Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال: اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے بجٹ میں ۶۲؍ فیصد کی تخفیف

Updated: June 26, 2026, 5:03 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے اقلیتی امور کے بجٹ میں ۶۲؍ فیصد کی تخفیف کردی ہے، ۲۰۲۶ء اور ۲۷ء کیلئے عبوری بجٹ ۵۷۱۳؍ اعشاریہ۶۱؍ کروڑ سے گھٹا کر ۲۱۷۵؍ اعشاریہ ۴۳؍ کروڑ کردیا گیا ہے، حکومت کا یہ اقدام وزیر اعلیٰ کے ذریعے مسلمانوں کو پسماندہ طبقات کی فہرست میںشامل کئے جانے کے ممتا بنرجی کے فیصلے کو کاالعدم قرار دئے جانے کے ایک ماہ بعد آیا ہے۔

مگربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری۔ تصویر: آئی این این
مگربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال کی بی جے پی کی حکومت نے اپنا عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے ریاست کی اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے بجٹ میں ۶۲؍ فیصد کی تخفیف کرتے ہوئے اسے ۵۷۱۳؍ اعشاریہ۶۱؍ کروڑ سے گھٹا کر ۲۱۶۵؍ اعشاریہ ۴۳؍ کروڑ کردیا ۔ یہ اقدام سوویندو ادھیکاری حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی انتظامیہ کے اس فیصلے کو منسوخ کرنے کے ایک ماہ بعد آیا ہے، جس میں کئی مسلم برادریوں کوپسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔۲۰۲۶ء-۲۷ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سواپن داس گپتا نے اس شعبے کے لیے۱۶۵؍ اعشاریہ۴۲؍ کروڑ روپے تجویز کیے۔ٹی ایم سی کے دور میں قلیتی شعبے کو سالانہ۵۰۰۰؍کروڑ روپے سے زائد کی رقوم ملتی رہیں۔ ۲۰۲۳ء-۲۴ء میں بجٹ  ۵۱۶۶؍ اعشاریہ۹۹؍ کروڑ، ۲۰۲۴ء-۲۵ء میں۵۵۳۰؍اعشاریہ۶۶؍ کروڑ، ۲۰۲۵ء-۲۶ء میں۵۶۰۲؍اعشاریہ ۲۹؍ کروڑ، اور ۲۰۲۶ء-۲۷ء کے عبوری بجٹ میں۵۷۱۳؍ اعشاریہ۶۱؍ کروڑ روپے تھے۔

یہ بھی پڑھئےـ: تمل ناڈو: وزیر اعلیٰ وجے نے ۳۰۰؍ نئی بسوں کی خدمات کا افتتاح کیا

بعد ازاں نئے بجٹ میں متعدد اقلیتی فلاحی اسکیموں کے لیے فنڈ میں بھی کمی کی گئی ہے۔ غریب اقلیتی خواتین کے لیے رہائشی اسکیم، جسے سابقہ حکومت نے ۱۰ کروڑ روپے دیے تھے، کے لیے کوئی مختص رقم نہیں رکھی گئی۔عیک یہ شری اسکالرشپ کی رقم ۲۰۲۵ء-۲۶ء میں ۷۴۱ کروڑ اور ۲۰۲۴ء-۲۵ء میں ۶۰۰ کروڑ سے گھٹا کر۲۵۰؍ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ جبکہ مدرسوں کے طلبہ سمیت تمام طلبہ کے لیے سبوج ساتھی سائیکل اسکیم کا فنڈ ۱۰۰ کروڑ سے کم کر کے ۱۵؍اعشاریہ ۵؍ کروڑ روپے کر دیا گیا۔اسی طرح اقلیتی ترقی و فلاحی اسکیموں کے لیے مختص رقم ۲۰۲۵ء-۲۶ء میں ۱۰۳؍ کروڑ اور ۲۰۲۴ء-۲۵ء میں ۸۵؍ کروڑ سے کم کر کے ۲۱ کروڑ روپے کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: باڑمیر: مساجد کی حمایت میں برادران وطن سڑکوں پر

بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ’’اقلیتوں کو بے وقوف بنایا‘‘ اور والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو مدرسوں میں پڑھنے کے بجائے پیشہ ورانہ کیریئر اپنانے کی ترغیب دیں۔جبکہ ٹی ایم سی لیڈروںجن میں حزب اختلاف لیڈر ریتا برتا بنرجی اور ایم ایل اے کنال گھوش نے فنڈنگ میں کمی کی مخالفت کی، جبکہ آئی ایس ایف کے ایم ایل اے نو شاد صدیقی نے بی جے پی پر اقلیتوں کو پسماندہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ریتا برتا بنرجی نے کہا کہ حکومت کا نعرہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ بجٹ میں نظر نہیں آتا۔عام جنتا اناین پارٹی کے ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے سماجی ترقی میں رکاوٹ آ سکتی ہے اور حکومت کی تصویر خراب ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سید ناصر حسین نے الزام لگایا کہ یہ اقلیت مخالف رویہ ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کا طرز حکمرانی اقلیت مخالف ہے۔‘‘ 
تاہم وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے مختص رقم میں کمی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت نے اس شعبے کے لیے۵۰۰۰؍ کروڑ سے زائد کا بجٹ بنایا تھا لیکن صرف۲۵۰۰؍ کروڑ روپے خرچ کیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK