• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی اتحادیوں چراغ پاسوان، نائیڈو اور کشواہا نے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی

Updated: September 26, 2026, 4:02 PM IST | New Delhi

الیکشن کمیشن کے امور پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان این ڈی اے کے تین اہم اتحادیوں نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ چراغ پاسوان، چندرا بابو نائیڈو اور اپیندر کشواہا نے شفافیت اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے پر زور دیا۔

Chirag Paswan. Photo: INN
چراغ پاسوان۔ تصویر: آئی این این

این ڈی اے کے تین اہم اتحادیوں نے جمعہ کو الیکشن کمیشن اور اس کے چیف گیانیش کمار سے ان کے کام کاج سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔ ان اتحادی جماعتوں کا موقف بی جے پی کے الیکشن کمیشن کے مضبوط دفاع سے مختلف ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، تلگو دیشم پارٹی اور راشٹریہ لوک مورچہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے بارے میں اس طرح کا آزادانہ موقف سامنے آنا غیر معمولی ہے۔ اس سے نریندر مودی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جو اس دوران بڑی حد تک خاموش رہی ہے جبکہ اپوزیشن الیکشن کمیشن پر انتخابی نتائج میں مبینہ طور پر جوڑ توڑ کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ۱۰؍ ماہ کے دوران دونوں الیکشن کمشنروں نے ایس آئی آر سے متعلق اہم فیصلوں پر ۱۴؍ اعتراضات درج کیے اور شکایت کی کہ انہیں ان معاملات سے لاعلم رکھا گیا۔ اس سے ان الزامات کو تقویت ملی کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار یکطرفہ طور پر فیصلے کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاج، اپوزیشن و نوجوان لیڈرز کا کارروائی کا مطالبہ

بی جے پی نے الیکشن کمیشن کا دفاع کرتے ہوئے کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کو ’’خالص جمہوریت‘‘ قرار دیا ہے۔ تاہم لوک جن شکتی پارٹی (بہار) کے رہنما چراغ پاسوان، تلگو دیشم پارٹی (آندھرا پردیش) کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو اور راشٹریہ لوک مورچہ (اتر پردیش) کے رہنما اپیندر کشواہا نے مودی حکومت کے ہر متنازع اقدام کی حمایت کرنے کی اپنی روایت سے ہٹ کر موقف اختیار کیا۔ ان معاملات میں حد بندی، غیر ملکی فنڈنگ اور ’وندے ماترم‘ جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ چراغ پاسوان نے سب سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گیانیش کمار کو خود الیکشن کمیشن کا موقف عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی عمل سے متعلق شکوک و شبہات برقرار رہے تو عوام کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ پٹنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاسوان نے کہا، ’’اگر آزاد آئینی ادارے الیکشن کمیشن کے بارے میں اس طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں تو چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا موقف واضح طور پر پیش کریں۔‘‘ پاسوان نے مزید کہا، ’’اگر لوگ خود انتخابی عمل پر شک کرنے لگیں تو یہ تشویش کی بات ہے۔ الیکشن کمیشن کو اپنا موقف راہل گاندھی کے سامنے نہیں بلکہ عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اسے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کرنا چاہیے۔‘‘ پاسوان کا یہ بیان اس واقعے کے ایک روز بعد آیا جب نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی خبروں کے بعد انہوں نے سمراٹ چودھری کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو بہار میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں مسلمانوں سے مبینہ ناروا سلوک پر اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

این ڈی اے میں بی جے پی کے بعد دوسری سب سے بڑی جماعت تلگو دیشم پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے صورتحال واضح کرنے کی اپیل کی۔ پارٹی کے لوک سبھا فلور لیڈر لاوو سری کرشن دیورایالو نے کہا کہ آندھرا پردیش میں ایس آئی آر کی کارروائی ’’شفاف طریقے سے‘‘ انجام دی گئی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کی ساکھ عوام کے اعتماد پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جب بھی کوئی سوال اٹھاتا ہے تو مناسب وضاحت پیش کرنا اور شفافیت برقرار رکھنا ادارے پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے میں ہی مددگار ہوگا۔‘‘ اپیندر کشواہا نے کہا کہ اس تنازع کے حوالے سے عوام میں ’’کافی الجھن‘‘ پائی جاتی ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’اس معاملے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کو اصل صورتحال کے بارے میں فوری وضاحت جاری کرنی چاہیے تاکہ یہ الجھن دور ہوسکے۔‘‘ اگرچہ این ڈی اے کے اتحادیوں نے اپوزیشن کے اس الزام کی حمایت نہیں کی کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے حق میں انتخابات میں دھاندلی کر رہا ہے، تاہم ان کا موقف حکومت کے سیاسی مخالفین کو مزید سیاسی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل فراڈ کا شکار ۷۲ فیصد افراد کو کوئی رقم واپس نہ مل سکی؛ ۲۷ فیصد نے پولیس کو رشوت دی: رپورٹ

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو الزام عائد کیا تھا کہ گیانیش کمار کی نگرانی میں انتخابات ’’چوری‘‘ کیے گئے اور ان سے کہا تھا کہ وہ ’’سرکاری گواہ بن جائیں‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ آخرکار وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی ان کے مبینہ کردار کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اپوزیشن پارلیمنٹ میں ایک اور مواخذے کا نوٹس پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ دباؤ سڑکوں پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘، جس نے جون اور جولائی میں جنتر منتر پر پیپر لیک کے خلاف احتجاج کی قیادت کی تھی اور جس کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا، نے دھمکی دی ہے کہ اگر گیانیش کمار ہفتہ تک استعفیٰ نہیں دیتے تو ۲؍ اکتوبر سے ایک اور ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے عیسائیوں پر ۶۰ حملے ریکارڈ کئے گئے: انڈیا ہیٹ لیب

صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اپنے اندر کسی بھی اختلاف کی تردید کی ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ رائے میں اختلاف ادارہ جاتی غور و خوض کا حصہ ہوتا ہے اور ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں سمیت تمام فیصلے ’’اتفاق رائے سے‘‘ کیے گئے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کے اس بیان سے صورتحال پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ جمعہ کی شام تک الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے عوامی طور پر الیکشن کمیشن کے اس دعوے کی تائید نہیں کی تھی کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK