اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کے مذموم ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے تباہ شدہ غزہ کو تقسیم کرنے والی یلو لائن کے دورے پر اپنے مذموم مقاصد عیاں کئے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 12:22 PM IST | Agency | Tel Aviv
اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کے مذموم ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے تباہ شدہ غزہ کو تقسیم کرنے والی یلو لائن کے دورے پر اپنے مذموم مقاصد عیاں کئے۔
اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کے مذموم ارادے کا اظہار کیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے تباہ شدہ غزہ کو تقسیم کرنے والی یلو لائن کے دورے پر اپنے مذموم مقاصد عیاں کئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ۶۰؍ فیصد غزہ پر ہمارا قبضہ ہے ا ور ہم مزید آگے بڑھنے والے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینی آبادی کو نکالنے کے منصوبے کے لیے تیار ہے ،تاہم اس معاملے میں امریکہ کی منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاٹز نے کہا کہ غزہ کے مسئلے کا مستقل حل فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے سمندری، فضائی اور دیگر راستوں سے کارروائی کرنے کی تیاری رکھتی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز ختم نہیں ہوئی بلکہ اس پر اب بھی غور جاری ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی منظوری ضروری ہوگی۔کاٹز نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی کثیر تعداد میں آبادی وہاں سے نکلنا چاہتی ہے، تاہم تنظیم حماس انہیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے:OpenAI اے آئی سسٹمز کیلئے ’خودکار شٹ ڈاؤن‘ صلاحیت تیار کر رہا ہے: رپورٹ
دوسری جانب فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی تجویز کو شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے بڑے پیمانے پر بے دخلی کا تصور۱۹۴۸ء کے ’نکبہ‘ کی یاد تازہ کرتا ہے جب کثیر تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے تھے۔بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے سے شہریوں کی جبری بے دخلی کو جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں پہلے ہی کثیر تعداد میں فلسطینی اندرونِ غزہ نقل مکانی کرچکے ہیں۔