Updated: June 07, 2026, 4:28 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال کی حکومت نے ایس آئی آر سے نام کٹنے والوں کو راشن کی سہولت سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فوڈ اینڈ سپلائیز ڈیپارٹمنٹ کے ایک حکم نامے کے مطابق، ووٹر لسٹ سے غیر حاضر، منتقل، نقل یا مردہ قرار دے کر ہٹائے گئے افراد کے راشن کارڈز غیر فعال کر دیے جائیں گے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری۔ تصویر: ایکس
مغربی بنگال حکومت نے عوامی تقسیم نظام (PDS) کے مستفید ہونے والوں کی اہلیت کا تعین ریاستی ووٹر لسٹوں کی خصوصی شدید ترمیم (SIR) کی بنیاد پر شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے، وہ راشن کی سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں۔فوڈ اینڈ سپلائیز ڈیپارٹمنٹ کے ایک حکم نامے کے مطابق، ووٹر لسٹ سے غیر حاضر، منتقل، نقل یا مردہ قرار دے کر ہٹائے گئے افراد کے راشن کارڈز غیر فعال کر دیے جائیں گے۔اس کے علاوہ ترمیمی عمل کے دوران خارج کیے گئے افراد، بشمول وہ جنہیں سماعت کے بعد ہٹایا گیا یا وہ غیر نقشہ شدہ ووٹرز جو سماعت میں اپنی اہلیت ثابت کرنے میں ناکام رہے، وہ بھی PDS فوائد سے محروم ہو جائیں گے۔تاہم یہ عمل ۱۵؍جون تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ تاہم، وہ افراد جنہوں نے ٹربیونل میں اپیلیں دائر کی ہیں یا شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) کے تحت درخواستیں دی ہیں، انہیں ان کے مقدمات کے فیصلے تک سہولتیں ملتی رہیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: سونم وانگچک کے جنتر منتر پہنچنے کے بعد احتجاج میں تیزی، ہجوم میں اضافہ
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل کے دوران تقریباً۲۷؍ لاکھ ،۱۶؍ ہزاررائے دہندگان ختم کیے گئے، جو شدید متنازعہ بنا کیونکہ حزب اختلاف اور متاثرہ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہجے کے فرق، معمولی ڈیٹا میں تضاد، بغیر مناسب نوٹس اور پرانی و نئی لسٹوں میں میل نہ کھانے کی وجہ سے حقیقی ووٹرز کا نام کاٹا گیا۔یہ اقدام اس وقت آیا جب سپریم کورٹ نے۲۷؍ مئی کو SIR کو قانونی قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کی پوچھ تاچھشہریت کا تعین نہیں ہے، صرف انتخابی نتائج مرتب کرتی ہے۔اس سے قبل وزیر اگنیمیتا پال نے کہا تھا کہ جن کے نام SIR میں کٹے اور اپیلیں زیر التوا ہیں، وہ نئی انناپورنا بھنڈار اسکیم کے تحت سہولتیں نہیں پائیں گے۔اس پر ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومتی اسکیمیں ووٹرز کے لیے انعام نہیں، وہ تمام مستحق شہریوں کے لیے ہیں۔ جبکہ صحافی سومترا رمیش نے لکھا، ہندوستان کا نیا ہتھیار بندوق اور بم نہیں، یہ کاغذ کا وہ ٹکڑا ہے جو بتاتا ہے کہ آپ اس ملک کا حصہ ہیں یا نہیں... پہلے کہا صرف ووٹنگ، اب ووٹ سے کھانا جوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ریزرویشن کی ذیلی درجہ بندی کے خلاف اکولہ میں امبیڈکر وادیوں کا مورچہ
یاد رہے کہ ایس آئی آر کے دوران مغربی بنگال میں۹۰؍ لاکھ سے زائد نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے، جس پر حزب اختلاف نے سافٹ ویئر پر مبنی تصدیق، زیر التوا اپیلیں اور طریقہ کار میں خامیوں کے ساتھ مسلمانوں، مہاجرین اور غریب طبقوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کیے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔اس متنازعہ صورتحال سے کچھ دن پہلے بی جے پی ایم ایل اے کوستوباغچی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک مسلمان خاتون سے راشن دینے سے پہلے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ اور ’’وندے ماترم‘‘ کے نعرے لگانے کو کہہ رہا تھا۔