طلاق ثلاثہ اور ایک سے زیادہ شادی کے مسئلہ پر ثناء ملک کا حکومت سے سوال، مزید کہا :پاکستان نے قرآن مجید کے حکم پر عمل کیا، ہندوستا ن بھی عمل کرے تو اس کا خیر مقدم ہے۔
ثنا ملک۔ تصویر:آئی این این
ممبئی کے ودھان بھون میں جاری مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس میں منگل کو طلاق ثلاثہ اور ایک سے زیادہ شادی کرنے سے مسلم خواتین پر ظلم ہونے کا معاملہ بی جےپی کی رکن اسمبلی(ناسک سینٹرل) دیویانی فراندے نے اٹھایا جس پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے اقتدار میں شامل این سی پی ( اجیت) کی رکن اسمبلی ثناء ملک نے حکومت سے سوال پوچھا کہ ’’اگرچہ اسلام میں تعدد ازدواج کو قبول کیا گیا ہے لیکن دوسرے مذاہب میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں، کوئی اس پر بحث نہیں کرتا لیکن صرف مسلم کمیونٹی کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ ‘‘بحث کے دوران بی جے پی کی رکن اسمبلی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ طلاق ثلاثہ سے مسلم خواتین اور اسی طرح دیگر خواتین پر ہونے والے مردوں کے مظالم کوروکنے کیلئے ریاست میں یکساںسول کوڈ ( یو سی سی ) نافذ کیا جانا چاہئے۔ اس پر وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے ایوان اسمبلی کو بتایا کہ ریاستی حکومت یو سی سی کو نافذ کرنے کے حق میں ہے اور اس کیلئے ہائی کورٹ کے سبکدوش جج کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کے مطابق آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
بی جے پی کی رکن اسمبلی دیویانی فراندے نے ایوان اسمبلی میں اپنے اسمبلی حلقہ کی چند مثالیں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم مرد اپنی بیوی کو فون پر یا پیغام بھیج کر ۳؍ طلاق کہہ کر علاحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔ چند معاملات میں بیوی کو ڈرا دھمکا کر طلاق دیا گیا ہے جس کی وجہ سے خاتون بے سہارا ہو جاتی ہے اور اس کا گزر بسر دشوار ہو جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مسلم مرد ایک سے زیادہ شادی بھی کر لیتے ہیں اور بھگتنا عورتوں کو ہی پڑتا ہے۔ مسلم خواتین کو انصاف دلانے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں طلاق ثلاثہ مخالف قانون پاس کیا ہے ۔‘‘ انہوںنے کہا کہ ’’پاکستان میں بھی طلاق ثلاثہ پر پابندی ہے جب کہ مسلم ملک ہے اس لئے میرا مطالبہ ہےکہ ہمار ے یہاں بھی یو سی سی نافذ کیا جانا چاہئےتاکہ کسی خاتون پر ظلم نہ ہو۔‘‘
اس بحث کے دوران انوشکتی نگر سے ایم ایل اے ثناء ملک نے اس مسئلہ پر اعتراض کیا۔ انہوں نے ان خواتین کے اعداد وشمار ایوان میں پیش کئے جن پرظلم ہوا ہے ۔اس کے بعد انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ سبھی خواتین مسلم ہیں؟ نہیں بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی ہیں تو پھر اس وقت صرف مسلم کمیونٹی کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟کیا دوسرے مذاہب میں تعدد ازدواج کے واقعات نہیں ہوتے؟ لیکن اس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ صرف ایک مذہب کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟انہوں نے اس معاملے پر ہونے والی بحث پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ’’بیک وقت تین طلاق دینااسلام میں ناپسندیدہ عمل ہے اور پاکستان نے قرآن کی احکام پر عمل کیا ہے، اگر ہندوستان میں اس طرح کے احکام نافذ کئے جاتے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘دیویانی فراندے نے کہاکہ مظالم کو روکنے کیلئےتین طلاق پر پابندی کا قانون نافذ کیا ہے لیکن ریاست میں اس کا مؤثر طریقے سے نفاذ نہیں ہو رہا ہے۔
اس وقت وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ پر مرکز نےقانون بنایا ہے، ریاستی حکومت محض اس پر عمل درآمد کر رہی ہے اور متاثرہ خواتین کو انصاف دے رہی ہے۔ انہوںنے یقین دلایا کہ کوئی قانون کسی مذہب کے ماننے والوں کے خلاف نہیں بنایا جاتا بلکہ وہ سبھی کے لئے ہوتا ہے، اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت مسلمانوں کو ٹارگیٹ کر رہی ہے۔ یوگیش کدم نے یقین دلایا کہ طلاق ثلاثہ سےمتعلق قانون سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
حساس مسئلہ پر کیبن میں بات کرنی چاہئے تھا
اس حساس مسئلہ پر ایوان اسمبلی میں بحث کرنے سے متعلق اپوزیشن میں شامل این سی پی (شرد) کے سینئر لیڈر و سابق وزیر جینت پاٹل نے کہاکہ ’’اسپیکر کو اس طرح کے حساس مسئلہ پر بحث کرانے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ جب یہ تجویز قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو پیش کی گئی تھی اسی وقت انہیں متعلقہ رکن اسمبلی اور وزیر کو بلواکر بات چیت کرنی چاہئے تھی اور اسے مسترد کر دینا چاہئے تھا۔یہ حساس مسئلہ ہے اور اس سے ماحول کشیدہ ہو سکتا ہے، اس لئے اس طرح کے موضوع پر بحث کرنے سے گریز کرناچاہئے تھا۔‘‘