ممبئی شہر ہمیشہ سے نچلے طبقہ اور مزدور پیشہ لوگوں کے لئے انتہائی پرکشش رہا ہے۔ روزی روٹی کی تلاش میں لوگ یہاں آتے رہے اور آباد ہوتے رہے۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:18 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road
ممبئی شہر ہمیشہ سے نچلے طبقہ اور مزدور پیشہ لوگوں کے لئے انتہائی پرکشش رہا ہے۔ روزی روٹی کی تلاش میں لوگ یہاں آتے رہے اور آباد ہوتے رہے۔
میراروڈ کے قیام کا پس منظر
ممبئی شہر ہمیشہ سے نچلے طبقہ اور مزدور پیشہ لوگوں کے لئے انتہائی پرکشش رہا ہے۔ روزی روٹی کی تلاش میں لوگ یہاں آتے رہے اور آباد ہوتے رہے۔ جب شہر پوری طرح سے آباد ہوگیا بلکہ آبادی گنجان ہوگئی تو لوگوں نے مضافات کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ جب ممبئی کے مضافات میں بھی آبادی کا دباؤ بڑھا تو پڑوس کا تھانے ضلع پُرکشش معلوم ہونے لگا اور کئی نئے شہر آباد ہوتے گئے۔ جو لوگ ممبئی میں مکان بنانے یا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے وہ ان نئے شہروں میں سکونت اختیار کرنے لگے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جن کا اس نئے شہر اور ممبئی شہر سے براہِ راست رابطہ برقرار ہے۔ انہی شہروں میں سے ایک میرا روڈ ہے جو تمام تر شہری مسائل اور مشکلات کے باوجود ایک زندہ اور متحرک شہر ہے۔ میرا روڈ صنعت و تجارت کے ساتھ ساتھ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بھی مرکز ہے۔ بہت کم وقت میں اس نے اپنی علاحدہ شناخت بنالی ہے۔ بے شمار تعلیمی اداروں اور ممتاز شخصیات نیز متوسط اور نچلے متوسط طبقے اس شہر کی پہچان ہیں۔
سید نذر حسین مرحوم کا خواب
میراروڈ کے قیام کا جب بھی ذکر آتا ہے تو ایک ہی نام فوراً زبان پر آ جاتا ہے۔ وہ ہے بانیٔ میراروڈ مرحوم سید نذر حسین کا، جنہوں نے مسلمانوں کیلئے ایک بستی بسانے کا خواب دیکھا اور اس کیلئے کوششیں کیں۔ سید نذر حسین مرحوم محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ انہیں میراروڈ کا معمار کہا جاسکتا ہے۔ جب حکومت نئی ممبئی کے منصوبے کا خاکہ تیار کر رہی تھی اس وقت انہوں نے میراروڈ میں ایک ماڈل بستی بسانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے عزم کا نتیجہ ہے کہ جنگل میں چہل پہل ہو گئی۔ جس سر زمین پر سوائے جھاڑ جھنکاڑ کے اور کچھ بھی نہیں تھا، وہاں کسی کالونی کی بنیاد ڈالنا بظاہر ایک مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی رہی ہوگی مگر ہزار رکاوٹوں کے باوجود نذر حسین صاحب نے زمین خریدی اور اس پر چند عمارتیں تعمیر کیں۔ آج سے ۶۰؍ سال پہلے میرا روڈ کا کوئی وجود نہیں تھا۔ یہ پورا علاقہ جنگل، کھیتی اور نمک کے کھیتوں پر مشتمل تھا۔ ریلوے کا صرف ۱۰؍ فٹ کا ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم تھا جہاں ٹرینیں صرف نمک لوڈ کرنے کیلئے رکتی تھیں۔ یہاں سے روزانہ ہزاروں بوری نمک ہندوستان بھر میں سپلائی ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جامع مسجد الشمس، تزئین و آرائش کا شاندار نمونہ ہے
جن لوگوں نے وہ دور دیکھا ہے، بتاتے ہیں کہ اسٹیشن کے آس پاس دن میں بھی خوف کا ماحول رہتا تھا۔ یہ تک کہا جاتا ہے کہ اناج کی گاڑیاں لوٹ لی جاتی تھیں۔
۱۹۶۰ء کے ایک تاریخی لمحے میں سید نذر حسین نے زمین کا پہلا ٹکڑا صرف ڈیڑھ سو روپے میں خریدا تھا۔ آج اس پر این ایچ اکیڈمی اسکول کی بلند عمارت قائم ہے۔ اس کے بعد ڈھائی ایکڑ ۲۲؍ گنٹھا زمین کا بیع نامہ ۲؍ ہزار روپے میں کیا۔ ۱۹۶۲ء میں وہ زمین خریدی جس پر آج انجمنِ مفیدِالیتمیٰ ہے۔ اس دور میں بھائندر سے پیدل آنا پڑتا تھا۔ سید نذر حسین نے ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لوگوں کو میراروڈ کے جلسہ ٔ سنگ بنیاد کی دعوت دی۔ ۱۳ ؍ اپریل ۱۹۷۹ ء کو سنگ بنیاد کی تقریب میں بیس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ اس جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں دو مختلف انتہاؤں کے سیاسی رہنما موجود تھے۔ ایک مسلم لیگ کے صدر اَور رکن پارلیمان غلام محمود بنات والا اور دوسرے شیوسینا پرمکھ بالا صاحب ٹھاکرے۔ اس کا مقصد بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا تھا۔
ریلوے اسٹیشن کیلئے جدوجہد
میرا روڈ آباد کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ریلوے اسٹیشن کا نہ ہونا تھا۔ اس کیلئے سید نذر حسین نے تاریخی جدوجہد کی۔ وہ ویسٹرن ریلوے کے منیجر شرما صاحب سے اُن کے دفتر واقع چرچ گیٹ میں ملے اور نئی بستی بسانے کا منصوبہ پیش کیا۔ منیجر نے کہاکہ چھ مہینے تک ہر ماہ ۱۰۰ ؍ ریلوے پاس گورے گاؤں سے میرا روڈ تک نکالو۔ اس وقت پاس ۴؍ روپے کا تھا۔ سید مرحوم نے ۱۰۰؍ پاس خریدے اور آگری سماج کے لوگوں میں مفت بانٹ دیے تاکہ ریکارڈ میں آمدورفت درج ہو۔ بعد میں نوویٹ سونامی کمپنی کے مزدوروں کو بھی پاس دلوانا شروع کیا۔ مسلسل جدوجہد اور ٹکٹوں کا ریکارڈ بڑھنے پر بالآخر میرا روڈ کو باقاعدہ ریلوے اسٹیشن کا درجہ مل گیا۔
خواب کی تعبیر
میرا روڈ جو کبھی بنجر، کیچڑ پانی اور بے ترتیب پتھروں کی زمین تھا، سید نذر حسین کی کاوشو ں سے ایک ایسی بستی بنتا چلا گیا جسے آج ایک بھرپور شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس شہر کا تذکرہ ترکی، مصر، امریکہ کے اخبارات بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہاں عمارتیں تعمیر کیں، پانی کا انتظام کیا، اسکول اور کالج بنائے اور عالیشان مسجد تعمیر کروائی۔ یہاں کی اونچی اونچی عمارتیں، صاف ستھری گلیاں اور شاہراہیں سید نذر حسین کی محنتوں کی یادگار ہیں۔ قدرت نے انہیں جہاں بے شمار نعمتوں سے نوازا ان میں سے ایک عمر بھی ہے۔ جس پودے کی انہوں نے آبیاری کی تھی اسے پھلتا پھولتا دیکھا اور ۲۰۲۵ء میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔