مگر اسٹوڈنٹس پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، لگاتار ۵؍ ویں دن ’جانچ، معاوضہ اور استعفیٰ ‘کے مطالبہ پر اٹل۔
آئی آئی ٹی دہلی میں جمعہ کو احتجاج کا پانچواں دن تھا۔ تصویر: آئی این این
آئی آئی ٹی دہلی میں ۲۲؍اگست کو ایم ایس سی کے طالب علم رشی کیش کی خودکشی کے معاملے میں جمعہ کو لگاتار ۵؍ ویں دن طلبہ نے احتجاج کیا اور ’’جانچ، معاوضہ اور استعفیٰ‘‘ کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔ اس معاملے میں آئی آئی ٹی دہلی نے طلبہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج مکتا گپتا کی قیادت میں ایک جانچ کمیٹی بنائی ہے، جو آئندہ دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاہم طلبہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔
اس بیچ طلبہ بڑی تعداد میں مسلسل ۴؍ دنوں سے آئی آئی ٹی کے کیمپس میں احتجاج کررہے ہیں ۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ رشی کیش کی خودکشی اس سال کی دوسری خودکشی ہے اور آئی آئی ٹی انتظامیہ اس کا ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق آئی آئی ٹی انتظامیہ نے رشی کیش کو کیمپس کے باہر رہنے پر مجبور کیا، وہ ذہنی دباؤ میں تھا جس کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوا۔ طلبہ نے ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
اس بیچ آئی آئی ٹی دہلی کے ڈائریکٹر رنگن بنرجی نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ کیمپس کے پُرامن ماحول میں خلل ڈالنے والے افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ یہ انتباہ۲۷؍اگست کی رات طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر صورتحال کشیدہ ہونے اور ’نامناسب، توہین آمیز اور دھمکی آمیز نعروں‘ کے بعد جاری کیا گیا۔