ہندوستان میں وہائٹ کالر ملازمتوں کی تقرری مسلسل سست روی کا شکار ہے۔ تازہ ترین فاؤنڈاِٹ ہائرنگ انڈیکس کے مطابق، فروری میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد جون تک انڈیکس میں ۱۸؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 5:04 PM IST | Mumbai
ہندوستان میں وہائٹ کالر ملازمتوں کی تقرری مسلسل سست روی کا شکار ہے۔ تازہ ترین فاؤنڈاِٹ ہائرنگ انڈیکس کے مطابق، فروری میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد جون تک انڈیکس میں ۱۸؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
فروری میں عروج پر پہنچنے کے بعد ہندوستان میں وہائٹ کالر ملازمتوں کی بھرتی مسلسل کم ہو رہی ہے، کیونکہ کمپنیاں نئی تقرری میں احتیاط برت رہی ہیں۔ فاؤنڈ اِٹ (Foundit) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہائرنگ انڈیکس مسلسل چار ماہ سے گراوٹ کا شکار ہے۔ یہ فروری میں ۴۰۴؍سے کم ہو کر مارچ میں ۳۸۵، اپریل میں ۳۷۰، مئی میں ۳۴۸؍ اور جون میں ۳۳۱؍ تک پہنچ گیا، جو فروری کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں ۱۸؍ فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جون میں تقرری کی تعداد گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ۹ ؍ فیصد اور مئی کے مقابلے میں ۵؍ فیصد کم رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر یقینی کاروباری ماحول کے باعث آجر زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ سست روی سب سے زیادہ اُن شعبوں میں دیکھی گئی جو بین الاقوامی تجارت سے وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر جون میں درآمد و برآمد کے شعبے میں بھرتیوں میں سال بہ سال ۳۰؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو تمام زیرِ جائزہ صنعتوں میں سب سے زیادہ تھی۔ یہ رجحان گزشتہ چند ماہ سے جاری اعتدال کی ہی ایک کڑی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمی بیرونی تجارت کے حجم میں نرمی، شپمنٹ کی سرگرمیوں میں کمی، اور سرحد پار تجارت کے ٹھنڈا پڑنے کے باعث کسٹمز اور ٹریڈ کمپلائنس سے متعلق ملازمتوں میں تقرریوں میں کمی کی عکاس ہے۔ درآمد و برآمد کے شعبے میں یہ گراوٹ کیمیکلز اور پلاسٹکس (۲۸؍ فیصد کمی) اور لاجسٹکس و ٹرانسپورٹیشن (۲۳؍ فیصد کمی) کے شعبوں میں بھی نمایاں کمی کے ساتھ دیکھی گئی کیونکہ یہ تینوں صنعتیں تجارت اور مینوفیکچرنگ کے ایک ہی معاشی چکر سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فرح نے دپیکا کو ۱۰؍ دن سیٹ پر بیٹھ کر شاہ رخ کی اداکاری کو محض دیکھنے کو کہا تھا
دیگر شعبے جن میں تقرریوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، ان میں ریٹیل (۱۸؍ فیصد)، توانائی (۱۲؍ فیصد)، بینکنگ، مالیاتی خدمات اور انشورنس ( بی ایف ایس آئی ) (۹؍ فیصد) اور آئی ٹی سافٹ ویئر و سروسیز (۶؍فیصد) شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ کمی تقریباً تمام صنعتوں اور شعبہ جات میں دیکھی گئی۔ اگرچہ صارفین اور صحت سے متعلق چند شعبوں میں اب بھی ترقی ہو رہی ہے لیکن وہ آئی ٹی سروسیز، بی ایف ایس آئی، ریٹیل اور آؤٹ سورسنگ میں آنے والی مجموعی کمی کا ازالہ کرنے کے لیے کافی نہیں۔
جی سی سی (جی سی سی) کا شعبہ مندی کے باوجود مضبوط
ہندوستان کے **گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (Global Capability Centres - GCCs) کا شعبہ مجموعی رجحان کے برعکس مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جون میں جی سی سی کی بھرتیوں میں سال بہ سال ۱۱؍ فیصد اضافہ ہوا،جبکہ ۲۰۲۶ء میں اس شعبے میں ملازمتوں کی تعداد بڑھ کر۵۱۰۴۵۲؍ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۱۲؍ فیصد زیادہ ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:اگر امریکی کمپنیاں مناسب تجاویز پیش کریں تو اشیائے ضروریہ کی خریداری ممکن: ایران
رپورٹ کے مطابق۲۰۲۱ءکے بعد سے ہندوستان میں جی سی سی بھرتیوں میں ۴ء۳؍ گنا اضافہ ہو چکا ہے، اور صرف ۲۰۲۶ءکی پہلی ششماہی میں۲۲۷۹۹۱؍ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ اسی عرصے میں ملک میں جی سی سی مراکز کی تعداد بڑھ کر تقریباً ۲۱۲۰؍ ہو گئی ہے۔ جی سی سی میں بھرتیوں کی نوعیت بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ ۲۰۲۱ء میں صرف ۱۱؍ فیصد ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی مہارت درکار تھی، لیکن اب اندازہ ہے کہ تقریباً ہر تین میں سے دو نئی ملازمتیں (۶۴؍ فیصد) اے آئی مہارتوں کی متقاضی ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر اور بی ایف ایس آئی کے شعبے مجموعی جی سی سی بھرتیوں کا۵۶؍ فیصد حصہ رکھتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان اب صرف بیک آفس خدمات کا مرکز نہیں بلکہ جدت اور اختراع کا ایک اہم عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔