مغربی بنگال میں مچھیروں نے تیستا ندی میں بہہ کر تھک جانے والے ہاتھی کے بچے کو بحفاظت بچایا اور محکمۂ جنگلات کے تعاون سے اسے اس کی ماں سے ملا دیا، جس کے بعد دونوں جنگل واپس چلے گئے۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 8:03 PM IST | Kolkata
مغربی بنگال میں مچھیروں نے تیستا ندی میں بہہ کر تھک جانے والے ہاتھی کے بچے کو بحفاظت بچایا اور محکمۂ جنگلات کے تعاون سے اسے اس کی ماں سے ملا دیا، جس کے بعد دونوں جنگل واپس چلے گئے۔
مغربی بنگال میں مچھیروں کے ایک گروپ نے تیستا ندی سے ایک تھکے ہوئے ہاتھی کے بچے کو بچایا اور اسے اس کی ماں سے ملانے میں مدد کی، جس کے بعد دونوں جنگل واپس چلے گئے۔ یہ واقعہ ۲۱؍ ستمبر کو صبح تقریباً ۸؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر جلپائی گوڑی ضلع کے بیکنٹھ پور فاریسٹ ڈویژن کے گاجول ڈوبا کے قریب پیش آیا۔ نارتھ بنگال فشرمینز فورم کے ارکان نے تیستا بیراج کے قریب ندی میں ایک ہاتھی کے بچے کو بہتے ہوئے دیکھا۔ وہ پھنسے ہوئے جانور تک پہنچنے کے لیے کرانتی-پنجاب ڈیم سے کشتی کے ذریعے تقریباً ۴؍ کلومیٹر کا سفر کرکے وہاں پہنچے۔
🚨 SIKKIM : A newborn elephant calf swept away by the Teesta River was rescued by local fishermen and forest officials. The calf was safely reunited with its mother after a coordinated rescue operation. pic.twitter.com/caSxmPNbi0
— indiainlast24hr (@indiain24hr) September 22, 2026
میتھو داس، راجیش داس، بسوناتھ داس، گوپال داس اور ببلو داس نے ریسکیو کارروائی میں حصہ لیا۔ سب نے مل کر ہاتھی کے بچے کو کشتی پر اٹھایا اور اسے بحفاظت ندی کے کنارے پہنچایا۔ اس کے بعد ہاتھی کے بچے کو محکمۂ جنگلات کی کتھامباری رینج کے افسران کے حوالے کردیا گیا۔ ندی میں پیش آنے والی اس آزمائش کے بعد تھکاوٹ کے باوجود جانور کی حالت بظاہر اچھی تھی۔ ریسکیو کے فوراً بعد ہاتھی کی ماں اپنے بچے کی تلاش میں ندی کے کنارے پہنچ گئی۔ اس کے بعد دونوں ہاتھیوں کو دوبارہ ملا دیا گیا، جس سے ریسکیو کارروائی کا ایک جذباتی اختتام ہوا۔ بعد میں ہاتھی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ جنگل واپس چلا گیا، جبکہ محکمۂ جنگلات نے دونوں جانوروں پر نظر رکھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اورنگ آباد میں طلبہ سے تبادلہ خیال
گاجول ڈوبا کے آس پاس کا علاقہ ہاتھیوں کی نقل و حرکت کے لیے معروف ہے، اور حکام و مقامی باشندے ندی اور اس کے اطراف جنگلی حیات کی سرگرمیوں کے حوالے سے چوکس رہتے ہیں۔ اس ریسکیو کارروائی نے جنگلی حیات کے تحفظ اور ہاتھی کے بچے کو بحفاظت اس کے قدرتی مسکن تک واپس پہنچانے میں مقامی مچھیروں کے کردار کو اجاگر کیا۔