Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی دہلی میں احتجاجی طلبہ کو کارروائی کا انتباہ

Updated: August 29, 2026, 10:22 AM IST | Agency | New Delhi

مگر اسٹوڈنٹس پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، لگاتار ۵؍ ویں دن ’جانچ، معاوضہ اور استعفیٰ ‘کے مطالبہ پر اٹل۔

Friday marked the fifth day of protests at IIT Delhi. Picture: INN
آئی آئی ٹی دہلی میں جمعہ کو احتجاج کا پانچواں دن تھا۔ تصویر: آئی این این
آئی آئی ٹی دہلی میں ۲۲؍اگست کو ایم ایس سی کے طالب علم رشی کیش کی خودکشی  کے معاملے میں  جمعہ کو لگاتار ۵؍ ویں دن طلبہ نے احتجاج کیا اور ’’جانچ، معاوضہ اور استعفیٰ‘‘ کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔ اس معاملے میں آئی آئی ٹی دہلی نے  طلبہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے دہلی ہائی کورٹ کے سابق  جج مکتا گپتا کی قیادت میں ایک جانچ کمیٹی بنائی ہے، جو آئندہ دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاہم طلبہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔
 
 
 اس بیچ طلبہ بڑی تعداد میں مسلسل ۴؍ دنوں سے آئی آئی ٹی کے کیمپس میں احتجاج کررہے ہیں ۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ رشی کیش کی خودکشی اس سال کی دوسری خودکشی ہے اور آئی آئی ٹی انتظامیہ اس کا ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق آئی آئی ٹی انتظامیہ نے رشی کیش کو کیمپس کے باہر رہنے پر مجبور کیا، وہ ذہنی دباؤ میں تھا جس کی وجہ سے  خودکشی کرنے پر مجبور ہوا۔ طلبہ نے  ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ 
اس بیچ  آئی آئی ٹی دہلی کے ڈائریکٹر رنگن بنرجی نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ کیمپس کے پُرامن ماحول میں خلل ڈالنے والے افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ یہ انتباہ۲۷؍اگست کی رات طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر صورتحال کشیدہ ہونے اور ’نامناسب، توہین آمیز اور دھمکی آمیز نعروں‘ کے بعد جاری کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK