا فروخت کیا ہے، جو تقریباً ۲۲؍ ہزار کلوگرام کے برابر ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک کا بجٹ خسارہ مارچ کے آخر تک ۶۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ روسی سینٹرل بینک کے مطابق یکم اپریل۲۰۲۶ء تک سونے کے ذخائر۲؍ ہزار۳۰۴؍ ٹن رہ گئے ہیں، جن میں صرف مارچ کے مہینے میں ہی۶ء۲۲؍ ٹن کی کمی درج کی گئی ہے۔ دراصل یوکرین کے ساتھ جاری جنگ نے روس کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایک طرف سرکاری اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، تو دوسری جانب روبیل (روسی کرنسی) پر دباؤ اور مہنگائی نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اسی دوران گھریلو سطح پر سونے کی طلب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آر بی آئی نے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کا لائسنس منسوخ کر دیا
ماسکو ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں سونے کی تجارت کا حجم سالانہ بنیاد پر ۳۵۰؍ فیصد سے زیادہ بڑھ کر۴۲؍ ٹن تک پہنچ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سونے کی فروخت کے باوجود اس کی مجموعی قدر میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب برقرار ہیں۔ جنوری میں قیمتیں ۵؍ ہزار ڈالر فی اونس سے اوپر پہنچنے کے بعد روس نے ۳؍ لاکھ اونس سونا فروخت کیا تھا، جس سے تقریباً ۱ء۶۸؍ ارب ڈالر حاصل کئے گئے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے بجٹ خسارہ، قرض اور معیشت کی دگرگوں حالت سے پریشانی میں روس اس معاملے میں تنہا نہیں ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کے سینٹرل بینک بڑھتے ہوئے اخراجات، خاص طور پر دفاع اور توانائی کے شعبوں کو پورا کرنے کے لئے اپنا اپنا سونا فروخت کر رہے ہیں۔ تاہم طویل مدت میں روس نے اپنے سونے کے ذخائر کو مضبوط ہی کیا ہے۔ ۲۰۰۲ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان اس نے ۱۹۰۰؍ٹن سے زیادہ سونا خریدا تھالیکن ۲۰۲۰ء کے بعد خریداری کی رفتار کافی سست ہو گئی۔ اس دوران چین کے ساتھ روس کی سونے کی تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چین کو قیمتی دھاتوں کی برآمدات ۲۰۲۵ءکی پہلی ششماہی میں تقریباً دوگنی ہو گئیں۔ ساتھ ہی، گھریلو سطح پر بھی لوگوں نے اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں روسی شہریوں نے ریکارڈ ۷۵؍ٹن سونا خریدا تھا۔