Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال سے ۴۸۰۰؍ مبینہ بنگلہ دیشی تارکین وطن کی ملک بدری کا دعویٰ

Updated: June 08, 2026, 9:31 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران۴۸۰۰؍ مبینہ غیر دستاویزی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ریاست سے ملک بدر کیا گیا ہے، جبکہ مزید ۸۳۶؍  افراد کو جلد بنگلہ دیش بھیجا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد اس وقت ہولڈنگ سینٹرز میں رکھے گئے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو مبینہ طور پر مناسب قانونی کارروائی اور شہریت کی تصدیق کے بغیر سرحد پار بھیجنے کے الزامات پر بحث جاری ہے۔

Suvendu Adhikari. Photo: INN
شوبھندو ادھیکاری۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال کے نو منتخب وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ۴۸۰۰؍ مبینہ غیر دستاویزی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ریاست سے ملک بدر کیا گیا ہے، جبکہ مزید ۸۳۶؍ افراد کو جلد ہی بنگلہ دیش واپس بھیجنے کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔ کولکاتا کے علاقے نیو ٹاؤن میں ہندوستانیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تربیتی پروگرام ’’پنڈت دین دیال اپادھیائے پرشکشن مہا ابھیان ۲۰۲۶ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ ۸۳۶؍ افراد، جنہیں حکام نے ’’غیر قانونی درانداز‘‘ قرار دیا ہے، اس وقت ہولڈنگ سینٹرز میں موجود ہیں اور ان کی ملک بدری کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے بنگلہ دیشی سرحد پر باڑ لگانے کے لیے بی ایس ایف کو زمین فراہم کی ہے۔ ہم نے بنگلہ دیش سے آنے والوں سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ واپس جائیں۔ ہم ان کے ساتھ معزز مہمانوں جیسا سلوک نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں خصوصی سہولیات فراہم کریں گے۔‘‘ ادھیکاری نے دعویٰ کیا کہ موجودہ قانونی ضوابط کے تحت مبینہ غیر دستاویزی تارکین وطن کو طویل عرصے تک جیلوں میں رکھنے کے بجائے براہِ راست سرحدی فوج (بی ایس ایف) کے حوالے کیا جا سکتا ہے، تاکہ انہیں ملک بدر کرنے کا عمل تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ماضی میں ایسے افراد کو جیلوں میں رکھا جاتا تھا اور انہیں ریاستی وسائل سے خوراک، لباس اور طبی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایس بی آئی نے مرکزی حکومت کو۸۸۱۳؍ کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ دیا

انہوں نے سرحدی سلامتی کے حوالے سے بی جے پی کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’سرحد کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ ان کے مطابق سرحدی باڑ کی تعمیر کے لیے درکار ۵۵۶؍ کلومیٹر زمین میں سے تقریباً ۱۰۰؍ کلومیٹر کا علاقہ پہلے ہی بی ایس ایف کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش نے ہندوستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر متعدد افراد کو مناسب قانونی طریقۂ کار کے بغیر سرحد پار دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بنگلہ دیشی سرحدی حکام کے مطابق گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران کم از کم ۱۰؍ ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں افراد کو بنگلہ دیشی حدود میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔

بنگلہ دیش کے سرحدی محافظوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی حکام بعض معاملات میں طے شدہ سفارتی اور قانونی طریقۂ کار کی پیروی نہیں کر رہے۔ ان الزامات کے تناظر میں ’’پش بیک‘‘ اور ’’پش اِن‘‘ کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف ایسی کارروائیوں میں بعض اوقات مناسب قانونی عمل، شہریت کی تصدیق اور باضابطہ ملک بدری کے احکامات کی کمی دیکھی گئی ہے۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں الزام لگایا گیا کہ درست شناختی دستاویزات رکھنے والے بعض افراد کو بھی بنگلہ دیشی شہری قرار دے کر سرحد پار بھیجنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس کی وفاداری آئین کے بجائے اقتدار کے ساتھ ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

واضح رہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً ۴؍ ہزار کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جہاں غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ اور شہریت سے متعلق مسائل طویل عرصے سے سیاسی اور سیکوریٹی مباحث کا حصہ رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ مسئلہ مغربی بنگال اور دیگر سرحدی ریاستوں کی سیاست میں بھی ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ تاحال ریاستی حکومت اور مرکزی حکام کی جانب سے ادھیکاری کے دعووں کی مکمل تفصیلات یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی جبکہ بنگلہ دیشی حکام نے سرحدی معاملات پر باقاعدہ سفارتی طریقۂ کار اپنانے پر زور دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK