Updated: January 18, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
چین جوہری توانائی کے شعبے میں ایک نیا تجربہ کرنے جا رہا ہے۔ وہ دنیا کا پہلا ہائبرڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ بنا رہا ہے، جس میں دو مختلف ری ایکٹر ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے گا۔ اس پلانٹ کے ۲۰۳۲ء تک فعال ہونے کی امید ہے اور یہ توانائی کی پیداوار کی سمت کو بدل سکتا ہے۔
نیوکلیائی پلانٹ۔ تصویر:آئی این این
چین اپنے مشرقی صوبے جیانگ سو کے شہر لیانیونگانگ میں دنیا کا پہلا ہائبرڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کر رہا ہے۔ اس کا نام شویوے نیوکلیئر پاور پلانٹ رکھا گیا ہے اور یہ چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت پہلی جوہری منصوبہ بندی ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے اور اسے ۲۰۳۲ء تک فعال کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پلانٹ کو چین کی جوہری ٹیکنالوجی میں ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔
ہائبرڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ کیا ہوتا ہے؟
ہائبرڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ وہ ٹیکنالوجی ہے جس میں دو مختلف اقسام کے جوہری ری ایکٹرز کو ایک ہی نظام میں یکجا کیا جاتا ہے۔ عام طور پر روایتی نیوکلیئر پلانٹس صرف بجلی پیدا کرنے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ہائبرڈ ماڈل اس سے آگے بڑھتا ہے۔ اس میں بجلی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کی بھاپ بھی تیار کی جاتی ہے، جسے صنعتوں، ہائیڈروجن کی پیداوار اور دیگر توانائی ضروریات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ نظام توانائی کا زیادہ مؤثر اور کثیر المقاصد حل بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلین اوپن: ترکی کی زینب سونمیز کا تاریخی کارنامہ
دو ٹیکنالوجیز کا انوکھا امتزاج
اس ہائبرڈ پلانٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہوا لونگ ون ری ایکٹر اور ہائی ٹیمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ہوا لونگ ون ایک جدید پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہے، جو محفوظ اور مستحکم بجلی کی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہائی ٹیمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر انتہائی بلند درجہ حرارت پر کام کرتا ہے، جس سے بہتر معیار کی بھاپ تیار ہوتی ہے۔ ان دونوں کے امتزاج سے نہ صرف بجلی پیدا ہوگی بلکہ صنعتی ضروریات کے لیے مفید بھاپ بھی دستیاب ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:عامر خان نے بتایا فٹنیس کا راز: غذا اور ۸؍ گھنٹے کی نیند سب سے ضروری
توانائی کے شعبے میں یہ قدم کیوں اہم ہے؟
ہائبرڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو مستقبل کی توانائی ضروریات کے حوالے سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے توانائی کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی اور صنعتوں کو مستحکم اور صاف توانائی میسر آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی اور بھاپ دونوں کی فراہمی سے ریفائنری، کیمیکل اور ہائیڈروجن کی پیداوار جیسے شعبوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو دنیا کے کئی ممالک اس ماڈل کو اپنانے کی سمت آگے بڑھ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی نظام میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔