Inquilab Logo Happiest Places to Work

منموہن نے کیوں کہا تھا کہ ’’میں خود کشی کرلوں گا‘‘

Updated: July 15, 2026, 10:25 AM IST | New Delhi

قریشی نے بتایا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یقین دلایا کہ اگر انہیں وزرا کے بیانات کا علم ہوتا تو وہ انہیں سختی سے روکتے، اور کہا کہ’’الیکشن کمیشن ہماری جمہوریت کی روح ہے، اسے کمزور نہیں ہونے دیا جا سکتا۔‘‘

Manmohan Singh. Photo: INN
منموہن سنگھ۔ تصویر: آئی این این

نئی دہلی (ایجنسی):سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اپنی نئی کتاب ’’انڈیا اینڈ آئی:ہنڈریڈ میموریز، ناٹ اے میموئر‘‘  میں الیکشن کمیشن  اوراس کی خود مختاری  کے تئیں  سابق وزیراعظم  کے احترام کا حوالہ دیتے ہوئے  انکشاف کیا ہے کہ ۲۰۱۲ء میں الیکشن کمیشن پر وزراء کے بیانات پر جب انہوں  نے   ناراضی ظاہر کی اور یہ پیغام  اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ تک پہنچایا تو انہوں  نے  انہیں فوراً ملاقات کیلئے  بلالیا تھا۔ قریشی کے مطابق ڈاکٹر سنگھ نے  انتہائی جذباتی تھے ۔انہوں نے کہاکہ’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں ایسا ہونے دے رہا ہوں تو میں خودکشی کر لوں گا۔‘‘

قریشی نے بتایا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یقین دلایا کہ اگر انہیں وزرا کے بیانات کا علم ہوتا تو وہ انہیں سختی سے روکتے، اور کہا کہ’’الیکشن کمیشن ہماری جمہوریت کی روح ہے، اسے کمزور نہیں ہونے دیا جا سکتا۔‘‘

وزیراعظم  سے قریشی کی اس ملاقات  کے بعد الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات کا سلسلہ رک گیا تھا۔ایس وائی قریشی کے مطابق یہ معاملہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران اس وقت شروع ہوا جب کانگریس کے لیڈر سلمان خورشید نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو مسلمانوں کیلئےملازمتوں میں ریزرویشن۴ء۵؍ فیصد سے بڑھا کر۹؍ فیصد کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: وانگ چک کی حالت ابتر، چوطرفہ حمایت

بی جے پی نے اسے  انتخابی ضابطہ ٔ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے شکایت کی۔  قریشی  کے مطابق کہ بی جے پی اور کانگریس کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے سلمان خورشید کی سرزنش کی، جو ضابطۂ اخلاق کے تحت ممکنہ سخت ترین کارروائی تھی۔اس فیصلے کے  کانگریس کے بعض حلقوں نے سرعام  الیکشن کمیشن  پرتنقید کی اوراس کے عمل کو ’’من مانی‘‘قرار دیاہے۔قریشی نے  کے مطابق ان کی ذات پر کی گئی تنقید سے انہیں کبھی مسئلہ نہیں رہا، لیکن  ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی تنقیدیںناقابل قبول تھیں۔ اسی لئے انہوں نے اس وقت وزیر اعظم کے پریس سیکریٹری ہریش کھرے سے اپنی شکایت کی اور کہا کہ یہ معاملہ وزیر اعظم کے علم میں لایا جائے۔قریشی کے مطابق اگلے ہی دن وزیر اعظم کے دفتر سے انہیں فوری ملاقات کیلئےفون آیا۔ شام ۷؍بجے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نہایت رنجیدہ لہجے میں کہاکہ’’اگر آپ واقعی ایسا سوچتے ہیں تو میں خودکشی کر لوں گا۔‘‘قریشی نے لکھا کہ وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کیونکہ ان کی شکایت وزیر اعظم کے خلاف نہیں بلکہ چند وزرا کے رویے کے بارے میں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چند منٹ بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہاکہ’’مجھے اس بارے میں بالکل علم نہیں تھا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں انہیں سخت ڈانٹتا۔ آئندہ اگر کوئی بات ہو تو براہِ راست مجھے فون کیجیے۔‘‘ قریشی کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس  وقت کہاتھا کہ ’’الیکشن کمیشن صرف  ہندوستان کیلئے باعث افتخار  ہی نہیں ، ہماری جمہوریت کی روح ہے۔ اگر ہم اسے کھو دیں تو ہم سب کچھ کھو دیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK