• Thu, 01 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیا سال کیا چاہتا ہے؟ نیا جوش، نئے عزائم، نئی دھن، نئی تدابیر

Updated: January 01, 2026, 3:43 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مسائل میں گھرے رہنا کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں۔ کل، انقلاب نے سالِ رفتہ کی چند حوصلہ بخش خبرو ںکی نشاندہی کی تھی، آج اُسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے یہ دردمندانہ خاکہ کہ ہماری ترجیحات کیا ہوں۔

A Muslim woman walks past a banner wishing Happy New Year in Bengal. Picture: PTI
ایک مسلم خاتون بنگال میں نئے سال کی مبارکباد کے بینر کے قریب سے گزرتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

ملک کی دوسری بڑی اکثریت یا سب سے بڑی اقلیت جو ہے وہ افرادی قوت کے اعتبار سے تو دُنیا کی سب سے بڑی  (مسلم ) آبادیوں میں سے ایک ہے مگر وقت کے ساتھ اس کی بااثری، بے اثری میں تبدیل ہوگئی، اس کے پاس ترقیاتی مواقع کم ہیں، اس کی سیاسی طاقت گھٹتے گھٹتے اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ملک کی مرکزی کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے، کئی ریاستو ںکا بھی یہی حال ہے، وزیر تو جانے دیجئے ایم پی اور ایم ایل اے بھی کافی کم ہوچکے ہیں، اعلیٰ سرکاری عہدوں پر اس کے افراد مٹھی بھر سے زیادہ نہیں ہیں، ہر سال ملکی سطح پرآئی اے ایس میں کامیاب مسلم نوجوانوں کا فیصد آبادی کے تناسب سے معمولی ہے، اس سب سے بڑی اقلیت کی بستیوں کا بھی بُرا حال ہے، مخالف سیاسی رجحانات نے نت نئے مسائل الگ پیدا کررکھے ہیں، بلڈوزر کلچر کو لیجئے یا مسلم مفادات کو یکسر نظر انداز کرنے کے کلچر کو یا اس رجحان کو لے لیجئے جس کے زیر اثر یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ’’ہمیں آپ کی ضرورت نہیں‘‘۔ معاملات پریشان کن سہی مگر ان میں جینے اور پُروقار طریقے سے جینے کی کوشش کے کسی بھی امکان کو خارج نہیں کیا جانا چاہئے، جہاں جہاں امکان بھر اور حتی المقدور کوشش ہوسکتی ہے ہونی چاہئے۔ اس کی ذمہ داری ہر خاص وعام پر ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سب کو یہ احساس رہے کہ خود کو بہتر اور مؤثر بنانے کیلئے کن اہداف کو پیش نظر رکھنا چاہئے:

برادران وطن سے بہتر تعلقات۔ اس دور ِ خرابی میں بھی اکثریتی طبقے کا بڑا حصہ نرم گوشہ رکھتا ہے، مسلم مفادات کیلئے آواز اُٹھاتا ہے، یہ بڑی طاقت ہے۔

دورِ حاضر میں ڈیٹا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تین طلاقوں کا مسئلہ اُٹھایا گیا تو ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں تھا، وقف کا بھی کتنا ڈیٹا ہے؟ 

پسماندہ ذاتوں (مسلم) کا بھی کوئی مضبوط ڈیٹا ملت کے پاس نہیں ہے جسے وہ اپنا جمع کیا ہوا ڈیٹا کہہ سکے۔ کیا اس جانب توجہ ہوسکتی ہے؟ 

 ملک کی آئینی قدروں کے تحفظ اور اپنے حقوق کی قانونی لڑائی لڑنے کی صلاحیت پید اکرنے کیلئے قانونی شعبہ کی جانب توجہ،شمولیت بڑھانے کی فکر۔

کاغذات کی درستگی اہم ترجیح بنے۔ بطور خاص سماج کےاس  انتہائی کمزور طبقہ کے دستاویزات کی درستگی  جو اس کی اہمیت سے اب بھی واقف نہیں۔

اُمور صحت کی فکر کیلئے محلوں کی صفائی ستھرائی کو مقدم جاننا ازحد ضروری ، افرادِ ملت میں اپنے شہری فرائض کے تئیں بیداری (سِوک سینس) کیلئے مہم۔ 

فکر اور بیداری کے بعد، تعلیم ترجیحات میں شامل ہوئی، اب سائنس، تکنالوجی، معاشیات اور دورِ حاضر کےدیگر  اہم شعبے ترجیحات میں شامل   ہوں۔ 

سوشل میڈیا سے گریز کے ساتھ ساتھ ’’چوپال کلچر‘‘ کی حوصلہ شکنی۔  اس سے راتوں کا جاگنا بند یا کم ہوگا اور غیر ضروری مباحث سے نجات ملے گی۔

ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پروان چڑھے۔ ’’اپنا کام ہوجائے بھلے ہی دوسرے کا نہ ہو ‘‘ کی سوچ سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی۔ 

تضیع اوقات سے گریز، سوشل میڈیا میں وقت صرف کرنے سے کچھ حاصل نہیں یہ بات ملت کے ایک ایک فرد کے ذہن پر نقش ہوجائے تو کیا کہنا!

آئی اے ایس اور آئی پی ایس کے علاوہ بھی مواقع ہیں۔ اُن چھوٹی سرکاری ملازمتوں پر بھی توجہ  ہو جو مقابلہ جاتی امتحان  کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ 

 معاشرہ میں  داخلی اصلاح پر توجہ دیتے ہوئے تعلیم یافتہ قیادت کی حوصلہ افزائی اور اس میں  خواتین کی شمولیت کو  یقینی بنانے کا ہدف۔

روزگار کے حصول کے دو اہم میدان ملازمت اور کاروبار ہیں۔ سرکاری ملازمتوں کیلئے باقاعدہ ہدف مقرر ہو  اور کاروبار کی نئی جہتوں پر نگاہ مرکوز ہو۔  

قوم کے نوجوانوں کے ہنر اوران کی مہارتوں پر توجہ دیتے ہوئے  اجتماعی سرمایہ کاری کی حکمت عملی   روزگار کے امکانات کو بہتر بناسکتی ہے۔ 

   اگر سرکاری اسکیموں سے مستفید ہونے کیلئے کوئی انفارمیشن سینٹر یا ہیلپ ڈیسک قائم نہیں ہوسکا ہے تو ہر حساس شخص خود کوہی  سینٹر یا ڈیسک بنا لے۔ 

سماج کے متحرک حصے یعنی  ’’سول سوسائٹی‘‘کا حصہ بننا اور  اپنے مسائل کے ساتھ برادران وطن کے مسائل کی لڑائی میں بھی  پیش پیش رہنا اہم ہوگا۔

ہر سال کسی اہم ہدف کے حصول کا سال ہوسکتا ہے مثلاً  ’’تعلیمی  اور معاشی محاذ  پر خود کفیل  ملت‘‘کا ہدف  طے کرکے یہ نیا سال ہی حرف آغاز بن سکتا ہے۔ 

حالات سے جکڑ دیئے جانے کے احساس سے خود کو آزاد کیا جائے، مثبت سوچ کو فروغ دیں  اور نئے سال کا آغاز مثبت فکر کے ساتھ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK