کورونا کے خاتمے کا فی الحال کوئی امکان نہیں : ڈبلیو ایچ او

Updated: July 01, 2020, 9:14 AM IST | Agency | Washington

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنہم کے مطابق اس ہفتے ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں آئندہ کی منصوبہ بندی کی جائے گی اور ترجیحات مرتب کی جائیں گی۔ ویکسین کی تیاری کی کوششیں جاری، دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد میں حسب معمول اضافہ، امریکہ ،برازیل اور ہندوستان میں بدستور تیزی

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور فی الحال  اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ  دنیا بھر میں اب تک  کورونا وائرس کے ایک کروڑ سے زائد مریض پائے گئے ہیں جبکہ ۵؍ لاکھ سے زائد افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈنہم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس اس وقت خاتمے کے قریب بھی نہیں ہے اور اس کا عالم گیر سطح پر پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ایجنسی کو پہلی مرتبہ اس وائرس کے بارے میں اطلاع ملنے کے ۶؍ ماہ منگل کو پورے ہو جائیں گے۔ اس وقت  ان کے ادارے کو اطلاع ملی تھی کہ چین میں نمونیا کے غیر معمولی کیس سامنے آئے  ہیں۔ یہی کورونا وائرس کے آغاز کی پہلی علامت تھی۔
  ٹیڈروس ایڈنہم  نے کہا ’’۶؍  مہینے پہلے ہم میں سے کوئی  یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ نیا وائرس عالمگیر وبا بن جائے گا۔ اس کے بعد سے عالمی ادارۂ صحت نے  وائرس سے متاثر اور ہلاک ہونے والوں کا پورا ریکارڈ رکھا ہے۔ اسی ریکارڈ کے مطابق اب تک پوری دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ اور ہلاک شدگان کی تعداد ۵؍ لاکھ سے  زائد نظر آ رہی ہے۔ٹیڈروس نے کہا کہ اکثر ملک یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کی منصوبہ بندی  کس طرح کریں کیونکہ یہ زندگی کا نیا معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے ملکوں نے اس پرکافی  حد تک قابو پایا ہے اور پھیلنے کی رفتار کو سست کیا ہے، مگر وہ اس کو مکمل طور سے مٹا نہیں سکے۔ کچھ ملکوں نےلاک ڈائون ہٹایاتو انہوں نے دیکھا کہ ان کے وہاں وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا۔
 ٹیڈروس نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی تذبذب کا شکار ہیں، کیونکہ وائرس کے پھیلنے کی گنجائش موجود ہے۔ ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ وائرس ختم ہونے کا نام بھی نہیں لے رہا ہے۔ ٹیڈروس نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت اس ہفتے اپنا اجلاس بلا رہا ہے، جس میں کورونا وائرس کے بارے میں ہونے والی اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ترجیحات کو نئے سرے سے مرتب کیا جائے گا۔ درجنوں ویکسین ابھی تجرباتی طور پر پہلے سٹیج پر ہیں اور کچھ تجربات کے آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ویکسین کی تیاری کب تک ممکن ہے۔ 
  کورونا وائرس کی صورتحال
  ادھر تازہ اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک  ایک کروڑ  ۴؍ لاکھ  ۳۵؍ ہزار ۵۶۶؍ مریض پائے جا چکے ہیں جن میں سے  ۵؍ لاکھ  ۸؍ ہزار ۸۵۵؍  لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔  البتہ اب تک  ۵۶؍ لاکھ ۹۳؍ ہزار  ۵۱۹؍ افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ جہاں تک بات ہے مختلف ممالک کی تو اب تک امریکہ  سب سے آگے ہے جہاں ۲۶؍ لاکھ  ۸۳؍ ہزار ۲۳۹؍ مریض پائے گئے ہیں جن میں سے  ایک لاکھ ۲۸؍ ہزار  ۸۱۹؍  لوگ فوت ہو چکے ہیں۔  اس کےبعد برازیل کا نمبر ہے جہاں ۱۳؍ لاکھ  ۷۰؍ ہزار ۴۸۸؍ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ  ۵۸؍ ہزار ۳۸۵؍ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ روس تیسرے نمبر پر  ہے جہاں  اب تک ۶؍ لاکھ  ۴۷؍ ہزار ۸۶۹؍ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں  اور  ۹؍ لاکھ ۳۲۰؍ مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس فہرست میں ہندوستان چوتھے نمبر پر ہے  جہاں  ۵؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار۴۴۳؍  مریض ہیں اور  ۱۶؍ ہزار ۹۱۹؍ اموات  ہوئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK