• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

استنبول: اسرائیل سے منسلک برانڈز کے خلاف پہلا ’’فری غزہ مارکیٹ‘‘

Updated: January 20, 2026, 9:57 PM IST | Istanbul

ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیل سے وابستہ کمپنیوں کے بائیکاٹ کے لیے پہلا خصوصی بازار کھول دیا گیا، جہاں صرف مقامی اور غیر متنازع مصنوعات فروخت کی جا رہی ہیں۔ اس کا نام ہے ’’ فری غزہ مارکیٹ‘‘ (Free Gazza Market)۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیل سے منسلک برانڈز کے خلاف باضابطہ بائیکاٹ کا عملی آغاز کر دیا گیا ہے۔ شہر کے بیلیک دوزو ضلع میں ’’فری غزہ‘‘ کے نام سے ایک خصوصی بازار قائم کیا گیا ہے، جہاں ایسی تمام مصنوعات کی فروخت پر پابندی ہے جن کا تعلق اسرائیل یا اس کی حمایت کرنے والی کمپنیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ بازار کے منتظمین کے مطابق اس اقدام کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کے خلاف معاشی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صارفین کے خریداری کے فیصلے بھی سیاسی اور اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، اور بائیکاٹ کے ذریعے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک نے تو ایکس کو ہی ای وی ایم بنا ڈالا

فری غزہ بازار میں صرف مقامی ترک مصنوعات یا وہ غیر ملکی اشیا دستیاب ہیں جن کا اسرائیل سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ منتظمین نے واضح کیا کہ ہر پروڈکٹ کو جانچ کے عمل سے گزارا جاتا ہے تاکہ بائیکاٹ کے اصولوں پر مکمل عمل درآمد ہو سکے۔ یہ بازار کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ مقامی شہریوں اور رضاکاروں کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔ شرکا نے اشیا، سرمایہ اور انتظامی معاونت فراہم کی، تاکہ بائیکاٹ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی شکل دی جا سکے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نفرت یا تصادم نہیں بلکہ صارفین میں شعور پیدا کرنا اور مقامی معیشت کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق اگر صارفین اجتماعی طور پر مخصوص برانڈز کو مسترد کریں تو عالمی کمپنیوں پر اخلاقی اور معاشی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ ’اے ۲۳؍ اے‘ چالیس برس بعد خاتمے کے قریب

واضح رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف حصوں میں اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، سرمایہ کاری کی مخالفت اور پابندیوں کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ استنبول کا یہ بازار اب اس تحریک کی ایک علامتی مثال بن چکا ہے، جہاں خریداری کو احتجاج کی شکل دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK