Inquilab Logo Happiest Places to Work

باڑمیر: مساجد کی حمایت میں برادران وطن سڑکوں پر

Updated: June 26, 2026, 9:57 AM IST | Farzan Qureshi | New Delhi

سرحدی علاقوں کے چار اضلاع میں اب تک ۳۵۰؍ مساجد کو نوٹس جاری کئے گئے، باڑمیر میں ’آپریشن کلین‘ کے تحت صرف مساجد کو نشانہ بنانے کا الزام، جماعت اسلامی کے ریاستی صدر نظام الدین نے حالات پرتشویش ظاہر کی،برادران وطن کا کہنا ہےکہ آج مسلمانوں کے بُرے وقت میں ہم ان کے سا تھ ہیں۔

In Barmer, fellow countrymen are supporting Muslims and raising their voices for the protection of mosques and shrines. Photo: INN
باڑمیر میں برادران وطن مسلمانوں کی حمایت کر رہے ہیں اور مسجد ومزارات کے تحفظ کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

راجستھان کے باڑمیر میں آج بھی انہدامی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ مالویہ نگر واقع نورانی مسجد انہدام کے بعد سیکڑوں مساجد پر خطرہ لاحق ہے۔ اطلاع کے مطابق راجستھان کے سرحدی علاقوں یعنی ۱۰۷۰؍کلومیٹر کے چار اضلاع میں قریب ۳۵۰؍ مساجد کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ بی ایس ایف نے اس تعلق سے آپریشن کلین چلارکھا ہے۔ اس آپریشن کے تحت اب تک چار مساجد شہید کی جاچکی ہیں۔ اے پی سی آر نے جودھپور ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے اسٹے کی درخواست کی ہے۔ اس دوران خوش آئند خبر یہ بھی ہے کہ مساجد اور مزارات کے انہدام کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو طبقہ کے لوگ اب سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ادھر جماعت اسلامی کے ریاستی صدر نظام الدین نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کی وجہ سے اب بلڈوزر کی رفتار کچھ کم ہوتی نظر آرہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آج یوم عاشورہ، سخت سیکوریٹی، جلوس کی تیاریاں مکمل

آج جہاں شرپسند عناصر دہلی سمیت ملک بھر میں مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے خلا ف منظم سازش کر رہے ہیں اور عدالتوں کا بھی سہارا لیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی مساجد کے انہدام پر جشن منایاجارہاہے۔ اس کے برعکس باڑ میرمیں ہندو طبقہ کے لوگ مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف اب سڑکوں اتر آئے ہیں۔ علاقہ کی ہندوآباد ی کا کہنا ہے کہ صرف مسلمانوں کی ہی مساجد کو نشانہ بنایا جارہا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انھوںنے کہا کہ ہم صدیوںسے یہاں ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور کبھی مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوئی،سبھی ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ساتھ رہے اور آج مسلمانوں پر برا وقت ہے تو ہم ایسے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ باڑمیر کے تازہ حالات پر نمائندہ نے جماعت اسلامی کے ریاستی صدر نظام الدین سے بات چیت کی۔ انھوںنے بتایا کہ ابھی بھی خطرہ برقرار ہے، لیکن چند روز سے جو احتجا ج ہوئے اور اب ہندو برادری بھی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھار ہی ہے ۔اس سے بلڈوزر کی رفتار کم ہوئی اور اب انتظامیہ بھی اندھا دھند کارروائی کرنے سے گریز کررہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ابھی تو فی الحال کچھ امن ہے ۔ وہیں اے پی سی آر کے جنرل سکریٹری ندیم خاںنے جو اس معاملے پر ہر طرح سے تعاون کررہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس پورے سرحدی علاقے میں قریب ساڑھے تین سومساجد کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں اور نوٹس بھی تاخیر سے دیے جارہے ہیں،جیسے رات کو نوٹس چسپاں کیا اور صبح انہدامی کارروائی کردی گئی۔ اس سے صاف ہے کہ یہاں منصوبہ بند کارروائی کی جارہی ہے۔ انھوںنے کہاکہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی مندر یا گرودوارے کو نوٹس دیا گیا ، کیا خطرہ صرف مساجد اور مسلمانوں سے ہی ہے۔ مساجد کا انہدام مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کیلئے کیا جارہا ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک سرحدی علاقوں میں مساجد اور مسلمانوںسے کوئی خطرہ نہیں تھا اور اب اچانک خطرہ پیدا ہوگیا۔ آپریشن کلین کے تحت صرف مساجد ہی نشانہ پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK