برسراقتدار طبقے کے کئی اور لیڈران پر بھی انگلیاں اٹھیں لیکن استعفے صرف اجیت پوار کی پارٹی کے لیڈران ہی سے لئے گئے ، یہ محض اتفاق ہے یا کوئی سیاسی راز؟
EPAPER
Updated: April 21, 2026, 12:20 AM IST | Mumbai
برسراقتدار طبقے کے کئی اور لیڈران پر بھی انگلیاں اٹھیں لیکن استعفے صرف اجیت پوار کی پارٹی کے لیڈران ہی سے لئے گئے ، یہ محض اتفاق ہے یا کوئی سیاسی راز؟
مہایوتی حکومت میں اب تک۴؍لیڈران اہم سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے تنازع کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے ۳؍ کو استعفیٰ دینا پڑا جبکہ ایک کا معاملہ التواء میں ہے ۔ دھننجے منڈے، مانک رائو کوکاٹے ، روپالی چاکن کر اور نرہری زروال، ان چاروں کا تعلق این سی پی سے ہے۔ بی جے پی ، این سی پی (اجیت) اور شیوسینا(شندے) کے اتحاد سے قائم ہونے والی مہایوتی حکومت میں کئی لیڈران پر انگلیاں اٹھیں لیکن کارروائی این سی پی لیڈران کے خلاف ہی ہوئی۔ یہ محض اتفاق ہے یا پھر کوئی سیاسی راز؟
دھننجے منڈے : دھننجے منڈے بی جے پی کے طاقتور لیڈر گوپی ناتھ منڈے کے بھتیجے ہیں لیکن وہ کئی سال سے شرد پوار کی این سی پی میں تھے۔ پارٹی میں پھوٹ پڑی تو وہ اجیت پوار کیساتھ چلے گئے۔ کہا جاتا ہےکہ بیڑ ضلع میں ان کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔ہر بار کسی اہم قلمدان کے ذریعے نوازے جاتے رہے۔انکے پاس وزارت برائے رسد وخوراک تھا جب ان پر بد عنوانی کے الزامات لگے۔ یاد رہے کہ دھننجے منڈے کا استعفیٰ تو بیڑمیں مساجوگ گائوں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے قتل کے بعد لیا گیا لیکن معروف خاتون سماجی کارکن انجلی دمانیا ان پر کافی پہلے سے الزامات لگا رہی تھیں کہ انہوں نےکسانوں کیلئے خریدے گئے ساز وسامان میں اپنے قریبی ٹھیکیداروں اور کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ دمانیا نے اس تعلق سے میڈیا کے سامنے تفصیلات بھی پیش کی تھیں۔ اسی دوران سنتوش دیشمکھ قتل معاملے میں عوامی ناراضگی پیدا ہوئی، بی جے پی ، این سی پی (شرد) اور شیوسینا (ادھو) سبھی نے مل کر اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا اور بالآخر دیویندر فرنویس نے دھننجے منڈے کا استعفیٰ مانگ لیا۔
مانک رائو کوکاٹے: ایسا ہی کچھ مانک رائو کوکاٹے کے ساتھ بھی ہوا جووزیرزراعت ہوا کرتے تھے جب این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ان کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس میں وہ اسمبلی کے ایوان میں بیٹھ کر اپنے موبائل پرپتے کھیلتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ اس پر خوب ہنگامہ ہوا کہ ایک طرف کسان بے موسم برسات کے سبب مصیبت میں مبتلا ہیں اور دوسری طرف وزیر صاحب پتے کھیل رہے ہیں۔ تب اجیت پوار نے وزیر اعلیٰ سے کہہ کر ان کا قلمدان تبدیل کروا دیا۔انہیں کھیل کود اور اقلیتی امور کا وزیر بنا دیا گیا۔ انہوں نے قلمدان سنبھالا ہی تھا کہ ایک ۳۰؍ سال پرانے بدعنوانی کے معاملے میں ان کے خلاف عدالت کا فیصلہ آ گیا۔ وہ جیل چلے گئے اور انہیں وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا ۔
نرہری زروال:نرہری زروال بھی این سی پی (اجیت) کے ایک فعال لیڈر تصور کئے جاتے ہیں جنہوں نے کافی نیچے سے اونچائی تک کا سفر طے کیا ہے۔ وہ اس وقت وزیر برائے غذا اور ادویات ہیں۔ ان کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں وہ اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ طور پر ایک زنخے کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پر ہرطرف سے تنقیدیں ہوئیں تو وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے جانچ کا حکم دیا اور رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔ برسراقتدار طبقے کے علاوہ اپوزیشن کا بھی زروال کا ویڈیو سامنے آنے پر ان کے تئیں رویہ انتہائی نرم تھا۔ زروال کی وزارت تو بچ گئی لیکن اس وقت ہر کسی کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ آخرزروال کا یہ ویڈیو کس نے شوٹ کیا اور کیوں وائرل کروایا؟ ابھی یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان کی کرسی بچ جائے گی یا پھر آئندہ دنوں میں کوئی اور فیصلہ کیا جاسکتا ہے؟
روپالی چاکن کر :این سی پی ( اجیت) کی خاتون لیڈر روپالی چاکن کر وزیر تو نہیں تھیں لیکن ان کا عہدہ وزیر کے برابر ہی تھا۔ وہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن تھیں۔ ناسک میںجب ایک خاتون کی شکایت پر جنسی استحصال کے الزام میں اشوک کھرات کو گرفتار کیا گیا تواچانک سوشل میڈیا پر اشوک کھرات کیساتھ روپالی چاکن کر کی تصویریں وائرل ہونے لگیں جن میں وہ ، کھرات کے پیر دھلواتے ہوئے، ان کے پیر چھوتے ہوئے حتیٰ کہ قدم بوسی کرتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ بعد میں انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔
ان تمام لیڈران پر جو الزامات عائد ہوئے ہیں ان کا دفاع نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ سوال لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا صرف این سی پی (اجیت ) لیڈران ہی اس طرح کے معاملات میں ملوث ہیں؟ دیگر پارٹیوں کے لیڈران پر بھی تو الزامات لگے ہیں، ان کا استعفیٰ کیوں نہیں لیا گیا؟ یا کم از کم ان پر اتنا شور کیوں نہیں مچایا گیا؟ سنجے شرساٹ (شندے گروپ) کا روپے سے بھرے بیگ کے ساتھ ویڈیو وائرل ہوا تھا، ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ اشوک کھرات کیساتھ دیپک کیسرکر کی بھی تصویریں ہیں۔ کہاجا تا ہے کہ کیسرکر اپنا کوئی بھی کام کھرات سے پوچھے بغیر نہیں کرتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ ایوان میں حاضری بھی اس وقت لگاتے تھے جب اشوک کھرات انہیں اجازت دیدے۔ حیران کن طور پر انجلی دمانیا نے بھی جب ان لوگوں کی فہرست پیش کی جنہوں نے اشوک کھرات کے ساتھ سب سے زیادہ بات کی ہے، اس میں کیسرکر کا نام نہیں تھا۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہےکہ تنازعات سے گھرے لیڈران میں دھننجے منڈے کو چھوڑ دیا جائے تو باقی تینوں کا تعلق ناسک سے ہے۔ جبکہ فرضی بابا اشوک کھرات کا تعلق بھی ناسک سے ہے۔