• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’سی سی ون‘ کےعلامتی نام والا افسر کون ہے جو اس وقت امریکی ایجنسیوں کی زد پر ہے؟

Updated: December 02, 2023, 10:59 AM IST | Inquilab News Network | Washington

واشنگٹن کا الزام ہے کہ ہندوستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے گرپتونت سنگھ کو قتل کروانے کی کوشش کی حالانکہ جسےیہ ذمہ سونپا گیا تھا وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور کھیل بگڑ گیا۔

Joe Biden had already informed Modi about this? Photo: INN
جو بائیڈن نے مودی کو پہلے ہی اس کی اطلاع دیدی تھی؟۔ تصویر : آئی این این

امریکہ نے ہندوستان پر ٹھیک وہی الزام لگایا ہے جو کچھ عرصہ پہلے کینیڈا نے لگایا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنو ( جو ہندوستان کی نظر میں دہشت گرد ہے) کا قتل کروانےکی کوشش کی ہے۔ حالانکہ حکومت ہند نے اس کا سفارتی جواب دیدیا ہے اور معاملے کی جانچ میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ لیکن سفارتی حلقوں میں اور خارجہ امور پر نظر رکھنے والے حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر وہ کون افسر ہے جس نے گرپتونت سنگھ پنو کو قتل کروانے کی کوشش کی اور وہ بھی ایسی کوشش جو نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ امریکہ کو ہندوستان کی طرف انگلی اٹھانے کا موقع بھی فراہم کر گئی۔ 
دراصل امریکہ نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں مذکورہ افسر کا علامتی نام ’ سی سی ون‘ دیا گیا ہے۔ ملک کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ اس افسر نے نکھل گپتا نامی ایک مجرم پیشہ شخص سے رابطہ کیا جس پر گجرات میں کئی مقدمے درج ہیں ۔ سی سی ون نے نکھل گپتا کو لالچ دیا کہ اگر وہ گرپتونت سنگھ پنو کو ہلاک کروا دے تو اسے ان سارے مقدمات سے بری کروا دیا جائے گا۔ نکھل اس پر راضی ہو گیا ۔ اس نے امریکہ میں ایک شوٹر کی خدمات حاصل کیں اور اسے ایک لاکھ ڈالر ( ۸۰؍ لا روپے سے زائد) کے عوض گرپتونت کے قتل پر آمادہ کیا۔ اس کیلئے ۱۵؍ ہزا ر ڈالر (تقریباً ۱۳؍ لاکھ رروپے) ایڈوانس بھی ادا کر دیئے۔ لیکن نکھل کو یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ جس شخص کو وہ گرپتونت سنگھ کی سپاری دے رہا ہے وہ دراصل امریکہ کی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے جس نے نکھل سے کئی راز بھی معلوم کر لئے۔ 
اسی معلومات کی بنا پر امریکہ نےہندوستان سے شکایت کی ۔ کہا جا رہا ہے کہ جی ۲۰؍ اجلاس میں جو بائیڈن نے وزیر اعظم مودی سے اس معاملے میں بات کی تھی۔ اسی طرح کا الزام کینیڈا نے لگا یا تھا۔ امریکہ کے الزام کے بعد کینیڈا نے اس معاملے کو دوبارہ اٹھا یا ہے۔ ہر چند کہ ہندوستان نے واضح کر دیا کہ یہ بات اس کی خارجہ پالیسیوں میں شامل نہیں ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو یوں قتل کروائے ، ساتھ ہی حکومت ہند نے جانچ میں تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے لیکن امریکہ کی جانب سے معاملے کوطول دینے کےسبب ہر طرف سوال کئے جا رہے ہیں۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں جو کچھ بھی کرتی ہیں وہ پختہ انتظامات کے بعد کرتی ہیں ۔ آخر وہ کون سا افسرہے جس نے اپنے مشن ( گرپتونت سنگھ کے قتل) میں تو کامیابی حاصل نہیں کی الٹا ملک کی بدنامی کا باعث بن گیا۔ یہ کہا نی بالکل فلمی معلوم ہوتی ہے۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ اس واقعہ کو مشہور بھی کر رہا ہے۔امریکہ کے تیور ایسے ہیں جیسے وہ دانستہ ہندوستان سے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہو۔ اس کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے لیکن یوکرین جنگ میں غیر جانبدار رہنے کے بعد سے ہندوستان پر ایسے الزامات عائدکئے جا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK