Inquilab Logo Happiest Places to Work

اَدب نہ تو خارجی اسباب و حالات سے ماورا ہے نہ مقصد و غایت سے بے نیاز

Updated: June 07, 2026, 2:28 PM IST | Majnun Gorakhpuri | Mumbai

جب تک موجودمیں ممکن، واقعہ میں تخیل، حال میں مستقبل کا عنصر داخل نہ ہو، ادب وجود میں نہیں آتا۔ ادب انسان کے جملہ مادی اور غیرمادی موثرات کا نتیجہ ہے اور اسکے تمام عملی اور فکری حرکات و سکنات کا ماحصل۔

Unless the element of the possible enters the present, imagination into the event, and the future into the present, literature does not come into being. Photo: INN
جب تک موجود میں ممکن، واقعہ میں تخیل، حال میں مستقبل کا عنصر داخل نہ ہو، ادب وجود میں نہیں آتا۔ تصویر: آئی این این

فن اور ادب کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں اور ان گنت نظریے اب تک پیش کئے جا چکے ہیں۔ کسی نے فن اور ادب کو زندگی کا وہ عکس سمجھا جو ایک شخصی مزاج کے آئینے میں نظر آئے، کسی نے شخصیت کو دبا لینے کا نام ادب رکھا، کسی نے شخصیت کے اظہار کو ادب کا نصب العین قرار دیا اور کسی نے ایک نئی اصطلاح گڑھ کو ہم کو ایک سحابی دنیا میں چھوڑ دیا۔ یہ اصطلاح Super Personality یعنی فوق الذات یا ماورائے شخصیت ہے۔ ادب کو کبھی زندگی کی تنقید بتایا گیا، کبھی زندگی کی تمجید (Sublime & Lion)۔ کسی نے اس کو زندگی کا پھول پھل کہا۔ کسی نے فکریاتی عمارت کی اوپری کاریگری۔ مگر، یہ سب ادھوری حقیقتیں ہیں جو ہم کو دھوکے میں ڈال دیتی ہیں۔ ادب یہ سب کچھ ہے اور اس سے بہت زیادہ بھی ہے۔ بہرحال یہ تمام چہ می گوئیاں ہوتی رہی ہیں اور ادب اپنی جگہ ادب رہا اور ہمیشہ رہےگا، تمام بدلتے ہوئے میلانات و نظریات کے باوجود۔
ادب کیا ہے؟ اس سوال کی تہہ میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ادب میں کوئی مقصد ہوتا ہے یا نہیں اور اگر ادب میں کوئی مقصد ہے تو وہ کیا ہے۔ یہ سوال جتنا اہم ہے اتناہی گمراہ کن ہے۔ اگر ادب کو بالکل زندگی کا مترادف مان لیا جائے تو سب سے پہلے یہ سوال کیا جائےگا کہ خود زندگی کا مقصد کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم میں سے اکثر بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ یہ کہنے سے کام نہیں چلےگا کہ تمام بندگان خداکے لئے بھر پیٹ کھانا اور تن پوشی کے لئے بہترین سامان اور جسمانی آرام و فراغت کے اچھے سے اچھے اسباب و مواقع مہیا کرنا زندگی کا اصلی مقصد ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ تمام حیوانی دنیا کا پہلا مقصد یہی ہے جس کو پورا ہونا ہے لیکن اس مقصد کی بھرپور تکمیل کے بعد کیا ہوگا؟ کم سے کم انسانی دنیا میں زندگی اور اس کا مقصد اس کے بعد بھی باقی رہے گا۔  زندگی آگے بڑھتی رہےگی اور اس کے نت نئے مقصد کی تکمیل ہوتی رہے گی، ترقی کی رفتار کہیں رکےگی نہیں، کبھی رُکے گی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ماں کی مامتا

انسان کی زندگی میں ارتقا ایک لامحدود تصور ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہےگا۔‘‘ اگرچہ روٹی بغیر بھی زندہ رہنا ناممکن ہے۔ روٹی کا پیغمبر مارکس بھی ایک جگہ لکھتا ہے کہ ’’ایک انشا پرداز کو زندہ رہنے اور اپنے کو لکھنے کے قابل بنائے رکھنے کیلئے یقیناً روٹی کمانا ہے لیکن صرف روٹی کمانے کیلئے اس کو زندہ رکھنا اور لکھنا نہیں چاہئے۔‘‘ اسی سلسلے میں آگے چل کر مارکس کا قول ہے کہ ’’پریس کی پہلی اور اصلی آزادی یہ ہے کہ وہ اپنے کو تجارت یا کاروبار نہ ہونے دے۔‘‘
حضرات! اول تو انسانی زندگی کی طرح ادب کا مقصد بھی سمت اور تنوع (Dimensioned Variety) دونوں اعتبار سے لامتناہی ہے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ بغیر مقصد کے کسی زمانے میں بھی کوئی ادب پیدا نہیں ہوا ہے (یہ مقصد شعوری ہو یا غیر شعوری) لیکن یہ بھی اپنی جگہ نہایت اہم حقیقت ہے کہ صرف مقصد کا نام کبھی ادب نہیں رہا۔ مقصد میں جب تک ایک تخلیقی مثبت (Creative Plus Sign) کااضافہ نہ ہو، وہ ادب نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ محض واقعہ کی اطلاع یا اخبار کی نامہ نگاری دنیا میں آج تک ادب کا درجہ حاصل نہیں کر سکی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ زندگی کی طرح زندگی کا مقصد بھی کوئی اقلیدس یعنی ٹھہرا ہوا نقطہ نہیں ہے۔ زندگی بھی مائل بہ نمو و ارتقا ہے اور زندگی کا مقصد بھی اور جو بات زندگی کے بارے میں صحیح ہے، ادب کے بارے میں اس سے زیادہ صحیح ہے۔ جب تک موجودمیں ممکن، واقعہ میں تخیل، حال میں مستقبل کا عنصر داخل نہ ہو، ادب وجود میں نہیں آتا۔ادب انسان کے جملہ مادی اور غیرمادی موثرات کا نتیجہ ہے اور اس کے تمام عملی اور فکری حرکات و سکنات کا ماحصل۔ اس نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو ادب نہ تو خارجی اسباب و حالات سے ماورا ہے، نہ مقصد و غایت سے بے نیاز، لیکن ادب اور اس کے مقصد کے درمیان وہ سطحی اور ظاہری نسبت نہیں ہوتی جو ایک مجوزہ پل یا عمارت کے ’’نیلے خاکے‘‘ (Blue Print) اور اس کے فوری اور براہ راست مقصد کے درمیان ہوتی ہے۔ بے مقصد ادب کا وجود کم سے کم ہماری گردوباد کی دنیا میں کبھی بھی نہیں رہا ہے، لیکن یہ مقصد ادب کے وجود کی اندرونی ترکیب میں مزاح کے طور پر داخل ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح سورج کے وجود کے اندر اس کا مقصد یعنی ہم کو روشنی اور گرمی پہنچانے کا فریضہ ناگزیر اور غیرشعوری طور پر چھپا ہوا ہے لیکن ذرا سوچئے اگر سورج شعوی طور پر اور غلویا  مبالغے کے ساتھ اپنا مقصد پورا کرنے پر آمادہ ہو جائے یا ہم مؤکد اصرار کے ساتھ اس سے اس کے مقصد کی انجام دہی کا مطالبہ کرنے لگیں تو ہمارے لئے کتنے بڑے خطرہ کا اندیشہ ہے۔ غرض کہ مقصدکی ننگی نمائش کا نام فن یا ادب نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: محاسن ِکلامِ داغ دہلوی، زبان و محاورہ

بدویت کے دور سے لے کراب تک اگر انسانی ثقافت کا تاریخی مطالعہ کیا جائے تو اس حقیقت کو تسلیم ہی کرنا پڑےگا اور صالح ذہن اس کو مانتے آئے ہیں۔ مارکس، انگلز اورلینن بھی ادب کو ڈھنڈورا نہیں سمجھتے تھے اور انگلز تو جس کو،  مَیں کئی اعتبار سے مارکس کے مقابلے میں بہت زیادہ بالغ اور رچی ہوئی شخصیت مانتا ہوں، ادب کو پروپیگنڈہ سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو، لیکن پروپیگنڈے کو ادب نہیں سمجھتا۔ اس نے ایک موقع پر صاف صاف لکھا ہے کہ ’’جتنا ہی زیادہ مصنف کا مقصد چھپا ہوا ہوگا، اتنا ہی زیادہ فنی تخلیق کے حق میں بہتر ہوگا۔‘‘ اسی سلسلے میں وہ فرانس کے مشہور افسانہ نگار بالزک کے شہرہ آفاق کارنامہ (Human Comedy) کی مثال دیتا ہے۔ بالزک کو انگلز بہت بڑا حقیقت نگار (Realist) مانتا تھا اور مارکس بھی بالزک کی عظمت کا قائل تھا۔بالزک کے جس افسانے کا ابھی حوالہ دیا گیا ہے اس میں غور سے پڑھنے والے کے لئے ۱۸۱۶ء سے لے کر ۱۸۴۸ء تک فرانس کے سماجی نظام کا گویا سال بہ سال روزنامچہ ہے جس میں بڑی تفصیل کے ساتھ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فرانس کی نواب شاہی پر ابھرتے ہوئے مہاجنی سماج یا بورژوا طبقہ کا دباؤ کس طرح مسلسل پڑتا رہا، یہاں تک کہ آخرکار فرسودہ نوابی فرانس سے گرد ہوکر اڑ گئی۔ 
انگلز کا یہ کہنا ہے کہ اس نے جتنا اس ناول سے سیکھا ہے اتنا اس دور کے پیشہ ور مؤرخوں، اقتصادیوں اور احصائیات یعنی اعداد و شمار کے ماہروں سے نہیں سیکھا ہے۔ لیکن بالزک کا ناول فن پہلے ہے اور مقصد بعد کو۔ اس کے فن کی عظمت نے اس کے مقصد کی عظمت کو بڑھایا۔ مقصدکی عظمت نے اس کے فن کی عظمت کو نہیں بڑھایا ہے۔ میں نے بالزک کے ذکر کو قصداً طوالت دی ہے، اس لئے کہ دنیائے ادب کی تواریخ میں اب تک کوئی ترقی پسند یا غیرترقی پسند شخص یا گروہ ایسا نہیں گزرا جس نے بالزک کی عظمت کو نہ مانا ہو۔ شیکسپئر اور ڈکنس کی عظمت کا راز بھی یہی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مارکس کے محبوب ترین ادیب کون تھے؟ وہ جنہوں نے فن کو فن قائم رکھتے ہوئے اپنے دور کی نمائندگی کی۔ یعنی السیکائلیس، ہومر، ورجل، دانتے، شیکسپئر، سروانتینر، گوئٹے اور  شیلی۔ مارکس، سروالٹر اسکاٹ کے ناولوں کو بھی بڑے شوق وانہماک سے پڑھتا تھا اور ان سے بصیرت حاصل کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: تخلیقی قوت و سلیقۂ اظہار کے سبب ادیب اپنے عہد اور انسانیت کا ترجمان بن جاتا ہے

حضرات! اگر مقصد ہی ادب یا کسی دوسری صنف فنکاری کا مقصد قرار دے دیا جائے تو آپ کو معلوم ہے کیا ہوگا؟ سافو کی غزلیات اور ہومر کے رزم ناموں سے لے کر اب تک کے ننانوے فیصد فنی تخلیقات کو فضول اور بیکار سمجھ کر دریابرد کر دینا پڑے گا۔ جیساکہ میں اشارہ کر چکا ہوں، ادب کوئی بے مقصد حرکت نہیں ہے۔ اس کا بھی مقصد ہے اور یہ مقصد نہایت مہتم بالشان ہے۔ ادب انسان کی تہذیب کی علامت اور اس کی ضمانت ہے۔ ادب کا مقصد یہ ہے کہ اس کے اثر سے انسان بغیر وعظ و تبلیغ کے خودبخود پہلے سے زیادہ مہذب، زیادہ شریف اور زیادہ نیک ہوتا جائے، فنکاری بالخصوص ادب انسان کے کردار سے نفس پرستی، خود غرضی، بغض وحسد، کینہ وعناد، مکاری، عیاری دوسروں کو فریب اور سازش کا شکار بنانے کے و حشیانہ اور رکیک میلانات کو سلب کرتا رہتاہے۔ یہی رہا ہے ادب کا مقصد اور یہی ہے اس کا مقدر۔ زندگی بیساختہ فنکاری، جس میں ادب بھی شامل ہے پیدا کرتی رہی ہے اور فنکاری خاموشی اور معصومیت کے ساتھ زندگی کو فروغ دیتی رہی ہے۔ یہی رہی ہے انسانی زندگی کی روز اول سے تاریخ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK