بلیک رابن کبھی دنیا کے نایاب ترین پرندوں میں شمار ہوتا تھا۔ ۱۹۸۰ء میں صرف ۵؍ پرندے باقی رہ گئے تھے؛ اب اس کی تعداد تقریباً ۳۵۰؍ بالغ پرندوں تک پہنچ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 3:48 PM IST | Wellington
بلیک رابن کبھی دنیا کے نایاب ترین پرندوں میں شمار ہوتا تھا۔ ۱۹۸۰ء میں صرف ۵؍ پرندے باقی رہ گئے تھے؛ اب اس کی تعداد تقریباً ۳۵۰؍ بالغ پرندوں تک پہنچ گئی ہے۔
کبھی معدومیت کے دہانے تک پہنچ جانے والا نیوزی لینڈ کا نایاب بلیک رابن، جسے ماؤری زبان میں کاکاروئیا اور موریوری زبان میں کارورے کہا جاتا ہے، ملک کا ۲۰۲۶ء کا برڈ آف دی ایئر منتخب کرلیا گیا ہے۔ یہ چھوٹا سا سیاہ پرندہ ایک وقت میں دنیا کے نایاب ترین پرندوں میں شمار ہوتا تھا اور ۱۹۸۰ء میں اس کی پوری عالمی آبادی صرف ۵؍ پرندوں تک محدود رہ گئی تھی۔ آج تحفظ کی کئی دہائیوں پر محیط کوششوں کے بعد اس کی تعداد تقریباً ۳۵۰؍ بالغ پرندوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس سال نیوزی لینڈ کے برڈ آف دی ایئر مقابلے میں ریکارڈ ۱۰۵۰۰۰؍ افراد نے ووٹ دیا۔ بلیک رابن کو ۲۶۶۱۰؍ ووٹ ملے اور اس نے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ فاریسٹ اینڈ برڈ نامی ماحولیاتی تنظیم کی جانب سے منعقد ہونے والے اس مقابلے میں کَکاپو دوسرے اور نیوزی لینڈ فالکن تیسرے نمبر پر رہے۔
بلیک رابن صرف نیوزی لینڈ کے ساحل سے تقریباً ۸۰۰؍ کلومیٹر دور واقع دور افتادہ چاٹھم جزائر میں پایا جاتا ہے۔ یہ پرندہ دنیا کے دوسرے علاقوں میں پائے جانے والے رابن پرندوں سے مختلف نوع ہے۔ اس کے مکمل سیاہ پروں، سیاہ آنکھوں اور نوکیلی سیاہ چونچ کی وجہ سے اسے غیر رسمی طور پر نیوزی لینڈ کی پرندوں کی دنیا کا ’’گوتھ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پرندے کے لیے حالات ۲۰؍ ویں صدی میں انتہائی خراب ہوگئے تھے۔ انسانی آبادکاری کے بعد جزائر پر چوہوں اور بلیوں جیسے شکاری جانور پہنچے، جنہوں نے بلیک رابن کی آبادی کو تقریباً ختم کردیا۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات نیوزی لینڈ کے مطابق ۱۹۷۲ء میں ماہرین کو صرف ۱۸؍ بلیک رابن ملے تھے، جبکہ ۱۹۷۶ء تک یہ تعداد گھٹ کر ۷؍ رہ گئی۔ باقی پرندوں کو بہتر تحفظ کے لیے مانگیرے جزیرے منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:وینس میں سیاحتی فیس ۳۰؍ یورو تک بڑھانے پر غور، اوور ٹورزم روکنے کی کوشش
۱۹۸۰ء میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی اور دنیا میں صرف ۵؍ بلیک رابن باقی رہ گئے۔ ان میں صرف ایک مادہ افزائش نسل کے قابل تھی۔ اس مادہ کو اولڈ بلیو اور واحد نر کو اولڈ یلو کا نام دیا گیا۔ یہی جوڑا آج موجود بلیک رابن کی پوری آبادی کا بنیادی نسلی ماخذ بنا۔ تحفظ کے ماہرین نے اس انتہائی محدود آبادی کو بچانے کے لیے ایک غیر معمولی طریقہ اختیار کیا۔ بلیک رابن کے انڈوں اور بچوں کو دوسری پرندوں کی انواع کے ذریعے پالنے کا عمل شروع کیا گیا، تاکہ محدود تعداد والے بلیک رابن والدین زیادہ بچوں کی پرورش کرسکیں۔ اس طریقے کو کراس فوسٹرنگ کہا جاتا ہے اور یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق یہ پروگرام بعد میں خطرے سے دوچار پرندوں کے تحفظ کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔
آج بلیک رابن کی عالمی آبادی تقریباً ۳۵۰؍ بالغ پرندوں پر مشتمل ہے۔ نیوزی لینڈ کے محکمہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق ۲۰۲۵ء میں اس تعداد کا اندازہ تقریباً ۳۵۰؍ تھا اور یہ پرندے دو شکاری جانوروں سے محفوظ قدرتی ذخائر میں پائے جاتے ہیں۔ نوع کو اب بھی Threatened–Nationally Critical یعنی شدید خطرے سے دوچار درجے میں رکھا گیا ہے۔حالیہ تحفظاتی کوششوں میں مانگیرے جزیرے کی آبادی کو مستحکم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق ۲۰۲۲ء میں ۱۰؍ مادہ بلیک رابن رنگاتیرا جزیرے سے مانگیرے منتقل کی گئیں، کیونکہ وہاں نر اور مادہ کے تناسب میں شدید عدم توازن پیدا ہوگیا تھا اور مقامی آبادی کے ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ۲۶ء۲۰۲۵ء کے افزائش نسل کے موسم کے آغاز پر مانگیرے میں ۳۹؍ بالغ پرندے موجود تھے، جبکہ اس موسم میں ۸؍ بچے گھونسلوں سے نکلنے کے قابل ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ہم اسرائیلی اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے‘‘
تاہم تحفظ کی کامیابی کے باوجود بلیک رابن ابھی محفوظ نہیں ہوا۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق اس وقت اس کی دونوں موجودہ آبادیوں کا مسکن اپنی گنجائش کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ماہرین ایک تیسرے شکاریوں سے محفوظ جزیرے پر آبادی قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ تمام پرندے صرف دو مقامات تک محدود نہ رہیں اور کسی بیماری، شکاری جانور یا ماحولیاتی تبدیلی کی صورت میں پوری نوع کو ایک ہی وقت میں بڑے خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حالیہ تحقیق سے تحفظ کے کام میں کچھ حوصلہ افزا نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق بلیک رابن کی موجودہ حدود میں مسلسل نگرانی اور تحقیق سے آبادی کی بحالی کے مثبت آثار مل رہے ہیں اور ان نتائج کی مدد سے آئندہ تحفظاتی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
برڈ آف دی ایئر کا اعزاز ملنے کے بعد بلیک رابن کی کہانی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ فاریسٹ اینڈ برڈ کے مطابق اس سال تقریباً ہر ۵۰؍ نیوزی لینڈ کے باشندوں میں سے ایک نے مقابلے میں ووٹ دیا۔ تنظیم کی نمائندہ ربیکا ہیچ نے کہا، ’’اس سال ۱۰۵۰۰۰؍ افراد نے اپنے پسندیدہ پرندے کا انتخاب کیا۔‘‘ ان کے مطابق نیوزی لینڈ کے لوگوں نے اس مہم کے ذریعے فطرت کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ بلیک رابن کی موجودہ کامیابی اگرچہ تحفظِ جنگلی حیات کی ایک نمایاں مثال ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کی بقا کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ نئی محفوظ رہائش گاہیں قائم کرنا اور شکاری جانوروں، بیماریوں اور محدود جینیاتی تنوع جیسے خطرات سے نمٹنا اس نسل کے مستقبل کے لیے اب بھی ضروری ہے۔