پیداوار بہت زیادہ ہوگئی ہے، اب کھپت کے نئے راستوں کی تلاش، ’اتھنال اے ٹی ایم‘ لگیںگے، اس سے چلنےوالے خصوصی چولہے متعارف کرائے جائیں گے۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 10:56 AM IST | New Delhi
پیداوار بہت زیادہ ہوگئی ہے، اب کھپت کے نئے راستوں کی تلاش، ’اتھنال اے ٹی ایم‘ لگیںگے، اس سے چلنےوالے خصوصی چولہے متعارف کرائے جائیں گے۔
عوام بھلے ہی اتھنال کی ملاوٹ والے ای-۲۰؍ پیٹرول سے پریشان ہیں مگر حکومت اسے باورچی خانہ تک پہنچانے کی تیاری کررہی ہے۔اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت اسے رسوئی گیس کے اہم متبادل کے طور پر متعارف کرانے کا فریم ورک تیار کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایسا ریٹیل ماڈل بھی زیر غور ہے، جس کے تحت صارفین مخصوص ’’اتھنال اے ٹی ایم‘‘ سےکنستروں میں اتھنال خرید کر خصوصی چولہوں میں استعمال کر سکیں گے۔ اگرچہ یہ تجویز ابھی مستقبل کا خواب معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ ہندوستان کی ’’بایو فیول حکمت عملی‘‘ میں آنے والی بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اتھنال کی کھپت کےنئے متبادل کی تلاش
واضح رہے کہ ہندوستان پیٹرول میں اتھنال کی ۲۰؍ فیصد ملاوٹ کا ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر چکا ہے۔ اب اتھنال کے نئے استعمالات کی تلاش مزید تیز ہو گئی ہے۔ باورچی خانے کے ایندھن، فلیکس فیول گاڑیاں اور اتھنال کی برآمدات اب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہندوستان نے اتھنال کی پیداوار کا ایسا نظام قائم کر لیا ہے جو موجودہ طلب سے کہیں زیادہ پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امید ہے کہ نئے کھپت کے نئے متبادل تلاش کر لینے کے بعد مستقبل قریب میں طلب میں تیز رفتار اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ’دی اوڈیسی‘ نے مراکش کی سیاحت کو نئی زندگی دی، تاریخی مقامات عالمی توجہ کا مرکز
کامیابی نے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا اتھنال کی ملاوٹ مودی سرکار کا اہم منصوبہ
اتھنال کی ملاوٹ کا پروگرام نریندر مودی حکومت کے سب سے اہم توانائی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں پیٹرول میں اتھنال کی ملاوٹ محض ڈیڑھ فیصد سے بڑھ کر۲۰؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے جس سے خام تیل کی درآمدات میں کمی، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور مقامی بایو فیول صنعت کی مضبوط بنیادملی ہے۔ ۱۵-۲۰۱۴ء سے اب تک اتھنال کی ملاوٹ کے ذریعے ملک نے غیر ملکی زرمبادلہ کی مد میں۱ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت کی ہےجبکہ کسانوں اور اتھنال بنانے والی ڈسٹلری صنعت کی آمدنی بڑھی ہے۔
صنعتکاروں کو بھی فائدہ
حکومت کی پالیسیوں کے جواب میں صنعتکاروں نے بھی اس جانب توجہ دی اور سرمایہ کاری کی۔ شوگر ملوں نے ڈسٹلیشن کی صلاحیت میں اضافہ کیا جبکہ اناج سے اتھنال بنانے والے نئے ادارے بھی تیزی سے میدان میں آئے۔ اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر اور دیگر کئی ریاستوں میں نئے پروجیکٹ قائم کئے گئے۔ اس کے نتیجے میں ملک اب ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں اتھنال پیدا کرنے کی صلاحیت موجودہ طلب سے زیادہ ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایف ٹی اے کا اثر: آر ایس ڈبلیو ایم ملبوسات کے شعبے میں قدم رکھے گی
اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
اگر پیداوار کی صلاحیت کو سامنے رکھا جائے تو اتھنال کو باورچی خانے کے ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز زیادہ معنی خیز نظر آتی ہے۔ کیئر ایج ریٹنگز کی مئی میں جاری رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی اتھنال پیداکرنے کی سالانہ صلاحیت۲۰؍ارب لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران مزید۴؍ارب لیٹر کی صلاحیت شامل ہونے کی توقع ہے، جس سے مجموعی صلاحیت تقریباً۲۴؍ارب لیٹر تک پہنچ جائے گی۔
اس کے مقابلے میں حکومت کا ای-۲۰؍ پروگرام سالانہ تقریباً۱۱؍ارب لیٹر اتھنال استعمال کرتا ہے۔ شراب سازی، دواسازی اور کیمیکل صنعتیں مزید۳؍ سے۳ء۵؍ ارب لیٹر کی طلب پیدا کرتی ہیں۔ اس کے باوجود تقریباً ۷؍ ارب لیٹر کی پیداواری صلاحیت ایسی رہ جاتی ہے جس کا مکمل استعمال نہیں ہو پارہا۔ اسی لیے صنعت سے وابستہ ادارے نیپال، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں برآمدات کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں، جہاں اتھنال ملاوٹ کے اہداف تو موجود ہیں لیکن مقامی پیداوار ناکافی ہے۔