Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریزرویشن کی ذیلی درجہ بندی کے خلاف اکولہ میں امبیڈکر وادیوں کا مورچہ

Updated: June 05, 2026, 10:17 AM IST | Ali Imran | Akola

درج فہرست ذاتوں کو الگ الگ زمروں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کی پسماندہ طبقات کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔

Protests are taking place across the country against the government`s decision. Photo: INN
حکومت کے فیصلے کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

درج فہرست ذاتوں کے ریزرویشن میں ذیلی زمرہ بندی کے خلاف جمعرات کو امبیڈکر وادی اور ریزرویشن بچاؤ ایکشن کمیٹی کے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اس ذیلی زمرہ بندی کے ذریعہ درج فہرست ذات برادری کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مظاہرین نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اس معاملے پر احتجاجی دھرنا اور خود سوزی جیسے انتہائی قدم اٹھائے جائیں گے۔ 

یاد رہے کہ کچھ ریاستوں میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ جہاں یہ مسئلہ اٹھایا گیا کہ اس زمرے میں کچھ منتخب ذاتوں کو ریزرویشن کا فائدہ ہوا، لیکن دوسری ذاتیں نظر انداز کی گئیں۔ عدالت نے اس پر اتفاق کیا۔ اسکے بعد حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی بنائی گئی اور رپورٹ تیار کی گئی۔ تاہم، درج فہرست ذاتوں کیلئے ریزرویشن کو اے، بی، سی، اور ڈی  کی شکل میں ذیلی زمرہ بندی کرنے کی تجویز دی گئی جس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۱۷؍ میں سے ۶؍ مقامات پر مہایوتی بلامقابلہ کامیاب

اکولہ میں بھی جمعرات کو امبیڈکروادی جن سمودائے اور آرکشن بچاؤ کریتی سمیتی کی جانب سے جن آکروش مورچہ نکالا گیا۔ پورے امبیڈکروادی سماج کے اندر بے اطمینانی کا شدید احساس ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ عمل درج فہرست ذات برادری کے اندر تقسیم کا باعث بنے گا، سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرے گا، اور آئین کی طرف سے فراہم کردہ مساوی نمائندگی کے حق کو نقصان پہنچائے گا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت درج فہرست ذات کے ریزرویشن میں ذیلی زمرہ بندی کے عمل کو فوری طور پر منسوخ کرے۔ اسی طرح بدر کمیٹی کی پوری رپورٹ منظر عام پر لائی جائے، درج فہرست ذات کے ریزرویشن کے حوالے سے ذیلی زمرہ بندی کا مزید کوئی عمل نافذ نہ کیا جائے، ریزرویشن میں موجود تمام خالی اسامیوں اور بیک لاگ کو فوری طور پر پُر کیا جائے، ریزرویشن کے صحیح اور موثر نفاذ کیلئے ایک آزاد اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے، باقاعدہ بھرتی کے عمل کو عمل میں لایا جائے، کانٹریکٹ پر دوبارہ عمل درآمد کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK