ضلع کلکٹر، جنگلی حیات کے ماہرین، محققین اور سیاسی لیڈران پر مشتمل وفد نے گزشتہ مہینے کے آخر میں جوائی میں تیندوؤںکے ریزرو کا دورہ کیا۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 11:59 AM IST | Mumbai
ضلع کلکٹر، جنگلی حیات کے ماہرین، محققین اور سیاسی لیڈران پر مشتمل وفد نے گزشتہ مہینے کے آخر میں جوائی میں تیندوؤںکے ریزرو کا دورہ کیا۔
مہاراشٹر کے کچھ حصوں جیسے جُنّر میں انسانوں پر تیندوے کے حملے کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر پونے کے محکمہ جنگلات نے یہ جانچنے کی کوششیں شروع کی ہیں کہ آیا انسانوں اور تیندوؤں کے درمیان بقائے باہمی کے راجستھان کے جوائی ماڈل کو جُنّر میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں ایک وفد جس میں محکمہ جنگلات کے حکام، جنگلی حیات کے ماہرین، محققین اور سیاسی لیڈران جیسے دلیپ ولسے پاٹل اور رادھا کرشنا وکھے پاٹل نیز پونے کے ضلع کلکٹر جتیندر دوڈی کی قیادت میں ۲۸؍اور۲۹؍ مارچ کو جوائی میںتیندوؤں کے ریزرو کا دورہ کیاتھا۔ اس دورے کا اہتمام وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے تعاون سے ان طریقہ کار کا مطالعہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا جس میں جوائی جہاں تیندوے بڑی تعداد میں ہونے کے باوجودانسانوں پر ان کے حملے کے واقعات کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیارے خان کے بیان پر نونیت رانا بھڑک اٹھیں، اشتعال انگیز الزامات
محکمہ فی الحال اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اس ماڈل کے عناصر کو جُنّر نافذکیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ محکمہ جنگلات کے ایک افسر نے کہا کہ ’’ہم راجستھان پیٹرن کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے سمجھ کرجنرمیں اس کے نفاذ پرغور کیا جاسکے۔‘‘
اس دورے کے بارے میں محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر (پونے) آشیش ٹھاکرے نے کہاکہ ’’وفد نے جوائی میں تیندوؤںکے ریزرو کا دورہ کیا جو انسانوں اور تیندوؤں کے بقائے باہمی کے اپنے منفرد نمونے کیلئے جانا جاتا ہے۔ ہم جلد ہی اس بات کی کھوج لگائیں گے کہ کیا انسان اورتیندوے کے تنازع کو کم کرنے کیلئے جُنّر میں بھی ایسا ہی ماڈل لایا جا سکتا ہے۔‘‘
پونے کے علاقے جُنّر کے دیہاتوں، کھیتوں اور بستیوں کے قریب تیندوے کی تعداد بڑھی ہے جس نے حکام کو تجرباتی اقدامات جیسے کہ تیندوے کی پیدائش پر قابو پانے کے پروگرام اور تیندوے کی مجوزہ سفاری منصوبے پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایس دفتر کی سیکوریٹی کیخلاف عرضداشت
راجستھان میںجوائی علاقہ بقائے باہمی کی ایک منفرد مثال پیش کرتا ہے جہاں تیندوے انسانی بستیوں کے قریب تو رہتے ہیں لیکن ان کے حملے کے واقعات پیش نہیں آتے ۔ گرینائٹ کی پہاڑیاں اور غاریںتیندوؤں کیلئے قدرتی پناہ گاہ فراہم کرتے ہیںجس کی وجہ سے دن کے وقت بڑی حد تک ان کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا۔ چونکہ وہاں مویشی اور چھوٹے جنگلی جانورہوتے ہیں جن کا تیندوے شکار کرکے اپنا پیٹ بھرتے ہیں اس لئے ان کا رویہ جارحانہ نہیں ہوتا۔ مزید برآں مقامی راباری برادری کے ثقافتی عقائد اس بقائے باہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تیندوے کو اکثر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اسی لئے مویشیوں کے نقصان کی صورت میں بھی اعلیٰ درجے کی رواداری کو فروغ ملا ہے۔
تاہم جوائی اور جُنّر میں کلیدی فرق موجود ہے جو پونے کے اس علاقے( جُنّر) میں جوائی ماڈل کے نفاذ کو محدود کرسکتا ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین نے اس جانب اشارہ کیا ہے۔جُنّر میں تیندوے کی خوراک کے انداز میں ایک بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ جوائی جہاں تیندوے زیادہ تر مویشیوں اور قدرتی شکار پر انحصار کرتے ہیں،اس کے برعکس جُنّر میں وہ زیادہ تر مرغیوں کو کھاتے ہیں۔ مرغیوں جو اکثر کیمیکلز اور سپلیمنٹس کے استعمال سے پالی جاتی ہے ، کی کھپت ان تیندوؤں میں ہارمونل تبدیلیوں کو متاثر کر سکتی ہے جیسے کہ ان میںبڑھتا ہوا جارحیت کا رجحان، اس طرح خطے میں انسان اور تیندوے میں تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانےکیلئے اپوزیشن ایک اور کوشش کریگا
ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جُنّر میں تیندوے جوائی کے تیندوؤںکے مقابلے میں زیادہ جارحانہ دکھائی دیتے ہیں جو موجودہ حالات میں بقائے باہمی کو زیادہ مشکل بنا دیتا ہے۔ رویے کا یہ فرق ریاست میں جوائی جیسے ماڈل کو نافذ کرنے میں پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔
محکمہ جنگلات سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ جُنّر کیلئےآئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے سے قبل اپنی جانب سے جائزہ لینے کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ وہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے انسانوں پر تیندوے کے حملے کے واقعات سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔