Inquilab Logo

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ذیابیطس کی دوا ’سیمگلوٹائڈس‘ کے جعلی ہونے کا انتباہ

Updated: June 24, 2024, 10:23 PM IST | Hague

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نےدنیا کے بیشتر حصوں میں ٹائپ ۲؍ ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کیلئے دی جانے والی دوا سیمگلوٹائڈس کے جعلی ہونے کا انتباہ جا ری کیا ہے۔ اس انتباہ میں سیمگلوٹائڈ گروہ کی دواؤں (مخصوص برانڈ اوزیمپک کی) کی مصنوعات کے ۳؍ جعلی گروہ کا پتہ لگایا گیا ہے۔ یہ صحت کیلئے مضر ہونے کے ساتھ جسم میں پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے جعلی سیمگلوٹائڈس پرطبی مصنوعات کاانتباہ جاری کیا، اس قسم کی دوائیں جو کچھ ممالک میں ٹائپ ۲؍ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔اس الرٹ میں سیمگلوٹائڈ گروہ کی دوائیوں (مخصوص برانڈ اوزیمپک کی) کی مصنوعات کے ۳؍جعلی گروہ کا پتہ لگایا گیا ہے، جو اکتوبر ۲۰۲۳ءمیں برازیل میں، اکتوبر ۲۰۲۳میں برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ میں، اور دسمبر۲۰۲۳ءریاستہائے متحدہ امریکہ میں پائے گئے تھے۔ڈبلیو ایچ او گلوبل سرویلنس اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (جی ایس ایم ایس) ۲۰۲۲ءسے تمام جغرافیائی خطوں میں جعلی سیمگلوٹائڈ مصنوعات کے بارے میں بڑھتی ہوئی رپورٹوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ کچھ رپورٹس کی تصدیق کے بعد ڈبلیو ایچ او کی طرف سے یہ پہلا سرکاری نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا: لیتھیم بیٹری بنانے والی فیکٹری میں بھیانک آتشزدگی، ۱۶؍ افراد ہلاک

ڈاکٹر یوکیکو ناکاتانی، ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے ایکسیس ٹو میڈیسن اور ہیلتھ پراڈکٹس نے کہا’’ڈبلیو ایچ او ہیلتھ کیئر پروفیشنلز،ریگولیٹری حکام اورعوام کو دوائیوں کے ان جعلی گروہ سے آگاہ رہنےکا مشورہ دیتاہے۔ ہم تمام وابستہ لوگوں سے مشتبہ ادویات کے استعمال کو روکنے اورمتعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کامطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ سیمگلوٹائڈز، بشمول مخصوص برانڈ پروڈکٹ جس کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے، ٹائپ ۲؍ذیابیطس والے مریضوں کو ان کےخون میں شکرکی سطح کو کم کرنے کیلئےتجویز کی جاتی ہے۔ سیمگلوٹائڈز،بھی قلبی واقعات کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ زیادہ تر سیمگلوٹائڈ مصنوعات کوجلد کے نیچےہفتہ وار بنیادوں پر انجیکشن لگانا ضروری ہے لیکن وہ روزانہ لی جانے والی گولیوں کی شکل میں بھی دستیاب ہیں۔ یہ ادویات خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے کے علاوہ بھوک کو دبانے کیلئےبھی کھائی جاتی ہیں، اوراسی لیے کچھ ممالک میں وزن میں کمی کیلئےان کو تیزی سے تجویز کیاجارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد یونیورسٹی نے احتجاج کے خلاف ۵؍ طلبہ کو معطل کیا اورجرمانہ عائد کیا

ڈبلیو ایچ او ان دوائیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ جعلی ہونے کی رپورٹوں کا بھی مشاہدہ کررہا ہے۔ یہ جعلی مصنوعات لوگوں کی صحت پر مضراثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اگر مصنوعات میں ضروری خام اجزاء نہیں ہوتے ہیں، تو جعلی ادویات خون میں گلوکوز کی غیر منظم سطح یا وزن کے نتیجے میں صحت کی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔ دوسری صورتوں میں،انجیکشن میں ایک اورغیر اعلانیہ فعال جزو شامل ہو سکتا ہے، جیسے انسولین، جو صحت کے خطرات یا پیچیدگیوں کی ایک غیر متوقع حد کا باعث بنتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK