غیر مراٹھی ڈرائیوراس پیشہ کو چھوڑنےپرمجبور۔ رکشا یونینوںکےمطابق ہمیں مراٹھی سیکھنے پر اعتراض نہیں لیکن اس کیلئے معقول وقت دیاجانا چاہئے۔
میراروڈ میں بھی آٹو رکشا ڈرائیور جنہیں مراٹھی نہیں آتی ، پریشان ہیں اور اس پیشے کو چھوڑنے پرغور کررہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے یکم مئی سے رکشا اورٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی لکھنا پڑھنا آنا لازمی قرار دیا ہے اور جن ڈرائیوروں کو مراٹھی نہیں آتی ، ان کے لائسنس منسوخ کر نےکا ا نتباہ بھی دیا ہے ۔اس اعلان سے غیر مراٹھی داں رکشا ڈرائیوروں میں خوف پایا جارہا ہےجس کی وجہ سے متعدد ڈرائیور اس پیشہ کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جبکہ رکشا یونینوں کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ، ہمیں لائسنس، بیج اور پرمٹ کس لئے دیئے گئے ہیں ۔ ہمیں مراٹھی سیکھنے پر اعتراض نہیں لیکن جس طرح جلد بازی میں اسے تھوپا جا رہا ہے ،وہ غلط ہے۔ حکومت کو معقول وقت دینا چاہئے ۔
میرا بھائندر کے رکن اسمبلی نریندر مہتانے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے میرابھائندرمیں حالیہ دنوں میں آٹورکشا لائسنس ، بیج اورپرمٹ جاری کرنےمیں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں سے متعلق شکایت کی تھی جس کی بنیاد پر حال ہی میں لائسنس ، بیج اور پرمٹ پانے والوں کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ یہ کارروائی یکم مئی تک جاری رہے گی۔ اس جانچ کے دوران ڈرائیوروںکا ’ڈومیسائل سرٹیفکیٹ‘ بھی دیکھا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کم از کم گزشتہ ۱۵؍ برس سے مہاراشٹر میں مقیم ہے ساتھ ہی ان کے مراٹھی زبان کا امتحان بھی لیا جا رہا ہے جس سے یہاں کے غیر مراٹھی داں ڈرائیوروں میں خوف پایا جارہاہے ۔
فرخ آباد(اُترپردیش) کے ایک آٹو رکشا ڈائیور نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ فی حال آٹو رکشا ڈرائیوروں کی جانچ جاری ہے ، اس کے باوجود ٹریفک پولیس اہلکار بہت پریشان کر رہے ہیں ۔ مختلف قسم کا عذر پیش کر کے ڈرائیوروں پر ہزاروں روپے جرمانہ عائد کر رہے ہیں جس کی وجہ سے میں نے میرا روڈ کے گلی محلے سے باہر مثلاً ہائی وے پر جانا بند کر دیا ہے ۔ اگر ٹریفک پولیس اہلکار اسی طرح پریشان کرتے رہے تومیں رکشا چلانا چھوڑ دوں گا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’کئی ڈرائیوروں نے اسی وجہ سے رکشا چلانا بند کر دیا ہے اور کئی ایسے آٹو رکشا مالکان ہیں جو اپنا پرمٹ وغیرہ آرٹی او میں جمع کر کے اس پیشہ سے علاحدگی اختیار کر رہے ہیں ۔ ایسے متعدد مالکان کو میں جانتاہوں۔‘‘
میراروڈ کے رکشا ڈرائیور ہریش پاتھیرے (۶۲)سے اس بارے میں استفسار کرنےپر انہوں نے کہا کہ ’’اس میں غلط کیاہے ۔ جس صوبے میں ہم روزی روٹی کمارہے ہیں ،وہاں کی زبان سیکھنی ہی چاہئے ۔شمالی ہند کے افراد یہاں کثیر تعداد میں رکشا چلا رہے ہیں ،وہ اپنی صوبائی زبان کے ساتھ مراٹھی سیکھ لیں تو کیا برائی ہے ۔ ان پر مراٹھی تھوپی نہیں جا رہی ہے،بس کام کیلئے انہیں مراٹھی سیکھنی چاہئے ۔ ‘‘
ملنڈ کےایڈوکیٹ شریف خان جوپہلے آٹورکشا چلاتےتھے، نے حال ہی میں وکالت کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اپنا رکشا ، ڈرائیور کو چلانے کیلئے دیا ہے، نےکہا کہ مراٹھی جاننے کی شرط سے غیر مراٹھی داں ڈرائیوروں میں خوف کا ماحول ہے، حالانکہ مراٹھی سیکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے حکومت کو اعلان کرناچاہئے ۔‘‘
ممبئی رکشا مینس یونین کے نائب صدر سبھاش پانڈے نے کہا کہ ’’ رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے پاس مہاراشٹر حکومت کا لائسنس ، بیج اور پرمٹ ہے ۔ یہ سارے دستاویزات اورثبوت قانون اور قاعدےکے مطابق دیئے گئے ہیں، چنانچہ اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ویسے تو ممبئی میں رہنے اور کام کرنے والے بیشتر افرادکو بنیادی مراٹھی آتی ہے ، اس کے باوجود اگر حکومت مراٹھی پڑھنے لکھنے کو لازمی قرار دیتی ہے تو اس کیلئے معقول وقت بھی دینا چاہئے۔ صرف اعلان کر کے غریبوں کی روزی روٹی سے کھلواڑ کرنا مناسب نہیں ہے۔‘‘
ممبئی رکشامینس یونین کے جنرل سیکریٹری تھمبی کورین نے اس نمائندے سے کہا کہ’’ اس تعلق سے ابھی صرف اعلان کیا گیا ہے ۔ باقاعدہ کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے اس لئے اس بارے میں کوئی حتمی بات کرنا قبل ازوقت ہوگا ۔ جب اس تعلق سے باقاعدہ سرکیولر جاری کیا جائے گا تب ہم ماہرین کے مشورے سے ضروری کارروائی کریں گے۔‘‘