اس سے قبل انعام داروں اور متولیوں کی جانب سے سابق کارپوریٹر شیخ مقصود گوندوالے پر الزامات عائد کیے گئے تھے، اب انہوں نے ان الزامات کا جواب دیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 2:05 PM IST | ZA Khan | Nanded
اس سے قبل انعام داروں اور متولیوں کی جانب سے سابق کارپوریٹر شیخ مقصود گوندوالے پر الزامات عائد کیے گئے تھے، اب انہوں نے ان الزامات کا جواب دیا ہے۔
وقف اراضی پر پلاٹنگ، زمین کے لین دین اور مبینہ تجاوزات کے معاملے پر بھوکر میں جاری تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے ۔ اس سے قبل انعام داروں اور متولیوں کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں سابق کارپوریٹر شیخ مقصود گوندوالے پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کے جواب میں گوندوالے نے پریس کانفرنس کرکے اپنا موقف پیش کیا اور متعلقہ انعام داروں اور متولیوں کے کردار پر براہِ راست سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابات قریب آتے ہی خواتین کو لبھانے کی کوششیں تیز
گوندوالے نے الزام عائد کیا کہ وقف کی جو زمینیں مخصوص مقاصد کے لیے دی گئی ہیں، بعض مقامات پر ان کے اصل مقصد کو نظرانداز کیے جانے کا معاملہ سامنے آرہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض انعام داروں اور متولیوں کی جانب سے وقف اراضی کی مبینہ فروخت، پلاٹنگ اور زمین کے لین دین کی شکایات سامنے آئی ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ وقف یا انعام کی شکل میں دی گئی زمین آخر کس مقصد کے لیے مختص کی گئی ہے، اس کا استعمال کن قوانین کے تحت ہونا چاہئے اور ان زمینوں کے اصل مستحقین کون ہیں، یہ سب سے پہلے واضح کیا جانا ضروری ہے۔ گوندوالے نے براہِ راست سوال اٹھایا کہ زمین وقف کے مقصد کے لیے ہے یا پلاٹنگ اور فروخت کیلئے؟ انہوں نے متعلقہ زمینوں کے پرانے ریکارڈ، منتقلی، لین دین اور پلاٹنگ سے متعلق دستاویزات کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض انعام داروں اور متولیوں کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے شہریوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گوندوالے کے مطابق، وقف اراضی پر پلاٹنگ کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو مبینہ طور پر دھمکایا جاتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔گوندوالے نے مزید دعویٰ کیا کہ متعلقہ زمینوں پر گزشتہ۴۰؍ سے۵۰؍ برس سے رہائش پذیر بعض مکینوں پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، زمین خالی کرنے یا زمین سے متعلق لین دین کرنے کے لیے مبینہ طور پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔سابق کارپوریٹر نے وقف بورڈ کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے وقف بورڈ کے چیئرمین سمیر قاضی اور بعض وقف افسران پر کچھ انعام داروں اور متولیوں کے ساتھ ملی بھگت کے الزامات عائد کیے۔ گوندوالے نے کہا کہ لین دین ا ور پلاٹنگ کے معاملے میں وقف حکام کی جانب سے کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔گوندوالے نے اس سے قبل منعقدہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متعلقہ انعام داروں اور متولیوں نے وقف اراضی پر پلاٹنگ کے معاملے میں واضح معلومات فراہم کرنے کے بجائے سوالوںکے تسلی بخش جواب نہیں دئیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الزام تراشی کے بجائے وقف اراضی سے متعلق تمام دستاو یز ات اور لین دین کی مکمل جانچ کی جائے۔