• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آخر شہر گندگی سے کب پاک ہوگا اور کارپوریٹرس نے کیا ذمہ داریاں نبھائی ہیں ‘‘

Updated: November 06, 2026, 1:48 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ جب شہر کو گندگی سے پاک نہیں کیا جاسکتا ہے تو کارپوریشن الیکشن کرانے کی کیا ضرورت ہے۔ بارہا ہدایات کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہونے پرناراضگی کا اظہارکیا۔

Bombay High Court. Picture: INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

شہر و مضافات میں جابجا پائی جانے والی گندگی اور کوڑا کرکٹ کا کوئی مستقل حل تلاش نہ کرنے اور اس ضمن میں کورٹ کی جاری کردہ بے شمار  ہدایتوں پر ٹھوس طریقہ سے عمل نہ کرنے کے خلاف داخل کردہ عرضداشتوں پر شنوائی کے دوران بامبے ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران جہاں کورٹ نے شہر میں پائی جانے والی گندگی کے نصف حصہ کیلئے کچی آبادی میں رہنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر انہیں دی جانے والی سہولتوں کو ختم کرنے کے سلسلہ میں بی ایم سی اور ایس آر اے سے جواب طلب کیاوہیں شہر کے تمام وارڈوں کے کارپوریٹرس پر تنقید کرتے ہوئے یہ سوال بھی کیا کہ شہر کو گندگی سے پاک کرنے کیلئے انہوں نے ذاتی طور پر کتنی دلچسپی دکھائی ہے اور کیا کام کیا ہے ؟

بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے نے کہا کہ کیا شہر کے کسی بھی کارپوریٹر نے مستقل طور پر اپنے علاقوں کو گندگی اور کوڑا کرکٹ سے پاک رکھنے کیلئے کوئی ٹھوس مہم چلائی یا اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے ۔انہوںنے کارپوریٹروں پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر شہر ی مسائل کو حل کرنے اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں خصوصی طو رپر شہر  میں جا بجا گندگی اور کوڑا کرکٹ سے اٹھنے والی بدبو پر کارپوریٹرس قابو نہیں پاسکتے ہیں اور حالات اتنے ہی خراب ہیں تو کارپوریشن  الیکشن کرانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟

یہ بھی پڑھئے: تہوار کے دوران بھیڑ کے پیش نظر پلیٹ فارم ٹکٹ کی فروخت پر وقتی پابندی عائد کردی

دو رکنی بنچ نے کانجور مارگ سے اٹھنے والی بدبو پر اب تک قابو نہ پانے اور شہر اور مضافات میں گندگی کے مسائل  کے حل کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر بی ایم سی کو آڑے ہاتھوں لیا ساتھ ہی ایس آر اے  سے کہا کہ ’’ اگر شہر میں نصف سے زائد گندگی پھیلانے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے ذمہ دار کچی آبادیوں میں رہنے والے مکین ہیں تو کیا ان کو دی جانے والی سہولتیں اور رعاتیوں کو بند کر دیا جانا چاہئے یا بند کیا جاسکتا ہے ؟ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کچی آبادی کے مکین اگر حفظان صحت  کے معاملے میں تعاون نہیں کررہے ہیں تو کیا ان کے رہائشی حق کو سلب کیا جاسکتا ہے ؟

اس پر آیس آر کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل بریندر صراف نے کہا کہ قانونی دفعات ایس آر اے کو اس طرح کا اختیار نہیں دیتی ہیں۔

دو رکنی بنچ نے اس پر بی ایم سی سے یہ بھی جاننا چاہا کہ اے آئی آپریٹڈ کیمرے اور مسٹ اسپرنکل سسٹم کے ذریعہ کچی آبادیوں میں کام کیا جائے تو کیا گندگی پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔کورٹ کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بی ایم سی کے سینئر وکیل انل ساکھرے نے کہا کہ ہر اس مقام پر جہاں کچرا ڈالا جائے گا،مذکورہ کیمرہ وہاں نصب کیا جارہا ہے ۔اسی درمیان ایس آر اے کے وکیل نےکہا کہ جلد ہی اس ضمن میں بیداری مہم شروع کی جائے گی ۔ اس پر ایک بار پھر کورٹ نے شہر کے تمام کارپوریٹروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن کو یہ کرنا چاہئے ، وہ ان تمام ذمہ داریوں سے اپنا پلڑا جھاڑے ہوئے ہیں۔

جسٹس کلکرنی نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں سے مذکورہ مسائل کے حل کے لئے کورٹ نے بارہا ہدایتیں دی ہیں اور اب تک شہر و مضافات کو گندگی سے پاک رکھنے اور کوڑا کرکٹ  اور ڈمپنگ گراؤنڈ سے اٹھنے والی بدبوپر قابو پانےکے سلسلے میں تقریباً ۵؍ سو سے زائد مشورے اور ہدایات دی چکی ہیں لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نظر نہیں آتا   ۔کورٹ نے کئی کچی آبادیوں کے مکینوں اورگندگی اور کوڑا کرکٹ پھینکنے والی  ۴۰؍ سے زائد سوسائٹیوں کونوٹس دیئے جانے کی اطلاع پر مذکورہ معاملہ میں کارپوریٹروں کو ہوش کے ناخن لینے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو دیوالی کی تعطیلات کےسبب۱۷؍ نومبر تک ملتوی کر دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK